منگھو پیر بھتہ نہ دینے پر فیکٹری ملازمین کی بس پر فائرنگ2 افراد زخمی
منگھوپیر میں موٹر سائیکل سوار مخصوص گروپ علاقے میں دہشت کی علامت بنا ہوا ہے
بھتہ مافیا کی جانب سے منگھوپیر ماربل فیکٹری ایریا میں قائم فیکٹریوں کے مالکان سے بھتہ طلب کیا جا رہا ہے. فوٹو: فائل
منگھوپیر میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے بھتہ نہ دینے پر مقامی فیکٹری کے ملازمین کو لانے والی بس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے ڈرائیور سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے۔
واقعے کے خلاف مشتعل افراد نے ناردرن بائی پاس پر احتجاجی دھرنا دیا اور ٹائر نذر آتش کر کے ٹریفک معطل کر دیا، منگھوپیر میں موٹر سائیکل سوار مخصوص گروپ علاقے میں دہشت کی علامت بنا ہوا ہے، تفصیلات کے مطابق منگھوپیر کے علاقے ناردرن بائی پاس پر موٹر سائیکلوں پر سوار ملزمان نے ٹائل بنانے والی مقامی فیکٹری کے ملازمین کو لانے والی بس نمبر JA-9157 پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں بس ڈرائیور ظفر اور ایک ملازم گلاب خان زخمی ہوگیا جبکہ بس میں سوار دیگر ملازمین نے سیٹوں کے نیچے چھپ کر اپنی جانیں بچائیں بس پر حملے کے بعد ملزمان ہوائی فائرنگ کر تے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے زخمی ہونے والوں کو فوری طورپر طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا۔
جبکہ واقعے کے خلاف مشتعل افراد نے منگھوپیر روڈ ، رحمانیہ موڑ ، حب ریور روڈ اور نصرت بھٹو کالونی جانے والی شاہراہوں پر دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دیا اور ٹائر نذر آتش کیے اس موقع پر مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ بھتہ مافیا کی جانب سے منگھوپیر ماربل فیکٹری ایریا میں قائم فیکٹریوں کے مالکان سے بھتہ گروپ کی جانب سے بھتہ طلب کیا جا رہا ہے،علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 4 سے 6 موٹر سائیکلوں پر مشتمل ایک مخصوص گروپ علاقے میں دہشت کی علامت بنا ہوا ہے اور ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق منگھوپیر تھانے میں تعینات کئی اہلکاروں نے وہاں سے اپنا تبادلہ کرالیا ہے جبکہ پولیس خود اس دہشت گرد گروپ سے خائف ہے اور ان کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کرتی ہے واضح رہے کہ منگھوپیر ماربل ایریا میں بھتہ خوری کے حوالے سے آئی جی سندھ فیاض لغاری کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ماربل فیکٹری ایریا میں پولیس گشت اور سیکیورٹی کے فول پروف اقدامات کو یقینی بنائیں۔
تاہم آئی جی سندھ کی ہدایت کو سنجیدگی نہیں لیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کے بھتہ مافیا کے کارندے آزادانہ فیکٹری ملازمین کی بس پر فائرنگ کر کے فرار ہوگئے ، مشتعل افراد کے احتجاج کی اطلاع پر پولیس کے افسران موقع پر پہنچ گئے جنھوں نے ملزمان کی گرفتاری اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر کر کے ٹریفک بحال کرا دی ۔
واقعے کے خلاف مشتعل افراد نے ناردرن بائی پاس پر احتجاجی دھرنا دیا اور ٹائر نذر آتش کر کے ٹریفک معطل کر دیا، منگھوپیر میں موٹر سائیکل سوار مخصوص گروپ علاقے میں دہشت کی علامت بنا ہوا ہے، تفصیلات کے مطابق منگھوپیر کے علاقے ناردرن بائی پاس پر موٹر سائیکلوں پر سوار ملزمان نے ٹائل بنانے والی مقامی فیکٹری کے ملازمین کو لانے والی بس نمبر JA-9157 پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں بس ڈرائیور ظفر اور ایک ملازم گلاب خان زخمی ہوگیا جبکہ بس میں سوار دیگر ملازمین نے سیٹوں کے نیچے چھپ کر اپنی جانیں بچائیں بس پر حملے کے بعد ملزمان ہوائی فائرنگ کر تے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے زخمی ہونے والوں کو فوری طورپر طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا۔
جبکہ واقعے کے خلاف مشتعل افراد نے منگھوپیر روڈ ، رحمانیہ موڑ ، حب ریور روڈ اور نصرت بھٹو کالونی جانے والی شاہراہوں پر دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دیا اور ٹائر نذر آتش کیے اس موقع پر مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ بھتہ مافیا کی جانب سے منگھوپیر ماربل فیکٹری ایریا میں قائم فیکٹریوں کے مالکان سے بھتہ گروپ کی جانب سے بھتہ طلب کیا جا رہا ہے،علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 4 سے 6 موٹر سائیکلوں پر مشتمل ایک مخصوص گروپ علاقے میں دہشت کی علامت بنا ہوا ہے اور ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق منگھوپیر تھانے میں تعینات کئی اہلکاروں نے وہاں سے اپنا تبادلہ کرالیا ہے جبکہ پولیس خود اس دہشت گرد گروپ سے خائف ہے اور ان کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کرتی ہے واضح رہے کہ منگھوپیر ماربل ایریا میں بھتہ خوری کے حوالے سے آئی جی سندھ فیاض لغاری کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ماربل فیکٹری ایریا میں پولیس گشت اور سیکیورٹی کے فول پروف اقدامات کو یقینی بنائیں۔
تاہم آئی جی سندھ کی ہدایت کو سنجیدگی نہیں لیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کے بھتہ مافیا کے کارندے آزادانہ فیکٹری ملازمین کی بس پر فائرنگ کر کے فرار ہوگئے ، مشتعل افراد کے احتجاج کی اطلاع پر پولیس کے افسران موقع پر پہنچ گئے جنھوں نے ملزمان کی گرفتاری اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر کر کے ٹریفک بحال کرا دی ۔