قوم اور مذہب کی تفریق کا نتیجہ

کشمیر میں کشمیری عوام ہندوستان کے خلاف برسر پیکار ہیں اور یہ لڑائی 68 سال سے جاری ہ

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

MUNICH:
کشمیر میں کشمیری عوام ہندوستان کے خلاف برسر پیکار ہیں اور یہ لڑائی 68 سال سے جاری ہے جس میں لگ بھگ ایک لاکھ کشمیری اپنی جانیں گنواچکے ہیں، اب یہ لڑائی ایک زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، اب کشمیری عوام اپنے بھارت مخالف مظاہروں میں پاکستان کا جھنڈا بھی لہرا رہے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگارہے ہیں۔

بھارتی حکومت کشمیری عوام کے اس رویے کو بغاوت کہہ رہی ہے اور اس کے خلاف سخت ترین اقدامات کا اعلان کررہی ہے۔ ادھر بھارت کے مختلف شہروں میں دہشت گرد حملوں کا منظم آغاز ہوگیا ہے، اس کی اصل وجہ مذہبی تفریق ہے، کشمیری عوام مسلمان ہیں، بھارتی حکومت ہندو ہے۔

چین کے ساتھ بھارت کی سرحدی جنگ کا آغاز 1962 میں ہوا جو اب تک نرم گرم جھڑپوں کی شکل میں جاری ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت ایک ہندو ریاست ہے اور چین میں اکثریت بدھ ازم کو ماننے والی ہے، فلسطین میں نصف صدی سے زیادہ عرصے سے خونین جنگ جاری ہے جس میں اب تک لاکھوں فلسطینی عوام جاں بحق ہوچکے ہیں، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ فلسطینی مسلمان ہیں اور اسرائیل یہودی ہیں، سربیا میں بے شمار اجتماعی قبریں ہیں جن میں ہزاروں مسلمان دفن ہیں اس المیے کی وجہ بھی مذہب ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھی 68 سالوں سے کشیدگی جاری ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تین بڑی جنگیں لڑی جاچکی ہیں جن میں ہزاروں عوام کا جانی نقصان ہوا اور اربوں روپوں کا مالی نقصان ہوا، دونوں پسماندہ ملک جہاں کی آبادی کا 50 فی صد حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اپنے دفاع پر اپن بجٹ کے کھربوں روپے خرچ کررہے ہیں۔

اس کی اصل وجہ بھی مذہبی تفریق ہے جو کشمیر کی وجہ سے آگ کے شعلوں میں بدل گئی ہے، کشمیری عوام بھارت کے ساتھ اس لیے نہیں رہنا چاہتے کہ بھارت ایک ہندو ریاست ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کیوں کہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے، اس مذہبی تفریق کی وجہ سے دونوں ممالک ایٹمی ملک بن چکے ہیں۔

1945 میں امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایک ایک ایٹم بم گرایا تھا، جس میں لاکھوں جاپانی زندہ جل گئے تھے، پاکستان اور ہندوستان کے پاس جو ایٹم بم ہیں وہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بموں سے پچاس گنا زیادہ طاقت ور ہیں ان دونوں ملکوں کے درمیان دو مرتبہ ایٹمی جنگ کا خطرہ پیدا ہوا اگر ان طاقت ور ایٹم بموں سے جنگ لڑی جائے تو برصغیر مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا۔


امریکا اور اس کے اتحادی چین کو اپنا دشمن نمبر1 سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف گھیرا ڈالے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی ملک چین کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان قومی مفاد کی لکیر کھینچی ہوئی ہے دونوں ملک اپنے دفاع پر کھربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں، اپنے ہتھیاروں کو زیادہ سے زیادہ خطرناک بنانے پر اربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں اصل وجہ قومی تفریق ہے ایک قوم چینی کہلاتی ہے دوسری امریکی یا مغربی جب تک دنیا میں سوشلسٹ بلاک موجود تھا اور اس بلاک کی سربراہی روس کرتا تھا نصف صدی تک سرد جنگ لڑتے رہے جس پر کھربوں ڈالر خرچ ہوئے۔

