دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے
بلاشبہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کا آپس میں گہرا رشتہ ہے
بلاشبہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کا آپس میں گہرا رشتہ ہے، فوٹو:فائل
بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پیر کو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے ہیڈکوارٹر ز کا دورہ کیا۔ انھیں اے این ایف کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل خاور حنیف نے ادارے کے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے سلسلے میں آپریشنز اور دیگر متعلقہ معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انھیں اے این ایف کی اس حکمت عملی اور کوششوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جو یہ ادارہ منشیات سے پاک معاشرے کو یقینی بنانے کے لیے کررہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقعے پر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی پیداوار میں ملوث افراد قومی سلامتی کے لیے اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے کہ دہشتگرد۔ منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والی رقم کو دہشتگردی پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اس لیے منشیات کے تاجروں سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔ ہم منشیات فروشوں، مالی معاونت کاروں اور دہشتگردی پھیلانے والوں کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے۔ ہم منشیات کے سوداگروں کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کریں اور ان پر منفی طور پر اثرانداز ہوں۔
بلاشبہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کا آپس میں گہرا رشتہ ہے'چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے درست کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی پیداوار میں ملوث افراد قومی سلامتی کے لیے اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے کہ دہشت گرد ۔دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کی فنانسنگ روکی جائے۔
یہ فنانسنگ کن ذرایع سے ہوتی ہے' یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ منشیات کی پیداوار اور اس کی اسمگلنگ دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کا بنیادی اور بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ جرائم پیشہ گروہ بھی دہشت گردوں کو رقم فراہم کرتے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگ اغوا برائے تاوان 'بینک ڈکیتیوں اور اس قسم کے دیگر جرائم بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ جوئے کے کاروبار کے ذریعے بھی دہشت گردوں کو فنانس کیا جاتا ہے۔ مختلف مقاصد کے لیے چندہ اکٹھا کرکے بھی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ان تمام معاملات پر پوری توجہ دی جائے۔ منشیات اسمگلنگ کو روکنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان جنگ کے دوران پاکستان میں منشیات کی پیداوار اور فروخت دھڑلے سے ہوتی رہی ہے۔ اس وقت انتظامیہ نے اس معاملے میں آنکھیں بند کیے رکھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ منشیات پیدا کرنے والے' اسے اسمگل کرنے والے اور فروخت کرنے والے اشرافیہ میں شامل ہو گئے۔ یہ لوگ دہشت گردوں کے مالی سپورٹر بھی بنے اور معززین کی صف میں بھی شامل ہو گئے۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ دھندا انتظامیہ کی مدد کے بغیر ہوتا رہا ہے۔
پاکستان میں کرپشن کا جو دور دورہ ہے اس کی جڑیں بھی دہشت گردی سے ملتی ہیں۔ افغان جنگ کے دوران مختلف نوعیت کی تنظیموں اور گروہوں کو غیر قانونی انداز میں سرمایہ مہیا ہوتا رہا۔ یہیں سے منی لانڈرنگ کی وبا پھیلی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کے معاشرے میں ہر قسم کی برائیوں کا پھیلاؤ افغان جنگ کے دوران ہوا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان برائیوں کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ اگر ان برائیوں کا خاتمہ نہ کیاگیا توپاکستان کی سلامتی اور بقاء کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنز سے ان کے نظر آنے والے ٹھکانے تو ختم کیے جا سکتے ہیں' لیکن ان کی جڑیں ختم کرنے کے لیے ان ذرایع کا خاتمہ بھی ضروری ہے جہاں سے دہشت گرد تنظیمیں زندگی حاصل کرتی ہیں۔
یہ ذرایع ریاستی اداروں میں بھی موجود ہیں اور اس اشرافیہ میں بھی جس کی اٹھان افغان جنگ کے دوران ہوئی ہے۔ ملک میں کام کرنے والی سیاسی جماعتوں میں بھی ایسا طبقہ موجود ہو سکتا ہے جو دہشت گردوں کے لیے باعث اطمینان ہے۔ دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے والا خوا ہ کوئی بھی ہو'اس سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جانا چاہیے۔ ماضی میں کی گئی کوتاہیاں 'مصلحت اندیشی اور غفلت نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اب مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔
پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے ' اب جمہوری حکومت کے زیر انتظام اداروں اور ایجنسیوں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردی اور منشیات فروشی کے گٹھ جوڑ کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان میں اداروں کو دیدہ دانستہ کے تحت زوال پذیر کیا گیا۔ اب ان اداروں کے وقار کو بحال کیا جانا ضروری ہے۔ اگر ملک کے ادارے 'بیوروکریسی 'عدلیہ اور پولیس تندہی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کریں تو پاکستان کو دہشت گردوں 'منشیات اسمگلروں اور دیگر ملک دشمنوں سے پاک کرنا مشکل نہیں ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقعے پر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی پیداوار میں ملوث افراد قومی سلامتی کے لیے اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے کہ دہشتگرد۔ منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والی رقم کو دہشتگردی پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اس لیے منشیات کے تاجروں سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔ ہم منشیات فروشوں، مالی معاونت کاروں اور دہشتگردی پھیلانے والوں کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے۔ ہم منشیات کے سوداگروں کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کریں اور ان پر منفی طور پر اثرانداز ہوں۔
بلاشبہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کا آپس میں گہرا رشتہ ہے'چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے درست کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی پیداوار میں ملوث افراد قومی سلامتی کے لیے اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے کہ دہشت گرد ۔دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کی فنانسنگ روکی جائے۔
یہ فنانسنگ کن ذرایع سے ہوتی ہے' یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ منشیات کی پیداوار اور اس کی اسمگلنگ دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کا بنیادی اور بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ جرائم پیشہ گروہ بھی دہشت گردوں کو رقم فراہم کرتے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگ اغوا برائے تاوان 'بینک ڈکیتیوں اور اس قسم کے دیگر جرائم بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ جوئے کے کاروبار کے ذریعے بھی دہشت گردوں کو فنانس کیا جاتا ہے۔ مختلف مقاصد کے لیے چندہ اکٹھا کرکے بھی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ان تمام معاملات پر پوری توجہ دی جائے۔ منشیات اسمگلنگ کو روکنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان جنگ کے دوران پاکستان میں منشیات کی پیداوار اور فروخت دھڑلے سے ہوتی رہی ہے۔ اس وقت انتظامیہ نے اس معاملے میں آنکھیں بند کیے رکھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ منشیات پیدا کرنے والے' اسے اسمگل کرنے والے اور فروخت کرنے والے اشرافیہ میں شامل ہو گئے۔ یہ لوگ دہشت گردوں کے مالی سپورٹر بھی بنے اور معززین کی صف میں بھی شامل ہو گئے۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ دھندا انتظامیہ کی مدد کے بغیر ہوتا رہا ہے۔
پاکستان میں کرپشن کا جو دور دورہ ہے اس کی جڑیں بھی دہشت گردی سے ملتی ہیں۔ افغان جنگ کے دوران مختلف نوعیت کی تنظیموں اور گروہوں کو غیر قانونی انداز میں سرمایہ مہیا ہوتا رہا۔ یہیں سے منی لانڈرنگ کی وبا پھیلی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کے معاشرے میں ہر قسم کی برائیوں کا پھیلاؤ افغان جنگ کے دوران ہوا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان برائیوں کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ اگر ان برائیوں کا خاتمہ نہ کیاگیا توپاکستان کی سلامتی اور بقاء کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنز سے ان کے نظر آنے والے ٹھکانے تو ختم کیے جا سکتے ہیں' لیکن ان کی جڑیں ختم کرنے کے لیے ان ذرایع کا خاتمہ بھی ضروری ہے جہاں سے دہشت گرد تنظیمیں زندگی حاصل کرتی ہیں۔
یہ ذرایع ریاستی اداروں میں بھی موجود ہیں اور اس اشرافیہ میں بھی جس کی اٹھان افغان جنگ کے دوران ہوئی ہے۔ ملک میں کام کرنے والی سیاسی جماعتوں میں بھی ایسا طبقہ موجود ہو سکتا ہے جو دہشت گردوں کے لیے باعث اطمینان ہے۔ دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے والا خوا ہ کوئی بھی ہو'اس سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جانا چاہیے۔ ماضی میں کی گئی کوتاہیاں 'مصلحت اندیشی اور غفلت نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اب مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔
پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے ' اب جمہوری حکومت کے زیر انتظام اداروں اور ایجنسیوں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردی اور منشیات فروشی کے گٹھ جوڑ کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان میں اداروں کو دیدہ دانستہ کے تحت زوال پذیر کیا گیا۔ اب ان اداروں کے وقار کو بحال کیا جانا ضروری ہے۔ اگر ملک کے ادارے 'بیوروکریسی 'عدلیہ اور پولیس تندہی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کریں تو پاکستان کو دہشت گردوں 'منشیات اسمگلروں اور دیگر ملک دشمنوں سے پاک کرنا مشکل نہیں ہے۔