سیلاب کا حل سیلاب
عوام ایک بار پھر سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہیں۔ ہزاروں خاندان لاکھوں عوام بے گھر ہو چکے ہیں،
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
عوام ایک بار پھر سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہیں۔ ہزاروں خاندان لاکھوں عوام بے گھر ہو چکے ہیں، سیکڑوں لوگ جان سے جا چکے ہیں، کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، ہزاروں مویشی ہلاک ہو چکے ہیں، عوام کے غم میں مبتلا حکمران طبقہ سیلاب زدگان اور سیلاب کا ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر جائزہ لے رہا ہے۔ سیاست دانوں کی طرف سے سیلاب زدگان سے ہمدردی کے بیانات میڈیا میں آ رہے ہیں، سیاسی مخالفین سیلاب کی ذمے داری حکومت پر ڈال کر اپنا فرض پورا کر رہے ہیں، غریب عوام اپنی زندگی کے اثاثے کو سروں، کندھوں پر اٹھائے گردن گردن پانی میں نامعلوم جائے پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
غریب کے گھر میں کچی دیواروں کے علاوہ ہوتا ہی کیا ہے۔ یہ اثاثہ بھی ہر سال سیلاب چھین لیتا ہے، بلا شبہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہوتی ہے لیکن حکمران طبقات اگر چاہیں تو عوام کو سیلاب سے بچانے کی موثر کوشش کر سکتے ہیں لیکن حکمران ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں اس طرح مصروف رہتے ہیں کہ انھیں عوام کو سیلاب سے بچانے کے منصوبے بنانے کا وقت ہی نہیں ملتا اور پھر سیلاب ایلیٹ کے لیے ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہوتا ہے، ہر وزیر مشیر کو سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کروڑوں روپے دیے جاتے ہیں، یوں سیلاب جہاں غریب عوام کی تباہی کا باعث بنتا ہے وہیں غریبوں کے ''مخلص'' نمائندوں کے لیے کمائی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔
صدیوں تک سیلاب، طوفان، زلزلوں، وبائی بیماریوں کو ناگزیر قدرتی آفت کا نام دیا جاتا رہا اور صبر و شکر کے ساتھ ان مصیبتوں کو قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرنے کی تلقین کی جاتی رہی اور بے چارے عوام ان آفات کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ لیکن جدید دنیا میں نہ صرف ان آفات کی وجوہات کا پتہ چلا لیا گیا ہے بلکہ ان کی آمد سے بہت پہلے معلوم کر لیا جاتا ہے کہ ان آفات کا نزول کب ہو گا، ان کی تباہ کاریوں کا دائرہ کتنا وسیع ہو گا اور ان سے بچنے اور کم سے کم نقصانات کا طریقہ کار کیا ہو گا، اس سال بھی مون سون کی آمد سے بہت پہلے سرکار کے بیانات آتے رہے کہ حکومت نے عوام کو اس عذاب سے بچانے کے لیے پوری پوری تیاریاں کر لی ہیں۔
تیاریاں یہ ہوتی ہیں کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے، ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر کے انھیں ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا حکم دیدیا جاتا ہے اور سیلاب زدگان کے لیے ریلیف کیمپ قائم کر دیے جاتے ہیں اور یہ کیمپ سیلاب زدگان کو تو کوئی ریلیف نہیں دے سکتے لیکن ریلیف کے انچارجوں کے گھر بھر دینے کے اڈوں میں بدل جاتے ہیں، ہر اہلکار، ہر چھوٹی بڑی سرکار اپنے ظرف اور ضمیر کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے ملکی بجٹ اور بیرونی ملکوں سے جو بھاری ریلیف فنڈ آتا ہے وہ بھاری پیٹ والوں کی نذر ہو جاتا ہے اور سیلاب زدگان ٹرکوں میں اشک شوئی کے لیے آنے والے سامان کے حصول کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہیں اور آپس ہی میں لڑ پڑتے ہیں۔
