عالمی بینک کا ملکی معیشت کی بحالی پر اطمینان
پاکستان کے اقتصادی افق پر ملکی معیشت کے حوالے سے خوشگوار تجزیوں اور مثبت اشاریوں کی نوید مل رہی ہے
پاکستان کے اقتصادی افق پر ملکی معیشت کے حوالے سے خوشگوار تجزیوں اور مثبت اشاریوں کی نوید مل رہی ہے، فوٹو:فائل
پاکستان کے اقتصادی افق پر ملکی معیشت کے حوالے سے خوشگوار تجزیوں اور مثبت اشاریوں کی نوید مل رہی ہے جسے پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجز کی روشنی میں ایک بریک تھرو کہا جاسکتا ہے، عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر سری ملیانی اندراواتی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت پر نجی اور سرکاری شعبے میں اعتماد کی بحالی خوش آیند ہے اور عالمی بینک کے نزدیک پاکستان ایک قابل اعتماد پارٹنر ہے ۔
بلاشبہ پاکستانی معیشت کے قدموں پر کھڑے ہونے کے امکانات کو حقیقت میں بدلتے دیکھ کراس بات کی امید بنتی نظر آتی ہے کہ حکومت امدادی پیکیجز اور قرضوں سے ماورا ایک ایسے منصفانہ و مساویانہ اقتصادی نظام کی بنیاد رکھنے کی عملی کوششوں پر انحصار کریگی جس کے بعد ملک خود کفالتی کی منزل کے قریب ہوجائے اور ہر قسم کی معاشی بیساکھیوں اور بھاری غیر ملکی قرضوں سے قوم کی جان چھوٹ جائے۔
تاہم عالمی مالیاتی ادارے ملکی ترقی اور معاشی اہداف کے حصول میں پاکستان سے مزید تعاون کرنے کا جو عندیہ دے رہے ہیں ان سے استفادے کی حتمی خواہش بھی ملکی خود کفالت سے منسلک رہنی چاہیے۔ عالمی بینک کی نمایندہ کی وزیراعظم نواز شریف سے منگل کو ملاقات بھی اسی ضمن میں ہوئی ہے جس میں انھوں نے پاکستان کو چار سالوں پر محیط دو بلین ڈالر امدادی پیکیج کی پیشکش کی ہے۔
جس پر وزیراعظم نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترقیاتی ترجیح توانائی، معیشت اور تعلیم ہے۔ وزیراعظم نے خطے میں اقتصادی ترقی کے کیے ریل اورشاہراہوں کی تعمیر کو فاصلوں کے سمٹنے سے تعبیر کیا اور علاقائی معیشتوں کے مابین تعلقات اور قریبی روابط پر زور دیا، انھوں نے ملیانی مایاوتی کو بتایا کہ حکومت کراچی سے گوادر اور پھر ترکمانستان کے شہر ترمیز تک اس مواصلاتی رابطہ کا ہدف مکمل کریگی جہاں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ یہ اقتصادی روڈ میپ حکومت کی توجہ کا مرکز ہے اور وقت ہی ثابت کریگا کہ اس منصوبہ کی تکمیل کے بعد ملکی معیشت کو عالمی اقتصادی طاقتوں میں کون سا مقام حاصل ہوگا،اس وقت بھی ملکی معیشت کو دنیا کی اہم اور طاقتور معیشتون میں جو پزیرائی مل رہی ہے اس کا ٹمپو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس اقتصادی جست میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق دار کی کوششوں کی تعریف نہ کرنا صریحاًبے انصافی ہوگی جو عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی بینک سے ہر ممکن تعاون اور ملکی اقتصادی منصوبوں کی بر وقت تکمیل کے لیے معاشی روڈ میپ پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ امن اور ترقی پاکستان کا بنیادی سیاسی اور معاشی ایجنڈا ہونا چاہیے۔ اقتصادی استحکام در حقیقت جمہوریت کی بقا اور عوامی فلاح و بہبود کے ٹارگٹ کو پانے کے لیے اشد ضروری ہے۔
