سو سال سے جاری جنگ قسط دہم
پہلی عالمی جنگ آخری لڑائی تھی جو اس قدیم قبائلی اصول پے لڑی گئی کہ جو جس کے قبضے میں آگیا
گذشتہ نو قسطوں میں بیان کردہ داستان کے سبب آپ میں سے بہت سوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ سو برس پرانے قصے کو دھرانے سے کیا حاصل۔مگر جو قصہ آج تک جاری ہو وہ پرانا کیسے ہو سکتا ہے۔
یہ پہلی عالمی جنگ ہی تو تھی جس نے اپنے حال میں مست اور دو براعظموں( شمالی اور جنوبی امریکا )کے علاقائی معاملات کے کنٹرول پر قانع ریاستہائے متحدہ امریکا کو احساس دلایا کہ اس میں بیسویں صدی کی سپر پاور بننے کے تمام تر اجزائے ترکیبی موجود ہیں۔برطانیہ اور فرانس بوڑھے ہوچکے ہیں اور انھیں اب جواں سال امریکا کی ضرورت ہوگی۔چنانچہ عالمی جنگ نے یورپی جنگی محاذ پر نئی امریکی طاقت کو متعارف کرا کے اس توازن کی بنیاد رکھی جس کا محور آج بھی امریکا ہے۔
پہلی عالمی جنگ نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ثالثی کا کوئی بین الاقوامی تسلیم شدہ پلیٹ فارم نہ ہو تو دو ہاتھیوں کے ٹکراؤ کو روکنے کے لیے کوئی رکاوٹ کام نہیں کرتی۔ چنانچہ پہلی بار لیگ آف نیشن کی شکل میں عالمی برادری کا خام تصور ابھرا۔اگرچہ لیگ فاتح طاقتوں ( برطانیہ ، فرانس ، اٹلی ، امریکا ) کے کلب کے طور پر ابھری اور صرف پندرہ برس تک ہی موثر رہی لیکن اس کی ناکامیوں کے ملبے پر دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی عمارت کھڑی ہوئی۔بہت سی کمزوریوں اور متعدد سفارتی زلزلوں کے باوجوداقوامِ متحدہ آج تک قائم و دائم ہے۔
پہلی عالمی جنگ آخری لڑائی تھی جو اس قدیم قبائلی اصول پے لڑی گئی کہ جو جس کے قبضے میں آگیا وہ اسی کا ہے۔چنانچہ مفتوحین نے صرف بیس برس بعد دوسری عالمی جنگ شروع کرکے فاتحین کا انتقام انھی پر لوٹا دیا۔اس کے بعد دنیا نے کسی حد تک یہ سیکھا کہ کسی کو شکست دینے کا یہ مطلب نہیں کہ گلا ہی گھونٹ دیا جائے ( جیسا کہ جرمنی اور ترکی کے ساتھ بعد از جنگ فاتحین نے کیا )۔
بلکہ شکست خوردہ ریاستوں کو بھی دوبارہ سے عالمی برادری کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے ورنہ دنیا کبھی بھی ایک بڑی جنگ کے گرداب سے نہیں نکل پائے گی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کی دنیا میں جنگوں میں فتح و شکست کے باوجود فاتح مفتوح کو اپنا حصہ نہیں بناتا صرف کمزور کرتا ہے اور محدود مقاصد کے حصول کے بعد لوٹ جاتا ہے ( جیسے سوویت یونین افغانستان سے اور امریکا عراق اور افغانستان سے واپس ہوا )۔
