طاقت کی برتری کا قانون

بھارت اگر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو در اصل وہ جمہوری اصولوں، جمہوری قدروں کی نفی کرتا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

لاہور:
بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ ''کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ ہے'' ہم اس مسئلے میں نہ کسی کو مداخلت کی اجازت دیں گے نہ کسی کی ثالثی قبول کریں گے۔ بھارتی وزیر خارجہ کا یہ موقف نیا نہیں ہے بلکہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی 68 سالہ پالیسیوں ہی کا تسلسل ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ کشمیر بھارت کا کبھی داخلی مسئلہ نہیں رہا ، بلکہ اپنی پوری تاریخ میں یہ ایک متنازعہ اور عالمی مسئلہ رہا۔ اقوام متحدہ اس مسئلے کی ایک فریق ہے۔

بد قسمتی یہ ہے کہ اس مسئلے کو ہمیشہ بھارت کشمیری عوام اور پاکستان ہی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا، حالانکہ اس مسئلے کا تعلق کئی اہم اصولوں اور عوام کے اجتماعی مفادات سے ہے۔ اس حوالے سے ہمارے سامنے جو پہلا سوال آتا ہے وہ یہ ہے کہ اس مسئلے کی نوعیت کیا ہے! اس سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ یہ مسئلے بنیادی طور پر طاقت کی برتری کا مسئلہ ہے ۔ہندوستان کی 7،8 لاکھ فوج کشمیر میں موجود ہے جس کے ذریعے بھارت کشمیر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہاہے لیکن 68 سالوں کے دوران بھارت اپنی ان کوششوں میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ویسے ویسے کشمیر میں بھارت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہورہا ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ سری نگر سمیت کشمیر کے کئی علاقوں میں پاکستانی پرچم لہرائے جارہے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔ یہ اس دیرینہ مسئلے کے حوالے سے ایک ایسی جوہری تبدیلی ہے جو اس مسئلے کی سنگینی میں اور اضافہ کرے گی۔ مہذب دنیا نے طاقت کی برتری کے اصول کو جنگل کے قانون کا نام دے کر مسترد کردیا ہے۔

اس مسئلے کے حل کا اقوام متحدہ نے جو طریقہ بتایا ہے۔ وہ جمہوری ہے یعنی کشمیر کے عوام کی رائے سے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے اور جمہوریت کی اساس رائے عامہ ہے، بھارت اگر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو در اصل وہ جمہوری اصولوں، جمہوری قدروں کی نفی کرتا ہے، کشمیر کے مسئلے کو بعض حلقوں کی جانب سے مذہبی حوالے سے دیکھا جاتا ہے، یہی اپروچ درست نہیں یہ مسئلہ مذہبی نہیں ہے نہ اس مسئلے کو مذہبی عینک لگاکر دیکھنا چاہیے کیوں کہ اس رجحان کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں مذہبی شدت پسندی ہی کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس مسئلے کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

اس مسئلے کی بنیادی نوعیت طاقت کی برتری ہے۔ اس کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت اپنی 7،6 لاکھ فوج کی مدد سے کشمیر پر قابض ہے،کشمیری عوام کی رضا اور خوشی سے نہیں، بھارتی حکمران کشمیر میں جمہوری قدروں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کشمیر میں بھارت نے کئی بار انتخابات کرائے جن میں کشمیری عوام نے بھرپور حصہ لیا، بلا شبہ بھارت کشمیر میں انتخابات کرتا رہا ہے اور کشمیری عوام اس میں حصہ بھی لیتے رہتے ہیں لیکن جو انتخابات 7،6 لاکھ بھارتی فوج کی نگرانی میں ہوں گے، اسے آزادانہ انتخابات نہیں کہا جاسکتا اگر بھارت اپنے اس دعوے میں سچا ہے کہ کشمیری عوام اس کے ساتھ ہیں تو پھر اسے کشمیر میں رائے شماری کے اقوام متحدہ کے فیصلے پر عمل در آمد کرنا چاہیے تاکہ اس کے دعوے کی تصدیق ہوجائے اور یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے۔

طاقت کی برتری کو مہذب دنیا نے جنگل کے قانون کا نام دیا ہے۔ پاکستان اس مسئلے کا ایک اہم فریق ہے۔ پاکستان ایک کمزور فریق ہے اور بھارت ایک طاقت فریق ہے اگر پاکستان فوجی اور اقتصادی طاقت کے حوالے سے بھارت کا ہم پلہ ہوتا تو نہ کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوتا نہ طاقت کی برتری کا اصول کشمیر میں اپلائی ہوتا۔


