افغان طالبان کے نئے سربراہ کا آڈیو پیغام

افغانستان میں داعش بھی اپنے اثرات کو بڑھا رہی ہے اورطالبان کے کچھ لوگ داعش کا حصہ بن چکے ہیں

بہر حال حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پاکستان کو بدلتے حالات کو سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے۔ فوٹو:فائل

افغان طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور نے ہفتہ کو جاری ہونے والے اپنے پہلے آڈیو پیغام میں گروپ میں اتحاد بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا یہ پیغام ایسے وقت پر سامنے آیا جب ملا عمر کے انتقال کے بعد گروپ میں دراڑیں پڑنے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ پیغام میں ملا منصور نے کہا کہ ہمیں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دھڑے بندی سے صرف ہمارے دشمنوں کو فائدہ ہو گا اور ہماری مشکلات بڑھیں گی۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جن طاقتوں نے ملا عمر کو تسلیم نہیں کیا تھا وہ افغان طالبان کے نئے لیڈروں کو کب برداشت کریں گی بالخصوص اس صورت میں جب کہ افغان طالبان کے داخلی اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور ان کے مخالف دھڑے بھی نئے رہنما ملا منصور کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔


نئے رہنما ملا منصور کا تقریبا آدھ گھنٹے پر مشتمل جو پیغام نشر کیا گیا ہے اس میں نئے طالبان سربراہ نے کہا کہ ان کی لڑائی جاری رہے گی اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے ساتھیوں کو طالبان تحریک سے متعلق پھیلنے والی افواہوں اور غیر ملکی پراپیگنڈے پر کان نہ دھرنے کا بھی مشورہ دیا اور کہا کہ ان کا مقصد اور نعرہ شریعت اور اسلامی نظام کا نفاذ ہے اور ان مقاصد کے حصول تک جہاد جاری رہے گا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرحوم ملا عمر نے بھی اسی مقصد کو اپنا مطمع نظر قرار دیا تھا۔ نئے طالبان لیڈر ملا منصور کا کہنا ہے کہ جنگ یا امن مذاکرات، یہ تمام فیصلے اسلامی قوانین کی روشنی میں کیے جائیں گے۔ ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملا عمر کے بیٹے اور بھائی ملا منصور کے انتخاب پر متفق نہیں۔ ملا عمر کی وفات کی تصدیق کے بعد جب ملا منصور کی امارت کا فیصلہ سامنے آیا تو محسوس ہوتا تھا کہ طالبان متحد ہیں لیکن پھر معاملہ الجھنا شروع ہو گیا ہے' طالبان کا مستقبل کیا ہوگا' اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ بات یقینی ہے کہ اگر طالبان دھڑے کسی ممکنہ فارمولے پر متحد نہ ہوئے تو امن مذاکرات پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی خدشہ ہے کہ طالبان دھڑوں کے درمیان تصادم نہ ہو جائے' دیکھنا یہ ہے کہ طالبان کے نئے امیر ملا منصور طالبان کے اختلاف کرنے والے ارکان کو اپنے ساتھ کیسے ملاتے ہیں۔ داعش کے عنصر کو بھی سامنے رکھا جانا چاہیے۔ افغانستان میں داعش بھی اپنے اثرات کو بڑھا رہی ہے اورطالبان کے کچھ لوگ داعش کا حصہ بن چکے ہیں۔یوں دیکھا جائے تو صورت حال خاصی پیچیدہ نظر آتی ہے۔پاکستان چاہتا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں کیونکہ اسی صورت میں افغانستان میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے اور اس سے پاکستان کے حالات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اس معاملے میں افغان حکومت کا کردار بھی بڑا اہمیت کا حامل ہے کہ وہ تبدیل شدہ صورت حال میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔ بہر حال حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پاکستان کو بدلتے حالات کو سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے۔
Load Next Story