یہ تماشہ ہر سیلاب کے موقع پر دیکھا جا سکتا ہے، ہمارے جمہوری بادشاہوں کے شہزادے شہزادیاں کیمرہ مینوں کی اور کیمروں کی جھرمٹ میں منتخب سیلاب زدگان کو امدادی سامان بانٹتے نظر آتے ہیں اور اس کار خیر کی تصویریں میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ یوں عوام کی محنت کی کمائی عوام میں خیرات کے طور پر تقسیم کی جاتی ہے، یہ پر فریب سلسلہ عشروں سے جاری ہے اور اگر عوام ان فریب کاریوں سے لاعلم رہے تو اور عشروں تک جاری رہے گا۔
سیلاب اچانک آنے والی کوئی بلا نہیں بلکہ اس کی آمد کی خبر ہفتوں پہلے مل جاتی ہے، حکومتوں کے پاس ان آفات سے عوام کو بچانے کے لیے کافی وقت ہوتا ہے۔ اگر حکمرانوں کو عوام کی جان و مال کے تحفظ سے دلچسپی ہو تو وہ بہت پہلے سے عملی کارروائیوں کا آغاز کر سکتے ہیں اور اگر ایسا کیا جائے تو غریب عوام کو کم سے کم نقصان پہنچنے کی سبیل کی جا سکتی ہے، لیکن مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے حکمران ملک و قوم کی ترقی میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے پاس سیلابی علاقوں کا فضائی جائزہ لینے کا وقت بھی نہیں ہوتا۔
البتہ لمبے لمبے فوٹو سیشن کے لیے ان کے پاس بہت وقت ہوتا ہے، پرنٹ میڈیا کے صفحات اور الیکٹرانک میڈیا کی اسکرین حکمرانوں کی منافقانہ کوششوں سے مزین ہوتے ہیں اور مصاحبین کا ایک طبقہ ہیلی کاپٹروں میں ان خادمین عوام کا ہم رکاب ہوتا ہے اور سرکار کی اعلیٰ کارکردگی اور سیلابی عوام سے اظہار ہمدردی کی خوب کوریج کر کے منہ موتیوں سے بھر لیتا ہے، یہ ہے وہ صورت حال جس کا برسوں سے ہمارے عوام سامنا کر رہے ہیں، ان کے صبر ایوبی کو داد دیجیے کہ ان کی زبان پر حرف شکایت ان کی پیشانیوں پر بل نہیں ہوتا۔
دنیا بھر میں سیلابی پانی کو ڈیموں میں ذخیرہ کر کے اسے ملکی ضرورت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہمارے دریا بھارت سے ہو کر آتے ہیں، بھارت نے سیلابی پانی سے عوام کو بچانے کے لیے ڈیموں کی بھرمار کر رکھی ہے اور سیلابی پانی کو ان ڈیموں میں ذخیرہ کر کے زرعی اور دوسری ضرورت کو پورا کر رہا ہے، بھارت کافروں کا ملک ہے لیکن یہ کافر قومی مفادات کی خاطر متحد ہو جاتے ہیں۔
ہم دنیا کی سب سے برتر قوم ہیں لیکن ہماری اخلاقیات ہماری بد ترین سیاست کا عالم یہ ہے کہ عشروں سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی راہ میں دیوار بن کر حائل ہو رہے ہیں اور اس ڈیم کو تنگ نظری، تعصب اور عدم اعتماد کے حوالے کر رکھا ہے، ہمارا حکمران طبقہ ڈیموں کی ضرورت کے مطابق تعمیر پر نااہلی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک دوسرے پر نااہلی اور غیر ذمے داری کے الزام لگا رہا ہے ملک میں دو ہی پارٹیاں برسر اقتدار آ رہی ہیں اور دو دو تین تین بار برسر اقتدار رہی ہیں اگر یہ چاہتیں تو اب تک ملک میں کئی چھوٹے بڑے ڈیم بن چکے ہوتے جو کالاباغ ڈیم کا نعم البدل بھی ہوتے اور ملک کی زرعی ضروریات پوری کرنے کا وسیلہ بھی بن سکتے تھے لیکن جو حکومتیں اپنا سارا وقت لوٹ مار میں لگاتی ہیں ان کے پاس عوامی مسائل حل کرنے کا وقت ہوتا ہے نہ ضرورت ہوتی ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جس کے شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں، ہر سال سیلاب کا پانی ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے سمندر برد ہو جاتا ہے اگر اس سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کا اہتمام کیا جاتا تو یہ سیلابی پانی نہ صرف اہل کراچی کی پینے کی ضرورتوں کو پورا کرتا بلکہ اس ذخیرے کو زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر کے اہل کراچی کی سبزی وغیرہ کی ضرورتوں کو بھی پورا کیا جا سکتا تھا لیکن حکمران اس حوالے سے جن رویوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے عوام غلاموں کی طرح بے زبان بنے ہوئے ہیں، ان جرائم کے خلاف چھوٹے موٹے مظاہرے کرنے اور ٹائر جلا کر روڈز بند کرنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ ان سیلابوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صورت سیلاب نا اہل حکومتوں کا قصہ تمام کرنا ہو گا ورنہ ہر سال سیلاب آئے گا اور لاکھوں عوام کو در بدر کر کے چلا جائے گا۔