پہلی عالمی جنگ مرکنٹائل ازم سے جنم لینے والے سرمایہ دارانہ نظام کے لیے پہلا بڑا جھٹکا تھا۔جب منڈی ہی اپنے ہاتھوں برباد ہوگئی تو چیزیں کہاں اور کسے بیچی جائیں۔ چنانچہ انیس سو اٹھائیس - انتیس میں امریکی اسٹاک ایکسچینج بتدریج بیٹھنے سے گریٹ کریش شروع ہوا جس نے پھیلتے پھیلتے پہلے سے ادھ موئے یورپ اور پھر نوآبادیات کو لپیٹ میں لے لیا۔اس مصیبت نے نازیوں کی مقبولیت تباہ حال بے روزگار جرمنوں میں اور بڑھا دی۔
فاتح طاقتیں جنگ میں کامیابی کے باوجود اقتصادی طور پر اتنی لاغر ہوگئیں کہ انھیں اپنے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیے عوامی لنگر کھولنے پڑے لہذا انھوں نے جرمنی میں نازیت کے فروغ کو چیک کرنے کے بجائے ریت میں سر دبانے میں ہی عافیت جانی۔یوں گریٹ ڈیپریشن دوسری عالمی جنگ کا انوی ٹیشن کارڈ ثابت ہوا۔
پہلی عالمی جنگ نے یہ قلعی بھی کھول دی کہ انسانوں پر حکومت کا حق اشرافیہ ( ارسٹو کریسی ) کے لیے مختص ہے۔اس جنگ کے خونی سمندر میں چار بادشاہتیں ( روس، جرمنی، آسٹریا ، ترک ) ڈوب گئیں اور دو ( برطانیہ ، فرانس ) شدید زخمی ہوئیں۔پہلی بار یورپ میں مڈل کلاس نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔چونکہ تجربہ نہیں تھا لہذا مڈل کلاس فاشزم اور نازیت کی گود میں چلی گئی۔
البتہ سوویت یونین میں یہ تاریخ ساز کام ہوا کہ مڈل کلاس قیادت نے مزدوروں اور کسانوں کو ساتھ ملا کر ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی۔مگر خالص سرمایہ دارانہ نظام کے ردِ عمل میں پیدا ہونے والے ان تینوں نظاموں نے سفاکی ختم کرنے کے بجائے اسے ایک نئی شکل دی۔چنانچہ ٹرائیل اینڈ ایرر کے نتیجے میں پہلی جنگ کی کوکھ سے جنم لینے والی دوسری عالمی جنگ کے بعد لبرل ازم ، سوشل ڈیمو کریسی اور ویلفئیر اسٹیٹ کا تصور ابھرا اور آج بیشتر دنیا میں اسے ہی قابلِ قبول سکہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم عالمی جنگ کے دوران روس میں آنے والے کیمونسٹ انقلاب نے دیگر دو نظریات (فسطائیت اور نازیت)کے برعکس یہ کام کیا کہ ایک عام آدمی کو عالمی نظریاتی تضادات سمجھنے کے لیے سوچ کی نئی سیڑھی فراہم کی۔جن معاشروں میں ریڈیکل تبدیلی نہیں بھی آئی وہاں بھی عام طبقات طلبا ، مزدور ، کسان تحریکوں اور متوازی تاریخ و ادب کی نئی عینک استعمال کر کے کچھ نہ کچھ بنیادی حقوق اور مراعات حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور یہ عمل جاری ہے۔
پہلی عالمی جنگ نے پہلی بار لاکھوں خواتین کو گھر سے باہر نکالا ، انھوں نے نہ صرف اسلحہ ساز کارخانوں میں کام کیا بلکہ ذیلی دفاعی خدمات بھی مردوں کے شانہ بشانہ انجام دیں۔ چنانچہ ویمن پاور کا تصور ابھرا۔روس میں کیمونسٹ انقلاب کے بعد انیس سو سترہ میں ، جرمنی اور برطانیہ میں انیس سو اٹھارہ میں اور امریکا میں انیس سو بیس میں خواتین کو ووٹ کا حق ملا۔ آج کم و بیش دنیا بھر میں یہ حق تسلیم شدہ ہے۔خواتین کے مساوی حقوق کی تحریک جسے آج فار گرانٹڈ لیا جاتا ہے پہلی عالمی جنگ کی زنانہ آگہی کی ہی تو دین ہے۔
