جذباتیت نہیں ہوش مندی کی ضرورت

ملکی قائدین کو اندازہ ہونا چاہیے کہ قیادت جن کو نصیب ہوتی ہے انھیں منزل کے راستے کا پتا ہوتا ہے۔

سیاسی ایوانوں اور عام سماجی تعلقات مین پاکستانی سماج ایک غیر معمولی تبدیلی سے دوچار ہے، فرسودہ سیاست دم توڑ چکی ہے۔ فوٹو: فائل

QUETTA:
پاکستانی سیاست میں ایک سے بڑھ کر ایک ایشو پیدا ہوتا ہے' کبھی دھرنے دیے جاتے ہیں اور کبھی کوئی اسٹیبلشمنٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دے کر اپنی سیاست بچانا چاہتا ہے اور کبھی کوئی کراچی آپریشن کو متنازعہ بنانے کی باتیں کر کے اپنی سیاست قائم کھنا چاہتا ہے۔ اب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے نیا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔

انھوں نے امریکا کے شہر ڈیلاس میں ایم کیو ایم امریکا کے تین روزہ سالانہ اجلاس سے ویڈیو خطاب کیا اور اپنے خطاب میں وہ کچھ کہہ دیا ہے جو نہیں کہا جانا چاہیے تھا' ایک قومی سطح کے لیڈر کے منہ سے ایسے الفاظ نہیں آنے چاہئیں تھے۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس متنازعہ تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ الطاف حسین نے اعلان جنگ کیا ہے۔ پاکستان برطانیہ کو کیس بھیجے گا' وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی الطاف حسین کی تقریر پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ادھر ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت ، اقوام متحدہ اور نیٹو سے مدد نہیں مانگی ان کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کی تقریر پاکستان کے آئین کے دائرہ میں تھی۔ ایم کیو ایم نے پرو فوج ریلی نکالی ، متحدہ کے رہنما نے شکوہ کیا کہ ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوتی، جبری گمشدگی، ماورائے قانون ہلاکتوں اور بلاجواز گرفتاریوں پر احتجاج غیر منصفانہ مطالبہ تو نہیں ہے۔

حقیقت کڑوی گولی کی طرح ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ملکی سیاست ماضی کے برعکس مسائل ، خطرات اور قومی سلامتی کے ناقابل یقین اور انتہائی سنجیدہ آزمائشوں سے گزر رہی ہے، ملکی قائدین کو اندازہ ہونا چاہیے کہ قیادت جن کو نصیب ہوتی ہے انھیں منزل کے راستے کا پتا ہوتا ہے، وہ اس پر استقامت ، اعتماد و یقین محکم کے ساتھ چلتے ہیں۔

ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے قوم یہی امید وابستہ کیے ہوئے ہے کہ ملک کے کروڑوں عوام ایک ایسا معاشرہ ، ایسا کلچر،اور ایک ایسی تہذیب کا سائبان چاہتے ہیں جو سب ساکنان وطن کو سیاسی ،سماجی اور معاشی آسودگی دے، کسی کے ساتھ ناانصافی اور ظلم نہ ہو، جمہوریت سب کی فریاد سنے ، مگر اہل وطن کا بھی فرض ہے کہ جب ریاست اور سماج دہشت گردی ، بدامنی، لاقانونیت، ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ،بد انتظامی ، کرپشن اور جرائم کے جہنم میں ڈھل جائے تو اسے بچانے کی کوششوں میں سیاست دانوں کو بھی پیش پیش ہونا چاہیے۔


آج عوام سیاسی طور پر اتنے باشعور ہوچکے ہیں کہ ابلاغ اور اطلاعات کے انقلاب کے باعث دنیا کی نبض پر بیک وقت سارے سیاست دانوں کا ہاتھ ہے، کہیں کچھ ہوجائے، کوئی شیریں بات کہہ دے وہ مہک بن کر چار دانگ عالم میں پھیل جاتی ہے ، اور اگر کسی رہنما کی زبان سے الفاظ تیر بن کر کمان سیاست سے نکلیں تو اس پر زمان ومکان کی قید نہیں رہتی ، وہ جگر پاش ہوتا ہے، مگر سیاستدان تو اپنے حلقہ انتخاب کا مسیحا ہوتا ہے، اس کی تقریر دل پزیر ہونی چاہیے ۔

