واٹر بورڈ مضر صحت پانی فراہم کر رہا ہے تحقیقاتی رپورٹ

وائرل بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ،آلودہ پانی سے ڈائریا، ہیضے سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعدادمیں اضافہ.

نیگلیریا جراثیم کے پھیلائوکا سبب بھی واٹربورڈ ہے،بعض تفتیشی اور تحقیقی اداروں نے رپورٹ حاصل کرلی،واٹربورڈ کے افسران کیخلاف کارروائی متوقع ہے،ذرائع. فوٹو: فائل

کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ شہریوں کو مضر صحت پانی فراہم کررہا ہے جس کے باعث کراچی کسی بھی وقت وبائی امراض کی لپیٹ میں آسکتا ہے ۔

شہر میں فراہم کیے جانیوالے پانی میں کلورین شامل ہی نہیں ہے یا پھر صرف دکھاوے کیلیے شامل کی گئی ہے جومطلوبہ مقدار کے مطابق نہیں ہے جس کے باعث شہریوں کو جراثیم سے لبریز پانی فراہم کیا جارہا ہے، دماغ چاٹنے والا نیگلیریا جراثیم کے پھیلائوکا سبب بھی واٹربورڈ ہے ،یہ خوفناک انکشاف ای ڈی او ہیلتھ کی ہدایت پرقائم کی جانے والی کمیٹی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ جب کراچی میں واٹربورڈ کی غفلت اور نااہلی کے باعث نیگلیریا جراثیم کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی گئی تو تحقیقات کے دوران کمیٹی کے ممبران انگشت بدنداں رہ گئے۔

واٹربورڈ کی انتظامیہ کراچی کے شہریوں کے ساتھ کتنا سنگین مذاق کررہی ہے ،واٹربورڈ میں تعینات افسران کراچی کے شہریوں سے کس بات کا انتقام لے رہے ہیں جن لوگوں کی ذمے داری کراچی کے شہریوں کو شفاف پانی فراہم کرنا ہے، وہ افسران چند ٹکوں کے حصول کے لیے شہریوں کے ساتھ کتنا شرمناک کھیل کھیل رہے ہیں ،شہر میں جراثیم سے بھرا ہوا پانی فراہم کیا جارہا ہے ،شہر میں پانی کی فراہمی کا کوئی بھی مقام ایسا نہیں ہے جہاں پر کلورین کی مقدار مطلوبہ معیار کے مطابق ہو، ذرائع نے بتایا کہ وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد نے ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر امداد اﷲ صدیقی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جس میں کہا گیا تھا کہ کراچی کے تمام ٹاؤنز سے پینے کے پانی کے نمونے حاصل کرکے ان کے کیمیائی تجزیے کیے جائیں۔


پانی کے نمونے سٹی گورنمنٹ کے کوالٹی کنٹرول بورڈ کے سینئر ڈاکٹر محمد عرفان کی سربراہی میں حاصل کیے گئے جس کی تصدیق سٹی گورنمنٹ کی لیبارٹری نے کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری کلورین کے بغیر پینے کا پانی استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے کراچی کے شہریوں کو پانی کی متعدد بیماریوں کا سامنا ہے، ان میں نیگلیریا کا مرض بھی شامل ہے جبکہ آلودہ پانی سے ڈائریا، ہیضہ سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے،کوالٹی کنٹرول حکام اور لیبارٹری رپورٹ کے مطابق کراچی میں فراہم کیاجانے والا پینے کا پانی آلودہ ہے اور 95فیصد علاقوں میں فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین شامل نہیں ۔

تاہم بعض ٹاؤنز کے پانی میں کلورین کی آمیزش کی گئی ہے لیکن ان کی مقدار 0.5 سے بھی کم بتائی گئی ہے، پینے کے پانی کو مختلف بیکٹیریا اور پانی کی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلیے کلورین کی مقدار 0.5 شامل کی جاتی ہے تاکہ پانی کے اندرکسی بھی اقسام کے جراثیم کی نشوونما نہ ہوسکے، ماہرین کے مطابق پانی میںکلورین کی مطلوبہ مقدار شامل نہ کرنے سے پانی کے اندر نیگلیریا اور ایکولائی سمیت دیگر اقسام کے بیکٹیریا کی نشوونما شروع ہوجاتی ہے جو مختلف امراض کا باعث بنتی ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں اچانک نیگلیریا کے مرض سے ہونیو الی اموات کے بعدوزیرصحت ڈاکٹر صغیراحمد نے ای ڈی او ہیلتھ کراچی کوفراہم کیاجانے والے پانی کے نمونے حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی ، ای ڈی او ہیلتھ نے ڈاکٹر اسلم پرویزاور ڈاکٹر عرفان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جس نے کراچی کے18ٹاؤنز سے بدھ کوپانی کے تمام نمونے حاصل کرکے ان کے کیمیائی تجزیے کیے جس میں انکشاف کیاگیا ہے کہ کراچی کے عوام کو فراہم کیاجانے والا پینے کا پانی مضر صحت ہے اور اس پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار شامل نہیں جس کی وجہ سے کراچی میںبیماریوں اور اموات ہورہی ہیں جبکہ دوسری جانب سے عوام میں بھی تشویش اور خوف کی لہر پائی جاتی ہے ،ذرائع نے بتایا کہ اس کمیٹی نے اس تمام تر صورتحال کی ذمے داری واٹربورڈ پر عائد کردی ہے،بعض تفتیشی اور تحقیقاتی اداروں نے رپورٹ تحقیقاتی کمیٹی سے حاصل کرلی ہے ،اس رپورٹ کی بنیاد پر واٹربورڈ کے افسران کے خلاف کارروائی متوقع ہے۔
Load Next Story