قومی ہاکی ٹیم کی شکست کے بعد لکیر پیٹنے کا سلسلہ جاری

دانش کلیم اور سینئر صحافی فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے

دانش کلیم اور سینئر صحافی فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ فوٹو : فائل

قومی ہاکی ٹیم کی ناکامیوں کے بعد لکیر پیٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔

پی ایچ ایف فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی کی تحقیقات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا، لاہور میں گذشتہ روز کوچ دانش کلیم کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے جس کے بعد نمائندہ ایکسپریس میاں اصغر سلیمی سمیت اسپورٹس سے وابستہ صحافیوں کی تجاویز بھی لی گئیں،کمیٹی کے اراکین اب اگلے راؤنڈ میں اسلام آباد جاکر میڈیاکی رائے جانیں گے، شاہد علی خان کے مطابق 80فیصد کام مکمل کر لیا، بہت جلد رپورٹ پی ایچ ایف حکام کو پیش کر دی جائے گی۔


تفصیلات کے مطابق ہاکی فیڈریشن کی تحقیقاتی کمیٹی نے لاہور میں میٹنگز مکمل کر لیں،گذشتہ روز کوچ دانش کلیم کی پیشی ہوئی، بعد ازاں اسپورٹس سے وابستہ سینئر صحافیوں نے بھی کمیٹی کے روبرو قومی کھیل کو موجودہ بحران سے نکالنے کے حوالے سے تجاویز دیں،اجلاس میں روزنامہ ''ایکسپریس'' کے سینئر اسپورٹس رپورٹر میاں اصغر سلیمی بھی پیش ہوئے، دیگرصحافیوں میں ''ایکسپریس نیوز'' کے محمد یوسف انجم، سید علی ہاشمی، سہیل عمران، محمد یعقوب، اعجاز شیخ، چوہدری اشرف، رفیق خان، شہزاد ملک اور ادریس ملک شامل تھے۔

صحافیوں نے ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی شرمناک کارکردگی کا ذمہ دار پلیئرز کے ساتھ مینجمنٹ، کوچز، سلیکٹرز، پی ایچ ایف عہدیدار اور حکومت کو بھی ٹھہرایا،ان کا کہنا تھا کہ جب کسی جگہ تباہی آئے تو ذمہ دار ایک نہیں بہت سے عوامل ہوتے ہیں۔صحافیوں نے قومی کھیل کو قومی نصاب میں شامل کرنے، بجلی کے بلوں پر5 روپے ہاکی ٹیکس عائد کرنے، ریجنل اکیڈمیزکیساتھ نیشنل اکیڈمی بنانے، پی ایچ ایف میں مارکیٹنگ شعبے کے قیام اور کھلاڑیوں کیلیے باعزت روزگار کی فراہمی سمیت متعدد اہم تجاویز دیں۔

کمیٹی کا اگلا اجلاس اسلام آباد میں ہوگا جس میں سینئر صحافیوں کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائیگا۔آخری مرحلے میں کمیٹی کے ارکان شاہد علی خان، محمد اخلاق اور منصور احمد کراچی میں ویڈیو اینالسٹ ابوذر امراؤ اور کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے بیانات قلمبند کرینگے۔ ادھر فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی کے رکن شاہد علی خان کا کہنا ہے کہ ہم نے80فیصد تحقیقات مکمل کر لی ہیں، بہت جلد رپورٹ پی ایچ ایف حکام کو پیش کر دی جائیگی۔
Load Next Story