پہلی عالمی جنگ نے ہی ہندوستانی قوم پرستی کے اجزا ایک عام ہندوستانی تک جامع انداز میں پہنچائے۔ ہندوستانیوں نے غلامی یا جنگ کے درمیان کے بیچ کا راستہ ایجی ٹیشن کی سیاست کے ذریعے نکالا۔لیکن جب منزل قریب آئی تو ناک ، انا اور بے صبری نے کھنڈت ڈال کے آزادی کو وہ شکل دے دی جس کی خواہش دل سے کسی بھی ہندوستانی کو نہ تھی۔
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں ( فیض )۔
پہلی عالمی جنگ میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے ایک ساتھ شرکت کی لیکن صرف بیس برس بعد دوسری عالمی جنگ میں دونوں کی آنکھیں الگ الگ سمتوں میں دیکھنے لگیں اور آج تک دیکھ رہی ہیں۔
مگر پہلی جنگ کے دورس اثرات سب سے زیادہ مشرقِ وسطی نے بھگتے۔مصطفیٰ کمال کے جدید ترکی نے عثمانی ماضی اور عربوں سے قطع تعلق کرلیا۔بین الاقوامی توازن ِ طاقت الٹ جانے کے بعد عرب اب نئی سامراجی طاقتوں کے رحم و کرم پہ تھے۔فرانس اور برطانیہ نے عربوں سے کیے گئے کسی وعدے کو پورا نہیں کیا۔صرف صیہونیوں سے کیا گیا وعدہ اسرائیل کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کرنے کی شکل میں پورا ہوا۔
شام پر فرانسیسی قبضہ مینڈیٹ کی شکل میں انیس سو چھتیس تک جاری رہا۔اس دوران شام سے کاٹ کر لبنان کا ملک بنایا گیا۔اگرچہ نئے ملک میں عیسائی اکثریت تھی مگر مسلمان اور عیسائی عربوں کی سیاسی سوچ میں کوئی بنیادی فرق نہیں تھا۔پہلے لبنانی صدارتی انتخابات میں عیسائیوں کی اکثریت تریپولی کے مفتی شیخ محمد الجسر کو ووٹ دینا چاہتی تھی۔تاہم فرانسیسی نوآبادیاتی انتظامیہ نے صدارتی انتخابات ملتوی کردیے۔اس کے بعد یہ فارمولا وضع کیا گیا کہ صدر عیسائی ، وزیرِ اعظم سنی اور اسپیکر شیعہ مسلمان ہوگا۔یوں لبنان میں فرقہ واریت کا بیج بویا گیا اور پہلے انیس سو اٹھاون میں اور پھر انیس سو پچھتر میں لبنان خانہ جنگی کے شعلوں میں جل گیا۔
جب کہ فرانسیسی مقبوضہ شام میں حلب اور دمشق کو سنی ذیلی ریاستوں میں اور انطاکیہ و اسکندرونہ کو عرب عیسائی ذیلی ریاست میں تبدیل کر دیا گیا۔بعد میں انطاکیہ و اسکندرونہ ترکی کو دے دیے گئے۔شام کے ایک خطے کو علوی اور ایک کو دروز ذیلی ریاست کا درجہ بھی دیا گیا۔یوں فرقہ واریت کا وہ نظام قائم ہوا جس کے سبب شام کی آج یہ حالت ہے کہ یا تو وہاں مرنے والے پائے جاتے ہیں یا پھر طرح طرح کے مارنے والے۔
