بھارتی’فکسرز‘پابندی کی ہتھکڑیاں کھولنے کیلیے کوشاں

کیرالہ اور ممبئی نے شری شانتھ اور انکیت چھاون کے کیس کا جائزہ لینے کا فیصلہ کرلیا

کیرالہ اور ممبئی نے شری شانتھ اور انکیت چھاون کے کیس کا جائزہ لینے کا فیصلہ کرلیا فوٹو: فائل

بھارتی 'فکسرز' نے پابندی کی ہتھکڑیاں کھولنے کی کوششیں شروع کردیں، آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث کھلاڑیوں نے اپنی اسٹیٹ ایسوسی ایشنز سے رابطہ کرلیا، کیرالا شری شانتھ اور ممبئی انکیت چھاون کے کیس کا جائزہ لے گا، بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کہتے ہیں کہ تینوں کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی عائد ہے۔

اس کے خلاف کوئی درخواست سامنے آئی تو اس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دہلی کی ایک ٹرائل کورٹ نے 2013 کے آئی پی ایل فکسنگ اسکینڈل میں ملوث راجستھان رائلز کے تین کرکٹرز شری شانتھ، انکیت چھاون اور اجیت چنڈیلا کو ناکافی شواہد اور قوانین میں خامیوں کی وجہ سے رہا کردیا تھا جس کے بعد ان کھلاڑیوں کے دلوں میں ایک بار پھر سے کرکٹ میدان میں اترنے کی خواہش انگڑائی لینے لگی اور اب یہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے خود پر عائد تاحیات پابندیوں کی ہتھکڑی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، اس کے لیے باقاعدہ کوششوں کا بھی آغاز کردیا اور پہلے مرحلے میں اپنی اسٹیٹ ایسوسی ایشنز سے 'رحم' کی اپیل کی گئی ہے۔


کیرالا کرکٹ ایسوسی ایشن نے پہلے ہی عندیہ دے دیا تھا کہ وہ کلیئرنس ملتے ہی شری شانتھ کو اپنی رنجی ٹیم کا حصہ بنالیں گے جبکہ سابق فاسٹ بولر کا معاملہ بی سی سی آئی کے سامنے اٹھانے کا بھی اعلان کیا تھا۔

اب انکیت چھاون نے بھی ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن سے رابطہ کرلیا ہے، اس سلسلے میں ایم سی اے کے جوائن سیکریٹری پی وی شیٹی کا کہنا ہے کہ ہمیں اس سلسلے میں انکیت چھاون کی درخواست موصول ہوچکی اور ہم اسے اب 2 اگست کو اپنی میٹنگ میں صدر شرد پوار کے سامنے پیش کریں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ بی سی سی آئی نے کرنا ہے۔

ہم صرف اس بات کا جائزہ لیں گے کہ انکیت چھاون پر سے پابندی ختم کرانے کے لیے بورڈ سے رابطہ کیا جائے یا نہیں۔ دوسری جانب بورڈ کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ کرمنل کیس میں بری ہونے کے باوجود تینوں کرکٹرز شری شانتھ، انکیت چھاون اور اجیت چنڈیلا پر کھیل کے دروازے بدستور بند رہیں گے ویسے مجھے کسی کی جانب سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ، اگر ایسا ہوا تو پھر ہم درخواست کا جائزہ ضرور لیں گے۔
Load Next Story