بات ڈیلاس (امریکا) تک کیوں گئی ، سیاست دان اپنے ہی ہم سفروں سے اپنا غم شیئر کیوں نہیں کرتے، سیاسی دوستی و مشاورت کا ایسا عبرت انگیز افلاس کیوں ! کہتے ہیں کہ ندرت خیال ، خوش بیانی ، شیریں سخنی اور تنوع ایک لیڈر کو اپنے پیروکاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس لیے درد مند سیاست دانوں سے جن کو اپنی سیاست سے بھی شکایتیں ہوں ، حکومت سے گلہ گزار ہوں ، ریاست سے مکالمہ کے منتظر ہوں ،انھیں سب باتوں کا حق ہے مگر گھر کی بات گھر میں رہنی چاہیے، ہم غیروں سے شرح آرزو کیوں کریں ، اپنے جھگڑے سر بازار کیوں لے جائیں ، میرؔ کو اتنا سادہ تو نہیں ہونا چاہیے۔

بتوں سے کس نے فیض پایا ، سنگ دل ، بے نیاز اور بے حس ٹھیکیداران امن عالم کے سامنے فلسطین ،کشمیراور برمی مسلمان کب سے جھولی پھیلائے ہوئے ہیں، کون سنتا ہے فغان درویش! دنیا کے امن کو القاعدہ،داعش طالبان ، الشباب اور ان گنت بربریت پسند تنظیموں سے خطرہ ہے، موت کی سوداگری میں ملوث قوتوں کا ایجنڈا خلافت کا قیام ہے۔

اس حقیقت کا ادراک سیاسی رہنماؤں سے زیادہ اور کسے ہوسکتا ہے کہ اہل وطن کو داخلی اور عالمی سازشوں کا سامنا ہے ، عوام کو جمہوریت کے ثمرات اور گریٹر ریلیف درکار ہے ، بڑی مشکل سے قوم کو جمہوریت سے کمٹمنٹ کا ایک نیا دور نصیب ہوا ہے جس میں سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحہ پر ہے جب کہ دہشت گردی ، لاقانونیت ، اور کرپشن سے پاک سیاسی و سماجی نظام کی مستحکم بنیاد رکھنے کے لیے وسیع تر سیاسی افہام وتفہیم قومی ضرورت بن چکی ہے، قوم رفتہ رفتہ جذبات اور جوش سے لپٹی ہوئی سیاسی روش کو پسپا ہوتے دیکھ رہی ہے۔

سیاسی ایوانوں اور عام سماجی تعلقات مین پاکستانی سماج ایک غیر معمولی تبدیلی سے دوچار ہے، فرسودہ سیاست دم توڑ چکی ہے اور اس عمل کا سہرا تمام مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے سر ہے جنھوں نے محاذ آرائی سے منہ موڑ لیا ،آمریت اور جمہوریت کی برس ہا برس کی کشمکش سے نجات حاصل کی اور اب ایک مشترکہ ایجنڈے کے تحت (تحفظات کے باوجود) انتخابی عمل کو ناگزیر شفافیت کے مستقل قالب میں ڈھالنے کے لیے پارلیمنٹ کی بالادستی اور اہمیت پر صاد کرچکی ہیں ۔ آج وطن عزیزکو دہشت گردی ، انتہاپسندی اور بدامنی سے نجات دلانے کے لیے ہماری مسلح افواج پر عزم ہیں، سیاست دان اس نازک مرحلہ میں جذباتیت نہیں ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی امیدوں کی تکمیل کے لیے مل جل کر کام کریں۔
Load Next Story