سابق ترک ولائیت بغداد و موصل ، غربِ اردن اور نجد و حجاز کی نئی حد بندی کے نتیجے میں عراق ، اردن ، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی شکل میں جو انتظامی علاقے وجود میں آئے ان میں برطانیہ نے دیگرنوآبادیات ( ہندوستان ) کے برعکس جمہوری تجربات کی حوصلہ افزائی سے گریز کیا۔عربوں کے لیے بس یہ تبدیلی آئی کہ وہ ایک سامراجی طاقت ( ترکی ) کے قبضے سے نکل کر دوسری سامراجی طاقت ( برطانیہ و فرانس ) کے قبضے میں آنے کے بعد تیسری سامراجی طاقت ( مقامی مطلق العنان شاہ اور ڈکٹیٹرز )کے ہاتھوں میں آ گئے اور نیا داروغہ امریکا بن گیا۔سو برس سے پڑی زنجیریں اتنی مضبوط ہیں کہ سن پچاس اور ساٹھ کی عرب قوم پرست تحریک اور اکیسویں صدی کی عرب اسپرنگ بھی اسے بہت زیادہ ڈھیلا نہیں کرپائی۔
افریقہ میں مقامی آبادی کو خاطر میں لائے بغیر نقشے پر اسکیل رکھ کے نوآبادیاتی طاقتوں نے سرحدی لکیریں کچھ اس طرح کھینچیں کہ آج لگ بھگ ہر افریقی ملک کا دوسرے کے علاقے پر دعویٰ ہے۔( یہی عمل برِصغیر میں بھی دھرایا گیا ) اور جب فزیکل قبضہ برقرار رکھنے کی تاب نہ رہی تونوآبادیاتی طاقتوں نے زمامِ انتظام ان کے ہاتھ میں دے دی جنھیں ریموٹ کنٹرول کے تحت رکھا جاسکے۔ان حالات میں کوئی کیسے کہے کہ پہلی عالمی جنگ انیس سو اٹھارہ میں ختم ہوگئی۔وہ تو ایک سو ایک برس بعد بھی جاری ہے۔( فی الحال داستان ختم )۔
( اس سلسلے کی تیاری میں الجزیرہ نیٹ ورک کی سیریز '' ورلڈ وار ون تھرو عرب آئیز ''، جنگ میں ہندوستانیوں کی شرکت سے متعلق انٹرنیٹ پر دستیاب تحقیقی مقالوں ، مضامین اور ذاتی مطالعے پر مبنی یادداشتوں سے مدد لی گئی )۔
یہ پہلی عالمی جنگ ہی تو تھی جس نے اپنے حال میں مست اور دو براعظموں( شمالی اور جنوبی امریکا )کے علاقائی معاملات کے کنٹرول پر قانع ریاستہائے متحدہ امریکا کو احساس دلایا کہ اس میں بیسویں صدی کی سپر پاور بننے کے تمام تر اجزائے ترکیبی موجود ہیں۔برطانیہ اور فرانس بوڑھے ہوچکے ہیں اور انھیں اب جواں سال امریکا کی ضرورت ہوگی۔چنانچہ عالمی جنگ نے یورپی جنگی محاذ پر نئی امریکی طاقت کو متعارف کرا کے اس توازن کی بنیاد رکھی جس کا محور آج بھی امریکا ہے۔
پہلی عالمی جنگ نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ثالثی کا کوئی بین الاقوامی تسلیم شدہ پلیٹ فارم نہ ہو تو دو ہاتھیوں کے ٹکراؤ کو روکنے کے لیے کوئی رکاوٹ کام نہیں کرتی۔ چنانچہ پہلی بار لیگ آف نیشن کی شکل میں عالمی برادری کا خام تصور ابھرا۔اگرچہ لیگ فاتح طاقتوں ( برطانیہ ، فرانس ، اٹلی ، امریکا ) کے کلب کے طور پر ابھری اور صرف پندرہ برس تک ہی موثر رہی لیکن اس کی ناکامیوں کے ملبے پر دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی عمارت کھڑی ہوئی۔بہت سی کمزوریوں اور متعدد سفارتی زلزلوں کے باوجوداقوامِ متحدہ آج تک قائم و دائم ہے۔
