کراچی آپریشن مثبت و منفی اثرات

کراچی میں رینجرز نے دوبارہ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارااور متعدد کارکن گرفتار ہوئے۔

tauceeph@gmail.com

کراچی میں رینجرز نے دوبارہ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارااور متعدد کارکن گرفتار ہوئے۔ رینجرز کے ترجمان نے گرفتار ہونے والے افراد پر نفرت آمیز تقریر سننے اور تقریر سننے والوں کو سہولت فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے لندن میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے سامنے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا۔ سندھ حکومت نے سندھ میں رینجرز کے قیام میں ایک سال کی توسیع کردی۔ کراچی میں رمضان کے آخری عشرے میں کمال کی گہما گہمی رہی۔ کہا جاتا ہے کہ 170 ارب روپے کا کاروبار ہوا۔

کراچی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن تمام سیاسی جماعتوں کی ایماء پر شروع کیا گیا تھا۔اس آپریشن کا بنیادی مقصد طالبان کی سرگرمیوں کا قلع قمع کرنا، لیاری میں کئی برسوں سے جاری گینگ وار کا خاتمہ ،شہر میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ، بھتے کی پرچیاں تقسیم کرنے والوں اور اغواء برائے تاوان کے ذمے دار افراد کا خاتمہ کرنا تھا۔ رینجرز اور پولیس نے اپنے ان اہداف کے حصول کے لیے خاصے جرات مند اقدامات کیے۔ بہت سے گروہ ختم ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس آپریشن کے دوران اب تک 700 سے زائد افراد مارے گئے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر طالبان نیٹ ورک سے منسلک تھے۔

اس آپریشن کے نتیجے میں بینکوں کو لوٹنے کی وارداتیں بھی کم ہوگئیں۔ اسی طرح اغواء برائے تاوان کے جرم میں ملوث کئی گروہوں کے ارکان مقابلوں میں مارے گئے۔ لیاری میںبھی اسی طرح کے آپریشن میں بہت سے ملزمان مارے گئے مگر لیاری میں گینگ وار کے اہم افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ایک گروہ کا سربراہ عزیر بلوچ دبئی جا پہنچا۔

وہاں دبئی کے کسی قانون کی خلاف ورزی کی بناء پر گرفتار ہوگیا۔ حکومتِ سندھ نے عزیر بلوچ کو گرفتار کرکے واپس لانے کے لیے پولیس کی کئی ٹیمیں دبئی بھیجیں لیکن سندھ حکومت اپنے مقصد میں ناکام رہی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کے ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل میں پھانسی پانے والے ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا کے وڈیو بیان کی طرح عزیر بلوچ بھی ایسا ہی اقبالی بیان دے چکے ہیں اور یہ بیان جلد ہی میڈیا کی خبروں کی زینت بنے گا۔ رینجرز نے شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کے لیے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔ کئی کارکن اس آپریشن میں نامعلوم صورتحال کا شکار ہو کر ہلاک ہوگئے۔

اسی طرح سنی تحریک، پاسبان اور دیگر دائیں بازو کی تنظیموں کے دفاتر پر بھی چھاپے مارے گئے۔ ان تنظیموں سے متعلق کریمنل ریکارڈ رکھنے والے کارکن گرفتار ہوئے۔ رینجرز نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور محکمہ فشریز کے دفاتر پر چھاپے مارے۔ ایف آئی اے نے بہت سے افسروں کے خلاف مقدمات قائم کیے۔


کئی شعبوں کے سربراہ ملک سے باہر چلے گئے ۔ انسانی حقوق کے ارتقاء کا مطالعہ کرنے والے طالب علموں کا کہنا ہے کہ برطانوی ہند حکومت میں حکومت اور اس کے اداروں کے بارے میں منفی تقاریر کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔ تحریکِ آزادی کے رہنماؤں مولانا محمد علی جوہر، مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد ،مولانا حسرت موہانی اور غفارخان وغیرہ نے اپنی عمر کا خاصا حصہ جیلوں میں گزارا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی حکومت مخالف تقاریر کرنا جرم سمجھا جاتا رہا۔

غفار خان، میر غوث بخش بزنجو، ولی خان، مولانا بھاشانی،شیخ مجیب الرحمن،جی ایم سید، مولانا مودودی، ذوالفقار علی بھٹو، معراج محمد خان اور نوابزادہ نصر اﷲ خان وغیرہ نے اپنی تقریروں کی بناء پر برسوں قیدوبند کی صہوبتیں برداشت کیں مگر سرد جنگ کے خاتمے اور 1973ء کے آئین کے مکمل نفاذ کے بعد آزادئ اظہار پر عائد تمام پابندیاں تحلیل ہوگئیں۔ کسی سیاسی رہنما کے خلاف تقریر کرنے اور کسی فرد یا گروہ کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوا اور اگر کسی فرد کی نفرت آمیز تقریر پر کوئی مقدمہ درج ہوا بھی تو پہلے معاملہ عدالت میں بھیجا گیا۔

اب کراچی آپریشن میں اس طرح کے الزامات پر گرفتاریوں سے عوام کے ایک بڑے حصے میں منفی اثرات پیدا ہونے کے امکانات واضح ہو گئے ہیں۔ پھر کچھ نئے سوالات بھی ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔ کچھ مبصرین یہ کہتے ہیں کہ سب کچھ شہر میں متوقع بلدیاتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے ہورہا ہے۔ کچھ کو خدشہ ہے کہ شاید یہ انتخابات نہ ہوں۔ اس آپریشن کے مثبت نتائج رمضان المبارک کے آخری عشرے میں سامنے آئے۔

اگرچہ رمضان کا پہلا عشرہ شدید لو، بجلی اور پانی کی کمی کی بناء پر سخت مشکل میں گزرا تھا۔ ڈیڑھ ہزار کے قریب افراد کی ہلاکتوں کی بناء پر لوگ افسردہ اور مایوسی کا شکار تھے مگر رینجرز اور پولیس کے بہتر سیکیورٹی پلان کی بناء پر لوگوں کو آزادی سے خریداری کرنے اور گھومنے پھرنے کے مواقعے میسر آئے۔ تجارتی ماحول کو تقویت ملی۔ بازار فجر کی نماز کے وقت تک کھلے رہے۔ لاکھوں مرد و خواتین سکون کے ساتھ عید کے لیے خریداری میں مصروف رہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق 70 ارب روپے کی خریداری ہوئی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اور رینجرز حکام کے درمیان سرد مہری کم ہوئی۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ نے رینجرز کے قیام میں ایک سال کی توسیع کردی۔ سندھ پولیس اور بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے شوع ہوگئے ۔ا سی طرح سندھ حکومت کا پہلی دفعہ اچھی طرزِ حکومت کو اہمیت دینے کا احساس کا اظہار ہوا مگر اس آپریشن کے دوران سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں اور ان کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کی اطلاعات سے اس آپریشن کے بارے میں منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اس آپریشن کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں اور تمام اقدامات آئین اور قوانین کے تابع ہونے کو یقینی بنائیں تو ہر سطح پر اس آپریشن کی پذیرائی ہوگی اور عوام کا اداروں پر اعتماد بڑھے گا۔
Load Next Story