بلدیاتی انتخابات تاخیر پہ تاخیر
محکمہ بلدیات سونے کی چڑیا ہے جس کا مقصد اپنے مالی وسائل خود پیدا کر کے ان وسائل سے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہے
لاہور:
الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک بار پھر عین موقعے پر جاگ اٹھا اور اس نے 20 ستمبر تک سندھ اور پنجاب میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا پرانا جواز سپریم کورٹ میں پیش کر کے ایک ماہ کی مزید مہلت طلب کر لی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر کا ذمے دار ایک بار پھر سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کو قرار دیا ہے کہ یہ دونوں 20 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نہیں ہیں اور حلقہ بندیوں کا کام مکمل نہیں ہوا جس کا اعلان 28 جولائی کو ہونا تھا۔
سپریم کورٹ نے غالباً گزشتہ سال سندھ و پنجاب کی حکومتوں کی متنازعہ حلقہ بندیوں کو مسترد کر کے یہ اختیار الیکشن کمیشن کو دیا تھا کہ وہ خود منصفانہ حلقہ بندیوں کرا کر انھیں مشتہر کرے اور اعتراضات نمٹا کر جولائی میں حلقہ بندیاں فائنل کر کے 20 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کرائے۔
سندھ اور پنجاب کی حکومتوں اور الیکشن کمیشن نے باہمی ملی بھگت کے ذریعے بلدیاتی انتخابات سے فرار کا طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے اور یہ تینوں سپریم کورٹ کو گمراہ کر کے عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرتے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک کے دو بڑے صوبوں کے عوام کو بلدیاتی انتخابات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اﷲ نے بیان دیا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہے جب کہ سندھ کے سابق وزیر بلدیات شرجیل میمن بھی جولائی تک دعویٰ کرتے آئے کہ سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کے لیے تیار ہے اور کے پی کے انتخابات میں جو کچھ ہوا۔ اس کی وجہ سے سندھ میں ایک ہی روز بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
سندھ اور پنجاب کی حکومتیں خود کو تیار ظاہر کر کے تاخیر کا ذمے دار الیکشن کمیشن کو قرار دے دیتی ہیں اور خود الیکشن کمیشن اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا ذمے دار سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کو قرار دے دیتا ہے اور دونوں طرف سے تاخیر پہ تاخیر کے ڈرامے ایک عرصے سے جاری ہیں جب کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان بھی کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا ذمے دار الیکشن کمیشن کو قرار دیا کرتے تھے۔
بلوچستان میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کی موجودگی میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر ڈیڑھ سال قبل الیکشن کمیشن نے مجبوراً انتخابات کرائے تھے، بعد میں سوا سال بعد کے پی کے میں بھی بلدیاتی انتخابات کرائے گئے جہاں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان اقتدار میں آتے ہی عمران خان نے 90 روز کا کہا تھا اور اس میں بھی ایک سال کی تاخیر ہوئی اور 30 جولائی کو کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
سندھ کے نئے وزیر بلدیات سید ناصر شاہ جو خود 8 سال تک ضلع سکھر کے ناظم رہے ہیں اور ذاتی طور پر بلدیاتی نظام کے حامی ہیں مگر انھوں نے بھی وزیر بنتے ہی موقف میں کچھ تبدیلی کر لی ہے اور اب کہا ہے کہ رواں سال بلدیاتی انتخابات کا سال ہے، جو ستمبر میں نہ ہو سکے تو اکتوبر نومبر یا دسمبر تک ضرور ہو جائیں گے۔
محکمہ بلدیات سونے کی چڑیا ہے جس کا مقصد اپنے مالی وسائل خود پیدا کر کے ان وسائل سے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہے مگر اب محکمہ بلدیات پر راج کرنے والوں کے مقاصد تبدیل ہو گئے ہیں۔ یہ ایسا محکمہ ہے جس کا وزیر بننے والے کے ایسے وارے نیارے ہو جاتے ہیں کہ اس کی آنے والی نسلوں کو بھی کمانے کی فکر نہیں ہوتی، محکمہ بلدیات میں بلدیاتی الیکشن نہ ہونے پر وزیر بلدیات اور سیکریٹری بلدیات بادشاہ بنے ہوئے ہیں اور جنرل پرویز کے با اختیار ضلع نظام میں وزیر بلدیات اور سیکریٹری بے بس، ڈی سی او اور ای ڈی اوز ضلعی نظام کا ماتحت ہونے کی وجہ سے مجبور اور ناظمین مالی و انتظامی معاملے میں مکمل خود مختار تھے۔
بلدیاتی اداروں میں آسامیاں محدود ہوتی ہیں اور حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھنے اور مہنگائی کی وجہ سے ضلع نظام سے قبل بلدیاتی ادارے ترقیاتی کاموں کے لیے حکومتی گرانٹ کے محتاج ہوتے تھے، کیونکہ 1979ء کا جنرل ضیا کا بلدیاتی نظام بھی با اختیار نہیں تھا بلکہ کمشنری نظام کے ماتحت تھا اور بلدیاتی چیئرمینوں کو ممکنہ بلدیات کے علاوہ کمشنر، ڈپٹی و اسسٹنٹ کمشنروں کا حکم بھی ماننا پڑتا تھا اور وزیروں کے استقبالی انتظامات اور ان کے بے مقصد اجلاسوں کا انعقاد بھی کرنا پڑتا تھا مگر پھر بھی وہ اسی حالت میں تھے کہ اپنے عملے کو تنخواہیں وقت پر دے دیتے تھے اور کچھ ترقیاتی کام بھی کرا لیتے تھے کیوں کہ بلدیاتی عہدیداروں اور انجینئروں کو کسی شکایت کے بغیر گھر بیٹھے تعمیری کاموں کے ذریعے کمیشن مل جاتا تھا۔ جب کہ ضلعی نظام میں جہاں اچھے ناظمین تھے انھوں نے اپنے علاقوں میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے تھے۔ فرشتے تو یہ ناظمین بھی نہیں تھے مگر ان کے دور میں کرپشن اور کمیشن کم تھا اور ترقیاتی کام نظر آتے تھے۔