پہلی عالمی جنگ آخری لڑائی تھی جو اس قدیم قبائلی اصول پے لڑی گئی کہ جو جس کے قبضے میں آگیا وہ اسی کا ہے۔چنانچہ مفتوحین نے صرف بیس برس بعد دوسری عالمی جنگ شروع کرکے فاتحین کا انتقام انھی پر لوٹا دیا۔اس کے بعد دنیا نے کسی حد تک یہ سیکھا کہ کسی کو شکست دینے کا یہ مطلب نہیں کہ گلا ہی گھونٹ دیا جائے ( جیسا کہ جرمنی اور ترکی کے ساتھ بعد از جنگ فاتحین نے کیا )۔
بلکہ شکست خوردہ ریاستوں کو بھی دوبارہ سے عالمی برادری کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے ورنہ دنیا کبھی بھی ایک بڑی جنگ کے گرداب سے نہیں نکل پائے گی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کی دنیا میں جنگوں میں فتح و شکست کے باوجود فاتح مفتوح کو اپنا حصہ نہیں بناتا صرف کمزور کرتا ہے اور محدود مقاصد کے حصول کے بعد لوٹ جاتا ہے ( جیسے سوویت یونین افغانستان سے اور امریکا عراق اور افغانستان سے واپس ہوا )۔
پہلی عالمی جنگ مرکنٹائل ازم سے جنم لینے والے سرمایہ دارانہ نظام کے لیے پہلا بڑا جھٹکا تھا۔جب منڈی ہی اپنے ہاتھوں برباد ہوگئی تو چیزیں کہاں اور کسے بیچی جائیں۔ چنانچہ انیس سو اٹھائیس - انتیس میں امریکی اسٹاک ایکسچینج بتدریج بیٹھنے سے گریٹ کریش شروع ہوا جس نے پھیلتے پھیلتے پہلے سے ادھ موئے یورپ اور پھر نوآبادیات کو لپیٹ میں لے لیا۔اس مصیبت نے نازیوں کی مقبولیت تباہ حال بے روزگار جرمنوں میں اور بڑھا دی۔
فاتح طاقتیں جنگ میں کامیابی کے باوجود اقتصادی طور پر اتنی لاغر ہوگئیں کہ انھیں اپنے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیے عوامی لنگر کھولنے پڑے لہذا انھوں نے جرمنی میں نازیت کے فروغ کو چیک کرنے کے بجائے ریت میں سر دبانے میں ہی عافیت جانی۔یوں گریٹ ڈیپریشن دوسری عالمی جنگ کا انوی ٹیشن کارڈ ثابت ہوا۔
پہلی عالمی جنگ نے یہ قلعی بھی کھول دی کہ انسانوں پر حکومت کا حق اشرافیہ ( ارسٹو کریسی ) کے لیے مختص ہے۔اس جنگ کے خونی سمندر میں چار بادشاہتیں ( روس، جرمنی، آسٹریا ، ترک ) ڈوب گئیں اور دو ( برطانیہ ، فرانس ) شدید زخمی ہوئیں۔پہلی بار یورپ میں مڈل کلاس نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔چونکہ تجربہ نہیں تھا لہذا مڈل کلاس فاشزم اور نازیت کی گود میں چلی گئی۔