عشروں سے مغربی ملکوں اور ایران کے درمیان سخت کشیدگی موجود تھی کیوں کہ ایران اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا تھا جس سے اسرائیل کو خطرات لاحق تھے چنانچہ مغربی ملک ایران کو کسی قیمت پر ایٹمی ملک نہیں بننے دینا چاہتے تھے اس کی بھی اصل وجہ دونوں ملکوں کا مذہبی فرق ہے۔

ایران میں مسلمان رہتے ہیں، اسرائیل میں یہودی، مشرق وسطیٰ کے عرب ملک اسرائیل سے خوف زدہ ہیں اور اسرائیل کی ممکنہ جارحیت سے بچنے کے لیے کھربوں ڈالر کا اسلحہ خرید رہے ہیں، 1969 کی اسرائیل عرب جنگ کے دوران اسرائیل نے عربوں کی کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا گو لان کی پہاڑیاں اور سینائی کے بعض علاقے اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں، عرب اپنے علاقے واپس لینا چاہتے ہیں اس تنازعہ کی وجہ بھی مذہبی تفریق ہے۔

دنیا کی جنگوں کی تاریخ میں صلیبی جنگ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، یہ جنگ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان لڑی گئی۔ جس میں لاکھوں انسان ہلاک ہوئے اس جنگ کے پیچھے بھی مذہبی منافرت کار فرما تھی اس جنگ کو مسلمان اور عیسائی مقدس جنگ کہتے ہیں کیوں کہ یہ جنگیں مذہب کے نام پر لڑی گئی تھیں، پہلی اور دوسری عالمی جنگیں دنیا کی جنگوں کی تاریخ کی خطرناک ترین جنگیں کہلاتی ہیں جس میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے ان جنگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جنگیں دنیا کی منڈیوں پر قبضے کے لیے لڑی گئی تھیں لیکن اس کی اصل وجہ بھی قومی تفریق تھی۔

1947 میں تقسیم ہند کے موقع پر لاکھوں انسانوں کو انتہائی وحشت ناک طریقے سے قتل کیا گیا کہا جاتا ہے کہ اس فرقہ وارانہ جنگ میں 22 لاکھ مسلمان مارے گئے، اس المناک قتل و غارت کے پیچھے بھی مذہبی تفریق کار فرما تھی۔ ان جنگوں کے علاوہ بھی بہت ساری جنگیں لڑی گئیں جن کی اصل وجہ قومی اور مذہبی تفریق تھی۔

جنگیں خواہ وہ مذہبی تفریق کی وجہ سے لڑی جائیں یا قومی مفادات کے نام پر لاکھوں انسانوں کی جانیں لے لیتی ہیں دنیا میں جنگوں کو روکنے کے لیے بہت کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن وہ اس لیے کامیاب نہ ہوسکیں کہ ان کی اصل وجہ کا کوئی حل نہیں نکالا گیا، دنیا میں لڑی جانے والی جنگیں خواہ وہ مذہب کے نام پر لڑی گئی ہوں یا قومی مفاد کے نام پر، ان کے ختم ہونے کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے، ہر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف انسان کا بچہ ہوتا ہے۔

اسے ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، امریکی، روسی، ہندوستانی، پاکستانی، چینی بنانے والے ماحول اور خاندان ہوتا ہے، اسی طرح دنیا کا ہر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف انسان ہوتا ہے، مذہبی اور قومی تفریق انسانوں کی پیدا کردہ ہوتی ہے، انسان کتنا بڑا احمق ہے کہ وہ خود مذہبی اور قومی تفریق پیدا کرتا ہے اور اسی تفریق کے نام پر ایک دوسرے کا خون بہاتا ہے، ایک دوسرے سے نفرت کرتا ہے۔
Load Next Story