طاقت کی برتری کے اصول کی پیوندکاری کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت چین سے اپنے سرحدی تنازعات جمہوری اصولوں کے مطابق حل نہیں کرا پارہا ہے، یہی نہیں بلکہ ساری دنیا کشمیر میں طاقت کی برتری کے اصول کے خلاف ہے اگرچہ بین الاقوامی دنیا اپنے سیاسی مفادات کے پیش نظر کھل کر بھارت کے موقف کی مخالفت نہیں کر پاتی لیکن اخلاقی طور پر وہ بھارت کے طاقت کی برتری کے اصول کے خلاف ہے۔

اس حوالے سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ بھارت کشمیر کے مسئلے کو ہمیشہ اپنے نام نہاد قومی مفادات کی عینک لگاکر ہی دیکھتا آرہا ہے حالانکہ اس مسئلے کی وجہ سے برصغیر کے عوام ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے عوام شدید معاشی بد حالی کے شکار ہیں۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ ایشیا کی نئی سپر پاور ہے اگر بھارت ایشیا کی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کی پہلی ذمے داری یہ بنتی ہے کہ وہ ایشیا و خاص طور پر جنوبی ایشیا کے عوام کی خوش حالی اور بہتر مستقبل کے لیے قدم بڑھائے جب کہ اس کی راہ میں کشمیر ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

بھارت کی ویسے تو تمام حکومتیں ہی ''کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے'' کی پالیسی پر کار بند ہیں لیکن نریندر مودی کی مذہبی انتہا پسند حکومت ماضی کی بھارت حکومتوں سے آگے جاتے ہوئے بھارتی آئین سے اس شق کو ہی نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی ہے اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کشمیر کے حوالے سے بھارت کی پالیسی کیا ہوگی، بلا شبہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان بہت کمزور ملک ہے لیکن دنیا میں کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو اپنے سے طاقت ور ملکوں سے اپنے جائز اور منصفانہ موقف منوانے میں کامیاب رہے ہیں ۔اس حوالے سے سب سے بڑی مثال ویتنام کی ہے، امریکا جیسی عالمی طاقت کے مقابلے میں ویتنام جیسی چھوٹی طاقت اپنی قیادت کی موثر حکمت عملی کی وجہ سے سرخرو رہی۔

بد قسمتی سے ہماری قیادت ہمارا حکمران طبقہ اس قسم کی اہلیت سے عاری ہے، ایران کی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ دنیا کی 6 بڑی طاقتوں کے مقابلے میں عشروں سے ڈٹا رہنے والا ایران جوہری مسئلے پر ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب رہا جو اس کے قومی مفادات سے ہم آہنگ ہے۔

ہماری قیادت کا المیہ یہ ہے کہ اس کا تمام تر زور اس بات پر رہتا ہے کہ کسی ممکنہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو شامل کیا جائے، خواہ اس حوالے سے مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی پیش رفت ہو یا نہ ہو، ابھی حال میں روس کے شہر اوفا میں ہونے والی شنگھائی کانفرنس کے دوران جب بھارتی وزیراعظم پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات پر راضی ہوئے تو ان کی پہلی شرط یہ تھی کہ ملاقات میں کشمیر کا سرے سے ذکر بھی نہ ہو اور ہماری بہادر اور دانشور قیادت نے اس شرط کو تسلیم کرکے اس ملاقات کو برصغیر کے اہم ترین مسئلے کو پس پشت ڈال دیا ۔

ہم نے بارہا ان ہی کالموں میں ذکر کیا ہے کہ اگر کشمیر پاکستان میں شامل بھی ہوتا ہے تو کشمیریوں کو جنت نہیں مل جائے گی بلکہ امکان یہ ہے کہ وہ مزید مسائل کا شکار ہوجائیں گے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اس مسئلے نے پورے جنوبی ایشیا کے اربوں غریب عوام کے مستقبل کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ بھارت کے تعصب اور تنگ نظر حکمرانوں کو کشمیر کے حوالے سے صرف اپنے قومی مفادات ہی کی فکر نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے غریب عوام کی فکر ہونی چاہیے کیا ایک مذہبی انتہا پسند حکومت سے اس قسم کی توقع کی جاسکتی ہے؟
Load Next Story