البتہ سوویت یونین میں یہ تاریخ ساز کام ہوا کہ مڈل کلاس قیادت نے مزدوروں اور کسانوں کو ساتھ ملا کر ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی۔مگر خالص سرمایہ دارانہ نظام کے ردِ عمل میں پیدا ہونے والے ان تینوں نظاموں نے سفاکی ختم کرنے کے بجائے اسے ایک نئی شکل دی۔چنانچہ ٹرائیل اینڈ ایرر کے نتیجے میں پہلی جنگ کی کوکھ سے جنم لینے والی دوسری عالمی جنگ کے بعد لبرل ازم ، سوشل ڈیمو کریسی اور ویلفئیر اسٹیٹ کا تصور ابھرا اور آج بیشتر دنیا میں اسے ہی قابلِ قبول سکہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم عالمی جنگ کے دوران روس میں آنے والے کیمونسٹ انقلاب نے دیگر دو نظریات (فسطائیت اور نازیت)کے برعکس یہ کام کیا کہ ایک عام آدمی کو عالمی نظریاتی تضادات سمجھنے کے لیے سوچ کی نئی سیڑھی فراہم کی۔جن معاشروں میں ریڈیکل تبدیلی نہیں بھی آئی وہاں بھی عام طبقات طلبا ، مزدور ، کسان تحریکوں اور متوازی تاریخ و ادب کی نئی عینک استعمال کر کے کچھ نہ کچھ بنیادی حقوق اور مراعات حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور یہ عمل جاری ہے۔
پہلی عالمی جنگ نے پہلی بار لاکھوں خواتین کو گھر سے باہر نکالا ، انھوں نے نہ صرف اسلحہ ساز کارخانوں میں کام کیا بلکہ ذیلی دفاعی خدمات بھی مردوں کے شانہ بشانہ انجام دیں۔ چنانچہ ویمن پاور کا تصور ابھرا۔روس میں کیمونسٹ انقلاب کے بعد انیس سو سترہ میں ، جرمنی اور برطانیہ میں انیس سو اٹھارہ میں اور امریکا میں انیس سو بیس میں خواتین کو ووٹ کا حق ملا۔ آج کم و بیش دنیا بھر میں یہ حق تسلیم شدہ ہے۔خواتین کے مساوی حقوق کی تحریک جسے آج فار گرانٹڈ لیا جاتا ہے پہلی عالمی جنگ کی زنانہ آگہی کی ہی تو دین ہے۔
پہلی عالمی جنگ نے ہی ہندوستانی قوم پرستی کے اجزا ایک عام ہندوستانی تک جامع انداز میں پہنچائے۔ ہندوستانیوں نے غلامی یا جنگ کے درمیان کے بیچ کا راستہ ایجی ٹیشن کی سیاست کے ذریعے نکالا۔لیکن جب منزل قریب آئی تو ناک ، انا اور بے صبری نے کھنڈت ڈال کے آزادی کو وہ شکل دے دی جس کی خواہش دل سے کسی بھی ہندوستانی کو نہ تھی۔
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں ( فیض )۔
پہلی عالمی جنگ میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے ایک ساتھ شرکت کی لیکن صرف بیس برس بعد دوسری عالمی جنگ میں دونوں کی آنکھیں الگ الگ سمتوں میں دیکھنے لگیں اور آج تک دیکھ رہی ہیں۔
مگر پہلی جنگ کے دورس اثرات سب سے زیادہ مشرقِ وسطی نے بھگتے۔مصطفیٰ کمال کے جدید ترکی نے عثمانی ماضی اور عربوں سے قطع تعلق کرلیا۔بین الاقوامی توازن ِ طاقت الٹ جانے کے بعد عرب اب نئی سامراجی طاقتوں کے رحم و کرم پہ تھے۔فرانس اور برطانیہ نے عربوں سے کیے گئے کسی وعدے کو پورا نہیں کیا۔صرف صیہونیوں سے کیا گیا وعدہ اسرائیل کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کرنے کی شکل میں پورا ہوا۔
