محکمہ لائیو اسٹاک پنجاب نے پالیسی پیپرز کا ڈرافٹ تیار کرلیا

ویب سائٹ پر لوڈ کردیاگیا، خواتین کی ترقی کیلیے وومن ڈیولپمنٹ انڈومنٹ فنڈ قائم کرنیکا فیصلہ

خواتین کی ترقی کیلیے وومن ڈیولپمنٹ انڈومنٹ فنڈ قائم کرنیکا فیصلہ۔ فوٹو: فائل

محکمہ لائیواسٹاک پنجاب نے شعبے کی ترقی کے لیے لائیواسٹاک پالیسی ''دی پالیسی پیپرز'' تیار کرلی جس کو جامع اورمؤثر بنانے کے لیے دی پالیسی پیپرز کا ڈرافٹ لائیواسٹاک کی ویب سائٹ پراپ لوڈ کردیا گیا۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے ویمن ڈیولپمنٹ راشدہ یعقوب شیخ نے خواتین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ پالیسی میں دودھ، گوشت کی پیدواربڑھانے اورمویشی پال حضرات کی آمدن میں اضافے کے لیے تمام امورزیربحث لائے گئے ہیں، علاوہ ازیں خواتین کی ترقی کیلیے وومن ڈیولپمنٹ انڈومنٹ فنڈقائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے دیہات میں رہنے والی خواتین کو معاشی طو رپر خوشحال بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن پر 2014-15 میں گندم کے 10لاکھ 56ہزار بیگ کی خریداری کا ہدف مقرر کیا گیا جبکہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال چنے کے بیج کی خریداری کے ہدف میں3گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2015-16 میں دھان کے معیاری اور تصدیق شدہ بیج کی تیاری کا 75ہزار 500من کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سال 20ہزار من مونگ کا معیاری اور تصدیق شدہ بیج بھی تیار کر کے کاشتکاروں کو فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دیہی آبادی کو نظرانداز کیا گیامگر اب وسائل کا رخ دیہی آبادی کی جانب موڑ رہے ہیں۔


انہوں نے کہاکہ دالیں پھلی دار اجناس کے خاندان سے تعلق رکھنے کے ناطے ہوا سے نائٹروجن حاصل کر کے جڑوں پر موجود منکوں کے ذریعے زمین میں داخل کر کے پودوں کے لیے دستیاب نائٹروجن بناتی ہیں اور زمین کی زرخیزی کو بحال رکھتی ہیں۔دوسری فصلوں کی طرح دالوں کی پیداوار میں اضافہ ان کے زیر کاشت رقبے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافے سے ہی ممکن ہے۔ چنا، مسور،مونگ اور ماش صوبے میں کاشت کی جانے والی اہم دالیں ہیں۔ تا ہم مونگ کے علاوہ چنا، مسوراور ماش کی ملکی ضروریات درآمد سے پوری کی جاتی ہیں۔ اگر کاشتکاروں کو نئی اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی کاشت اور نئی پیداواری ٹیکنالوجی اپنا کر دالوں کی مجموعی پیداوارمیں اضافے پر آمادہ کر لیں تو دالوں کی درآمد پر کیا جانے والا کثیر مقدار کا زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سبزیوں اور تیلدار اجناس کی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کے حصول کے لیے زرعی سائنسدانوں کو تمام سہولتیں فراہم کریں گے تاکہ سبزیوں اور خوردنی تیل کی درآمد پر انحصار کم کرکے خودکفالت کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ لائیواسٹاک اور زراعت میں خواتین کے نمایاں کردار سے ملکی معیشت پھولے گی اور دیہات میں رہنے والوں کی تقدیر بدل دے گی۔ ملک میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان میں ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک شاندار دور کا آغاز ہو گا۔ لائیواسٹاک اور زراعت باہم منسلک شعبے ہیں ان کی ترقی کے لیے سڑکوں کی تعمیر بہت ضروری ہے جس کیلیے 150ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ ان سڑکوں کی تعمیر سے زرعی اجناس اور جانوروں کو مارکیٹ تک لانے کیلیے کسانوں کوسہولت دستیاب ہوگی۔
Load Next Story