ساحل پرجیلی فش شہریوں کیلیے وبال جان بن گئیں متعدد افراد کو کاٹ لیا
مون سون بارشوں کے بعد کراچی کے سمندر میں اب تک متعدد افراد کو جیلی فش کاٹ چکی ہیں
گہرے پانی میں رہنے والی جیلی فش سال میں ایک بار ساحل پر آتی ہیں۔ فوٹو : محمد نعمان / ایکسپریس
کراچی کے ساحل پر جیلی فش تفریح کے لیے آئے شہریوں کے لئے وبال جان بن گئیں۔
تفصیلات کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں کے بعد کراچی کے سمندر میں اب تک متعدد افراد کو جیلی فش کاٹ چکی ہیں، ابر آلود اور خوشگوار موسم کی وجہ سے کراچی کے ساحلی علاقوں میں تفریح کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد روز آرہی ہے، گہرے سمندری پانی میں رہنے والی جیلی فش کی کثیر تعداد سال میں ایک بار ساحل پر تیز سمندری لہروں کے ساتھ آجاتی ہیں، شہری جیلی فش دیکھنے کے لیے ساحل سمندر پر پہنچ رہے ہیں۔
ماہرین طب کے مطابق جیلی فش کے کاٹنے سے جسم پر جلن اورخارش محسوس ہوتی ہے اگر کسی شخص کو جیلی فش کاٹ لے تو فوری طور پر جیلی فش کا ڈنگ نکال کر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے، جیلی فش کا کاٹنا جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے، جیلی فش کے کاٹنے سے متاثرہ افراد کا اینٹی الرجک اور اینٹی بائیوٹک دواؤں سے علاج کیا جاتا ہے تاکہ جیلی فش کے کاٹنے سے پھیلنے والے زہر کو جسم میں پھیلنے سے روکا جاسکے، زہریلی جیلی فش ساحل پر بچوں اور بڑوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں کے بعد کراچی کے سمندر میں اب تک متعدد افراد کو جیلی فش کاٹ چکی ہیں، ابر آلود اور خوشگوار موسم کی وجہ سے کراچی کے ساحلی علاقوں میں تفریح کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد روز آرہی ہے، گہرے سمندری پانی میں رہنے والی جیلی فش کی کثیر تعداد سال میں ایک بار ساحل پر تیز سمندری لہروں کے ساتھ آجاتی ہیں، شہری جیلی فش دیکھنے کے لیے ساحل سمندر پر پہنچ رہے ہیں۔
ماہرین طب کے مطابق جیلی فش کے کاٹنے سے جسم پر جلن اورخارش محسوس ہوتی ہے اگر کسی شخص کو جیلی فش کاٹ لے تو فوری طور پر جیلی فش کا ڈنگ نکال کر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے، جیلی فش کا کاٹنا جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے، جیلی فش کے کاٹنے سے متاثرہ افراد کا اینٹی الرجک اور اینٹی بائیوٹک دواؤں سے علاج کیا جاتا ہے تاکہ جیلی فش کے کاٹنے سے پھیلنے والے زہر کو جسم میں پھیلنے سے روکا جاسکے، زہریلی جیلی فش ساحل پر بچوں اور بڑوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