گورداسپور حملہبھارت کا روایتی پروپیگنڈا

تینوں حملہ آور بھی مارے گئے۔ پاکستان نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے

تینوں حملہ آور بھی مارے گئے۔ پاکستان نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے، فوٹو: اے ایف پی

KARACHI:
بھارتی پنجاب کے پاکستانی پنجاب کی سرحد سے متصل ضلع گورداسپور میں پیر کی صبح بھارتی فوج کی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے ایک پولیس چوکی پر دھاوا بول دیا۔ 11گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں سپرنٹنڈنٹ پولیس، 3دیگر پولیس افسروں اور 3سویلین سمیت 10افراد ہلاک جب کہ 15زخمی ہوئے ہیں۔

تینوں حملہ آور بھی مارے گئے۔ پاکستان نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس دہشتگرد حملے میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس ہے۔ پاکستان دہشتگردی کے تمام مظاہر کی مذمت کرتا ہے ۔ دکھ کی اس گھڑی میں بھارتی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے حملے کا ذمے دار سرحد پر سیکیورٹی کے فقدان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندی ایک قومی مسئلہ ہے جس سے قومی پالیسی سے ہی نمٹا جاسکتا ہے۔

اگر پہلے ہی انٹلیجنس اطلاعات موجود تھیں تو سرحدوں کو مناسب طریقے سے سیل کیا جانا چاہیے تھا۔واقعے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں امن وامان کا اجلاس ہوا جس میں گورداسپور میں پولیس اسٹیشن پر حملے اور ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے بعد بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے صحافیوں سے گفتگو میں روایتی 'بلیم گیم' جاری رکھتے ہوئے حملے کی ذمے داری پاکستان پر ڈال دی اور کہا کہ پاکستان کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن قومی وقارکی قیمت پر نہیں۔ گورداسپور میں حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔ ہم پاکستان پر حملے میں پہل نہیں کریں گے لیکن اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور انداز میں جواب دیا جائیگا۔بھارتی انٹیلی جنس بیورو نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور پاکستان کے علاقے نارووال سے آئے۔


گورداسپور میں ہونے والے واقعے پر بھارتی حکومت اور میڈیا کا رویہ یکساں ہے۔ ابھی تک حملہ آوروں کی مصدقہ شناخت نہیں ہوئی 'کسی تنظیم نے اس کی ذمے داری بھی قبول نہیں کی لیکن بھارتی میڈیا نے سارا ملبہ پاکستان پرڈال دیا ہے۔ابھی بھارتی سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان لڑائی جاری تھی جب بھارتی میڈیا نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی۔شیوسینا اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں نے مظاہرے کیے اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی اور پاکستانی پرچم کو نذر آتش بھی کیا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارتی پنجاب میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عدم اطمینان اور بے چینی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کا آغاز تقسیم برصغیر کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں پنجاب کو تقسیم کیا گیا۔ پنجاب کے سکھوں نے اسے اچھا نہیں سمجھا۔ پھر پنجاب اور ہریانہ کا مشترکہ دارالحکومت چندی گڑھ قرار پایا۔ یہ بھی ایک عجیب و غریب فیصلہ تھا۔

اسے بھی بھارتی پنجاب کے سکھوں نے تسلیم نہیں کیا۔ یوں یہ معاملات بڑھتے چلے گئے ۔خالصتان کی تحریک کی جڑیں بھی بہت پرانی ہیں لیکن اندرا گاندھی کے دور میں سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی قیادت میں اس تحریک نے بہت زور پکڑا۔ حالات اس قدر خراب ہوئے کہ اندرا گاندھی نے سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی کر دی۔ اس آپریشن کا نام آپریشن بلیو اسٹار تھا ۔اس آپریشن نے سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور اس کے سیکڑوں ساتھی مارے گئے۔ بھارتی فوج نے گولڈن ٹیمپل پر بمباری کی جس سے گولڈن ٹیمپل تباہ ہو گیا اور پھر اسے دوبارہ مرمت کیا گیا۔

اسی رنجش میں اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ باڈی گارڈوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ جواب میں دہلی میں ہندوئوں نے سکھوں کا قتل عام کیا۔ یہ ہے وہ پس منظر جسے مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے لیکن بھارت اپنی ساری غلطیوں اور کوتاہیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتا ہے۔ اس وقت بھارت میں کشمیر کی آزادی کی تحریک چل رہی ہے ۔آندھرا پردیش میں نکسل باڑی تحریک چل رہی ہے ۔آسام کی صورت حال بھی ایسی ہی ہے لیکن بھارت اپنی جابرانہ پالیسیوں کو تبدیل نہیں کر رہا اور کمزور اقلیتوں کو حقوق نہیں دے رہا جس کا نتیجہ دہشت گردی کی شکل میں نکل رہا ہے۔

بھارتی اسٹیبلشمنٹ سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اپنے عوام کو مطمئن کرتی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ گزشتہ سات ہفتوں کے دوران بھارت نے 35 بار ورکنگ بائونڈری کی خلاف ورزی کی۔ بھارتی ڈرون کو پاکستان میں مارگرایا گیا۔ ایک جانب بھارت کی یہ اشتعال انگیزیاں ہیں اور دوسری جانب بھارتی میڈیا اور حکومت کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ بھارت میں ہونے والے ہر واقعے کی ذمے داری پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا کو اپنے اس طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ برصغیر میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی رویہ ہے۔
Load Next Story