غریب کے گھر میں کچی دیواروں کے علاوہ ہوتا ہی کیا ہے۔ یہ اثاثہ بھی ہر سال سیلاب چھین لیتا ہے، بلا شبہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہوتی ہے لیکن حکمران طبقات اگر چاہیں تو عوام کو سیلاب سے بچانے کی موثر کوشش کر سکتے ہیں لیکن حکمران ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں اس طرح مصروف رہتے ہیں کہ انھیں عوام کو سیلاب سے بچانے کے منصوبے بنانے کا وقت ہی نہیں ملتا اور پھر سیلاب ایلیٹ کے لیے ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہوتا ہے، ہر وزیر مشیر کو سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کروڑوں روپے دیے جاتے ہیں، یوں سیلاب جہاں غریب عوام کی تباہی کا باعث بنتا ہے وہیں غریبوں کے ''مخلص'' نمائندوں کے لیے کمائی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔
صدیوں تک سیلاب، طوفان، زلزلوں، وبائی بیماریوں کو ناگزیر قدرتی آفت کا نام دیا جاتا رہا اور صبر و شکر کے ساتھ ان مصیبتوں کو قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرنے کی تلقین کی جاتی رہی اور بے چارے عوام ان آفات کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ لیکن جدید دنیا میں نہ صرف ان آفات کی وجوہات کا پتہ چلا لیا گیا ہے بلکہ ان کی آمد سے بہت پہلے معلوم کر لیا جاتا ہے کہ ان آفات کا نزول کب ہو گا، ان کی تباہ کاریوں کا دائرہ کتنا وسیع ہو گا اور ان سے بچنے اور کم سے کم نقصانات کا طریقہ کار کیا ہو گا، اس سال بھی مون سون کی آمد سے بہت پہلے سرکار کے بیانات آتے رہے کہ حکومت نے عوام کو اس عذاب سے بچانے کے لیے پوری پوری تیاریاں کر لی ہیں۔
تیاریاں یہ ہوتی ہیں کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے، ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر کے انھیں ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا حکم دیدیا جاتا ہے اور سیلاب زدگان کے لیے ریلیف کیمپ قائم کر دیے جاتے ہیں اور یہ کیمپ سیلاب زدگان کو تو کوئی ریلیف نہیں دے سکتے لیکن ریلیف کے انچارجوں کے گھر بھر دینے کے اڈوں میں بدل جاتے ہیں، ہر اہلکار، ہر چھوٹی بڑی سرکار اپنے ظرف اور ضمیر کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے ملکی بجٹ اور بیرونی ملکوں سے جو بھاری ریلیف فنڈ آتا ہے وہ بھاری پیٹ والوں کی نذر ہو جاتا ہے اور سیلاب زدگان ٹرکوں میں اشک شوئی کے لیے آنے والے سامان کے حصول کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہیں اور آپس ہی میں لڑ پڑتے ہیں۔
یہ تماشہ ہر سیلاب کے موقع پر دیکھا جا سکتا ہے، ہمارے جمہوری بادشاہوں کے شہزادے شہزادیاں کیمرہ مینوں کی اور کیمروں کی جھرمٹ میں منتخب سیلاب زدگان کو امدادی سامان بانٹتے نظر آتے ہیں اور اس کار خیر کی تصویریں میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ یوں عوام کی محنت کی کمائی عوام میں خیرات کے طور پر تقسیم کی جاتی ہے، یہ پر فریب سلسلہ عشروں سے جاری ہے اور اگر عوام ان فریب کاریوں سے لاعلم رہے تو اور عشروں تک جاری رہے گا۔
