ملا عمر اور جلال الدین حقانی کی موت اور مستقبل کا افغانستان
اس وقت طالبان کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ قیام امن کی کوششوں میں افغان حکومت کا ساتھ دیں
جلال الدین حقانی کے دس میں سے تین بیٹے ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ ایک بیٹا اسلام آباد میں مارا گیا تھا۔ فوٹو: فائل
ملا عمر کے انتقال کی تصدیق کے بعد حقانی نیٹ ورک کے سپریم کمانڈر جلال الدین حقانی کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ بھی انتقال کر چکے ہیں۔
افغانستان میں شدت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گروپ کے سربراہ جلال الدین حقانی طویل علالت کے بعد ایک برس قبل انتقال کر گئے تھے جنکی تدفین افغانستان میں کی گئی لہٰذا ثابت ہوا کہ ان کی پاکستان میں موجودگی کے جو الزامات لگائے جاتے تھے وہ قطعاً بے بنیاد تھے البتہ ان دو اہم شخصیات کی وفات کے بعد افغانستان میں امن کا قیام ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔
افغانستان میں نیٹو اور افغان افواج پر حملے حقانی نیٹ ورک ہی کرتا رہا جو افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں مضبوط کنٹرول رکھتا ہے۔ مغربی افواج کو اس گروپ نے جتنا نقصان پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ کہا جاتا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے ساتھ بھی اس گروپ کے گہرے تعلقات ہیں۔
طالبان نے بھی جلال الدین حقانی کی موت کی تصدیق کر دی ہے ۔ واضح رہے امریکا نے جلال الدین حقانی کے سر کی قیمت ایک کروڑ امریکی ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ جلال الدین کے بعد ان کے بیٹے سراج الحق حقانی تنظیم چلا رہے تھے جو خود بھی امریکا کے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ جلال الدین حقانی کے دس میں سے تین بیٹے ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ ایک بیٹا اسلام آباد میں مارا گیا تھا۔
افغان طالبان نے ملا عمر کی موت کی تصدیق کے بعد اب باضابطہ طور پر ملا اختر منصور کو تحریک کا نیا امیر مقرر کر کے اس بارے میں اعلامیہ جاری کر دیا ہے اور نئے امیر کی نیابت کے لیے دو طالبان رہنماؤں کا انتخاب بھی کیا گیا ہے جن میں سے ایک حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اور دوسرے طالبان کے قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہیں۔
بہرحال امریکا نے طالبان پر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت طالبان کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ قیام امن کی کوششوں میں افغان حکومت کا ساتھ دیں اور قانونی طور پر ملک کے سیاسی نظام کا حصہ بنیں۔ امریکی دفتر خارجہ میں یومیہ بریفنگ کے دوران ترجمان مارک ٹونر نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات ملتوی ہونے کی مخالفت کی اس کے ساتھ ہی یہ تسلیم کیا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے بہت معاونت کی ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے۔
مارک ٹونر نے طالبان کے نئے امیر اختر منصور اور ملا عمر کے بیٹے کے درمیان اختلافات کے خبروں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ امریکا افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کہیں خطے کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔
بہرحال ملا عمر اور اب جلال الدین حقانی کے انتقال کی تصدیق کے بعد صورتحال میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے۔ آنے والے دن افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہونگے۔ طالبان میں اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ ملا منصور اور حقانی گروپ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا حامی ہے جب کہ طالبان کا ایک گروپ ملا عمر کے بیٹے کو امیر بنا کر اپنی سیاست چاہتا ہے۔
افغانستان میں شدت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گروپ کے سربراہ جلال الدین حقانی طویل علالت کے بعد ایک برس قبل انتقال کر گئے تھے جنکی تدفین افغانستان میں کی گئی لہٰذا ثابت ہوا کہ ان کی پاکستان میں موجودگی کے جو الزامات لگائے جاتے تھے وہ قطعاً بے بنیاد تھے البتہ ان دو اہم شخصیات کی وفات کے بعد افغانستان میں امن کا قیام ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔
افغانستان میں نیٹو اور افغان افواج پر حملے حقانی نیٹ ورک ہی کرتا رہا جو افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں مضبوط کنٹرول رکھتا ہے۔ مغربی افواج کو اس گروپ نے جتنا نقصان پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ کہا جاتا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے ساتھ بھی اس گروپ کے گہرے تعلقات ہیں۔
طالبان نے بھی جلال الدین حقانی کی موت کی تصدیق کر دی ہے ۔ واضح رہے امریکا نے جلال الدین حقانی کے سر کی قیمت ایک کروڑ امریکی ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ جلال الدین کے بعد ان کے بیٹے سراج الحق حقانی تنظیم چلا رہے تھے جو خود بھی امریکا کے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ جلال الدین حقانی کے دس میں سے تین بیٹے ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ ایک بیٹا اسلام آباد میں مارا گیا تھا۔
افغان طالبان نے ملا عمر کی موت کی تصدیق کے بعد اب باضابطہ طور پر ملا اختر منصور کو تحریک کا نیا امیر مقرر کر کے اس بارے میں اعلامیہ جاری کر دیا ہے اور نئے امیر کی نیابت کے لیے دو طالبان رہنماؤں کا انتخاب بھی کیا گیا ہے جن میں سے ایک حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اور دوسرے طالبان کے قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہیں۔
بہرحال امریکا نے طالبان پر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت طالبان کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ قیام امن کی کوششوں میں افغان حکومت کا ساتھ دیں اور قانونی طور پر ملک کے سیاسی نظام کا حصہ بنیں۔ امریکی دفتر خارجہ میں یومیہ بریفنگ کے دوران ترجمان مارک ٹونر نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات ملتوی ہونے کی مخالفت کی اس کے ساتھ ہی یہ تسلیم کیا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے بہت معاونت کی ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے۔
مارک ٹونر نے طالبان کے نئے امیر اختر منصور اور ملا عمر کے بیٹے کے درمیان اختلافات کے خبروں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ امریکا افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کہیں خطے کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔
بہرحال ملا عمر اور اب جلال الدین حقانی کے انتقال کی تصدیق کے بعد صورتحال میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے۔ آنے والے دن افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہونگے۔ طالبان میں اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ ملا منصور اور حقانی گروپ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا حامی ہے جب کہ طالبان کا ایک گروپ ملا عمر کے بیٹے کو امیر بنا کر اپنی سیاست چاہتا ہے۔