شام پر فرانسیسی قبضہ مینڈیٹ کی شکل میں انیس سو چھتیس تک جاری رہا۔اس دوران شام سے کاٹ کر لبنان کا ملک بنایا گیا۔اگرچہ نئے ملک میں عیسائی اکثریت تھی مگر مسلمان اور عیسائی عربوں کی سیاسی سوچ میں کوئی بنیادی فرق نہیں تھا۔پہلے لبنانی صدارتی انتخابات میں عیسائیوں کی اکثریت تریپولی کے مفتی شیخ محمد الجسر کو ووٹ دینا چاہتی تھی۔تاہم فرانسیسی نوآبادیاتی انتظامیہ نے صدارتی انتخابات ملتوی کردیے۔اس کے بعد یہ فارمولا وضع کیا گیا کہ صدر عیسائی ، وزیرِ اعظم سنی اور اسپیکر شیعہ مسلمان ہوگا۔یوں لبنان میں فرقہ واریت کا بیج بویا گیا اور پہلے انیس سو اٹھاون میں اور پھر انیس سو پچھتر میں لبنان خانہ جنگی کے شعلوں میں جل گیا۔
جب کہ فرانسیسی مقبوضہ شام میں حلب اور دمشق کو سنی ذیلی ریاستوں میں اور انطاکیہ و اسکندرونہ کو عرب عیسائی ذیلی ریاست میں تبدیل کر دیا گیا۔بعد میں انطاکیہ و اسکندرونہ ترکی کو دے دیے گئے۔شام کے ایک خطے کو علوی اور ایک کو دروز ذیلی ریاست کا درجہ بھی دیا گیا۔یوں فرقہ واریت کا وہ نظام قائم ہوا جس کے سبب شام کی آج یہ حالت ہے کہ یا تو وہاں مرنے والے پائے جاتے ہیں یا پھر طرح طرح کے مارنے والے۔
سابق ترک ولائیت بغداد و موصل ، غربِ اردن اور نجد و حجاز کی نئی حد بندی کے نتیجے میں عراق ، اردن ، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی شکل میں جو انتظامی علاقے وجود میں آئے ان میں برطانیہ نے دیگرنوآبادیات ( ہندوستان ) کے برعکس جمہوری تجربات کی حوصلہ افزائی سے گریز کیا۔عربوں کے لیے بس یہ تبدیلی آئی کہ وہ ایک سامراجی طاقت ( ترکی ) کے قبضے سے نکل کر دوسری سامراجی طاقت ( برطانیہ و فرانس ) کے قبضے میں آنے کے بعد تیسری سامراجی طاقت ( مقامی مطلق العنان شاہ اور ڈکٹیٹرز )کے ہاتھوں میں آ گئے اور نیا داروغہ امریکا بن گیا۔سو برس سے پڑی زنجیریں اتنی مضبوط ہیں کہ سن پچاس اور ساٹھ کی عرب قوم پرست تحریک اور اکیسویں صدی کی عرب اسپرنگ بھی اسے بہت زیادہ ڈھیلا نہیں کرپائی۔
افریقہ میں مقامی آبادی کو خاطر میں لائے بغیر نقشے پر اسکیل رکھ کے نوآبادیاتی طاقتوں نے سرحدی لکیریں کچھ اس طرح کھینچیں کہ آج لگ بھگ ہر افریقی ملک کا دوسرے کے علاقے پر دعویٰ ہے۔( یہی عمل برِصغیر میں بھی دھرایا گیا ) اور جب فزیکل قبضہ برقرار رکھنے کی تاب نہ رہی تونوآبادیاتی طاقتوں نے زمامِ انتظام ان کے ہاتھ میں دے دی جنھیں ریموٹ کنٹرول کے تحت رکھا جاسکے۔ان حالات میں کوئی کیسے کہے کہ پہلی عالمی جنگ انیس سو اٹھارہ میں ختم ہوگئی۔وہ تو ایک سو ایک برس بعد بھی جاری ہے۔( فی الحال داستان ختم )۔
( اس سلسلے کی تیاری میں الجزیرہ نیٹ ورک کی سیریز '' ورلڈ وار ون تھرو عرب آئیز ''، جنگ میں ہندوستانیوں کی شرکت سے متعلق انٹرنیٹ پر دستیاب تحقیقی مقالوں ، مضامین اور ذاتی مطالعے پر مبنی یادداشتوں سے مدد لی گئی )۔