سیلاب اچانک آنے والی کوئی بلا نہیں بلکہ اس کی آمد کی خبر ہفتوں پہلے مل جاتی ہے، حکومتوں کے پاس ان آفات سے عوام کو بچانے کے لیے کافی وقت ہوتا ہے۔ اگر حکمرانوں کو عوام کی جان و مال کے تحفظ سے دلچسپی ہو تو وہ بہت پہلے سے عملی کارروائیوں کا آغاز کر سکتے ہیں اور اگر ایسا کیا جائے تو غریب عوام کو کم سے کم نقصان پہنچنے کی سبیل کی جا سکتی ہے، لیکن مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے حکمران ملک و قوم کی ترقی میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے پاس سیلابی علاقوں کا فضائی جائزہ لینے کا وقت بھی نہیں ہوتا۔
البتہ لمبے لمبے فوٹو سیشن کے لیے ان کے پاس بہت وقت ہوتا ہے، پرنٹ میڈیا کے صفحات اور الیکٹرانک میڈیا کی اسکرین حکمرانوں کی منافقانہ کوششوں سے مزین ہوتے ہیں اور مصاحبین کا ایک طبقہ ہیلی کاپٹروں میں ان خادمین عوام کا ہم رکاب ہوتا ہے اور سرکار کی اعلیٰ کارکردگی اور سیلابی عوام سے اظہار ہمدردی کی خوب کوریج کر کے منہ موتیوں سے بھر لیتا ہے، یہ ہے وہ صورت حال جس کا برسوں سے ہمارے عوام سامنا کر رہے ہیں، ان کے صبر ایوبی کو داد دیجیے کہ ان کی زبان پر حرف شکایت ان کی پیشانیوں پر بل نہیں ہوتا۔
دنیا بھر میں سیلابی پانی کو ڈیموں میں ذخیرہ کر کے اسے ملکی ضرورت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہمارے دریا بھارت سے ہو کر آتے ہیں، بھارت نے سیلابی پانی سے عوام کو بچانے کے لیے ڈیموں کی بھرمار کر رکھی ہے اور سیلابی پانی کو ان ڈیموں میں ذخیرہ کر کے زرعی اور دوسری ضرورت کو پورا کر رہا ہے، بھارت کافروں کا ملک ہے لیکن یہ کافر قومی مفادات کی خاطر متحد ہو جاتے ہیں۔
ہم دنیا کی سب سے برتر قوم ہیں لیکن ہماری اخلاقیات ہماری بد ترین سیاست کا عالم یہ ہے کہ عشروں سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی راہ میں دیوار بن کر حائل ہو رہے ہیں اور اس ڈیم کو تنگ نظری، تعصب اور عدم اعتماد کے حوالے کر رکھا ہے، ہمارا حکمران طبقہ ڈیموں کی ضرورت کے مطابق تعمیر پر نااہلی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک دوسرے پر نااہلی اور غیر ذمے داری کے الزام لگا رہا ہے ملک میں دو ہی پارٹیاں برسر اقتدار آ رہی ہیں اور دو دو تین تین بار برسر اقتدار رہی ہیں اگر یہ چاہتیں تو اب تک ملک میں کئی چھوٹے بڑے ڈیم بن چکے ہوتے جو کالاباغ ڈیم کا نعم البدل بھی ہوتے اور ملک کی زرعی ضروریات پوری کرنے کا وسیلہ بھی بن سکتے تھے لیکن جو حکومتیں اپنا سارا وقت لوٹ مار میں لگاتی ہیں ان کے پاس عوامی مسائل حل کرنے کا وقت ہوتا ہے نہ ضرورت ہوتی ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جس کے شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں، ہر سال سیلاب کا پانی ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے سمندر برد ہو جاتا ہے اگر اس سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کا اہتمام کیا جاتا تو یہ سیلابی پانی نہ صرف اہل کراچی کی پینے کی ضرورتوں کو پورا کرتا بلکہ اس ذخیرے کو زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر کے اہل کراچی کی سبزی وغیرہ کی ضرورتوں کو بھی پورا کیا جا سکتا تھا لیکن حکمران اس حوالے سے جن رویوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے عوام غلاموں کی طرح بے زبان بنے ہوئے ہیں، ان جرائم کے خلاف چھوٹے موٹے مظاہرے کرنے اور ٹائر جلا کر روڈز بند کرنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ ان سیلابوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صورت سیلاب نا اہل حکومتوں کا قصہ تمام کرنا ہو گا ورنہ ہر سال سیلاب آئے گا اور لاکھوں عوام کو در بدر کر کے چلا جائے گا۔