پاکستان کو خطے میں معاشی استحکام کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا جب کہ معیشت سے متعلق بعض تشکیک پسند اقتصادی ماہرین اور میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوںاور بے بنیاد تجزیوں کو غیر موثر کرنا بھی ضروری ہے ۔ بہر کیف ملکی معیشت کے استحکام، ترقی اور سرکاری و نجی شعبے کے حکومتی معاشی اقدامات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کے حوالہ سے عالمی بینک کا اطمینان ہر پاکستانی کے لیے قابل قدر اور باعث مسرت ہونا چاہیے۔
بلاشبہ پاکستانی معیشت کے قدموں پر کھڑے ہونے کے امکانات کو حقیقت میں بدلتے دیکھ کراس بات کی امید بنتی نظر آتی ہے کہ حکومت امدادی پیکیجز اور قرضوں سے ماورا ایک ایسے منصفانہ و مساویانہ اقتصادی نظام کی بنیاد رکھنے کی عملی کوششوں پر انحصار کریگی جس کے بعد ملک خود کفالتی کی منزل کے قریب ہوجائے اور ہر قسم کی معاشی بیساکھیوں اور بھاری غیر ملکی قرضوں سے قوم کی جان چھوٹ جائے۔
تاہم عالمی مالیاتی ادارے ملکی ترقی اور معاشی اہداف کے حصول میں پاکستان سے مزید تعاون کرنے کا جو عندیہ دے رہے ہیں ان سے استفادے کی حتمی خواہش بھی ملکی خود کفالت سے منسلک رہنی چاہیے۔ عالمی بینک کی نمایندہ کی وزیراعظم نواز شریف سے منگل کو ملاقات بھی اسی ضمن میں ہوئی ہے جس میں انھوں نے پاکستان کو چار سالوں پر محیط دو بلین ڈالر امدادی پیکیج کی پیشکش کی ہے۔
جس پر وزیراعظم نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترقیاتی ترجیح توانائی، معیشت اور تعلیم ہے۔ وزیراعظم نے خطے میں اقتصادی ترقی کے کیے ریل اورشاہراہوں کی تعمیر کو فاصلوں کے سمٹنے سے تعبیر کیا اور علاقائی معیشتوں کے مابین تعلقات اور قریبی روابط پر زور دیا، انھوں نے ملیانی مایاوتی کو بتایا کہ حکومت کراچی سے گوادر اور پھر ترکمانستان کے شہر ترمیز تک اس مواصلاتی رابطہ کا ہدف مکمل کریگی جہاں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ یہ اقتصادی روڈ میپ حکومت کی توجہ کا مرکز ہے اور وقت ہی ثابت کریگا کہ اس منصوبہ کی تکمیل کے بعد ملکی معیشت کو عالمی اقتصادی طاقتوں میں کون سا مقام حاصل ہوگا،اس وقت بھی ملکی معیشت کو دنیا کی اہم اور طاقتور معیشتون میں جو پزیرائی مل رہی ہے اس کا ٹمپو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس اقتصادی جست میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق دار کی کوششوں کی تعریف نہ کرنا صریحاًبے انصافی ہوگی جو عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی بینک سے ہر ممکن تعاون اور ملکی اقتصادی منصوبوں کی بر وقت تکمیل کے لیے معاشی روڈ میپ پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ امن اور ترقی پاکستان کا بنیادی سیاسی اور معاشی ایجنڈا ہونا چاہیے۔ اقتصادی استحکام در حقیقت جمہوریت کی بقا اور عوامی فلاح و بہبود کے ٹارگٹ کو پانے کے لیے اشد ضروری ہے۔
پاکستان کو خطے میں معاشی استحکام کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا جب کہ معیشت سے متعلق بعض تشکیک پسند اقتصادی ماہرین اور میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوںاور بے بنیاد تجزیوں کو غیر موثر کرنا بھی ضروری ہے ۔ بہر کیف ملکی معیشت کے استحکام، ترقی اور سرکاری و نجی شعبے کے حکومتی معاشی اقدامات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کے حوالہ سے عالمی بینک کا اطمینان ہر پاکستانی کے لیے قابل قدر اور باعث مسرت ہونا چاہیے۔