ضلع نظام ختم کر کے نام نہاد جمہوری حکومتوں نے کمشنری نظام بحال کر کے بلدیاتی اداروں پر سرکاری ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیے اور تمام بلدیاتی وسائل محکمہ بلدیات کے کنٹرول میں آ گئے اور پھر چھ سالوں مین ان اداروں میں جو لوٹ مار مچی۔ ایڈمنسٹریٹروں اور انجینئروں کے تبادلے و تقرر لاکھوں روپے کی رشوت کے عوض ہوئے۔
بلدیاتی اداروں میں سیاسی بنیاد پر غیر ضروری بھرتیاں کرائی گئیں، اس کے نتیجے میں سندھ کے بلدیاتی ادارے مالی طور پر تباہ کرا دیے گئے اور وہ اپنے ملازمین کو وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی کے قابل بھی نہیں چھوڑے گئے، بلدیاتی ادارے 6 سال سے مالی بحران میں مبتلا ہیں، کرپشن کا بازار گرم کر دیا گیا، رشوت لے کر تجاوزات قائم کرائی گئیں۔ ایس ٹی پلاٹ، شادی ہال بنوا دیے گئے، سرکاری زمینیں کوڑیوں کے مول فروخت کی گئیں، اقربا پروری، ملازمتوں کی فروخت اور من مانیوں کی انتہا کر دی گئی اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں بلدیاتی اداروں کو جو نقصان پہنچا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
سابق صدر آصف زرداری اور 5 سال وزیر بلدیاتی رہنے والے آغا سراج درانی نے متعدد بار سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا مگر کوئی وعدہ پورا نہ ہوا۔
سپریم کورٹ کی سختی سے سندھ و پنجاب میں 20 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کا حکم جاری ہوا مگر دونوں صوبائی حکومتیں اور الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنے رہے اور کسی کو وقت پر حلقہ بندیوں کا خیال نہ آیا اور اب ستمبر قریب آتا دیکھ کر بھی تینوں بلدیاتی انتخابات کرانے میں مخلص نہیں ہیں اور مزید تاخیر کے لیے مہلت طلب کی جا رہی ہے اور اب عوام کی نظریں پھر سپریم کورٹ پر ہیں اور عوام کو اپنے بنیادی حق سے مسلسل محروم رکھا جا رہاہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک بار پھر عین موقعے پر جاگ اٹھا اور اس نے 20 ستمبر تک سندھ اور پنجاب میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا پرانا جواز سپریم کورٹ میں پیش کر کے ایک ماہ کی مزید مہلت طلب کر لی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر کا ذمے دار ایک بار پھر سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کو قرار دیا ہے کہ یہ دونوں 20 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نہیں ہیں اور حلقہ بندیوں کا کام مکمل نہیں ہوا جس کا اعلان 28 جولائی کو ہونا تھا۔
سپریم کورٹ نے غالباً گزشتہ سال سندھ و پنجاب کی حکومتوں کی متنازعہ حلقہ بندیوں کو مسترد کر کے یہ اختیار الیکشن کمیشن کو دیا تھا کہ وہ خود منصفانہ حلقہ بندیوں کرا کر انھیں مشتہر کرے اور اعتراضات نمٹا کر جولائی میں حلقہ بندیاں فائنل کر کے 20 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کرائے۔
سندھ اور پنجاب کی حکومتوں اور الیکشن کمیشن نے باہمی ملی بھگت کے ذریعے بلدیاتی انتخابات سے فرار کا طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے اور یہ تینوں سپریم کورٹ کو گمراہ کر کے عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرتے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک کے دو بڑے صوبوں کے عوام کو بلدیاتی انتخابات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اﷲ نے بیان دیا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہے جب کہ سندھ کے سابق وزیر بلدیات شرجیل میمن بھی جولائی تک دعویٰ کرتے آئے کہ سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کے لیے تیار ہے اور کے پی کے انتخابات میں جو کچھ ہوا۔ اس کی وجہ سے سندھ میں ایک ہی روز بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
سندھ اور پنجاب کی حکومتیں خود کو تیار ظاہر کر کے تاخیر کا ذمے دار الیکشن کمیشن کو قرار دے دیتی ہیں اور خود الیکشن کمیشن اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا ذمے دار سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کو قرار دے دیتا ہے اور دونوں طرف سے تاخیر پہ تاخیر کے ڈرامے ایک عرصے سے جاری ہیں جب کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان بھی کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا ذمے دار الیکشن کمیشن کو قرار دیا کرتے تھے۔
بلوچستان میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کی موجودگی میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر ڈیڑھ سال قبل الیکشن کمیشن نے مجبوراً انتخابات کرائے تھے، بعد میں سوا سال بعد کے پی کے میں بھی بلدیاتی انتخابات کرائے گئے جہاں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان اقتدار میں آتے ہی عمران خان نے 90 روز کا کہا تھا اور اس میں بھی ایک سال کی تاخیر ہوئی اور 30 جولائی کو کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
سندھ کے نئے وزیر بلدیات سید ناصر شاہ جو خود 8 سال تک ضلع سکھر کے ناظم رہے ہیں اور ذاتی طور پر بلدیاتی نظام کے حامی ہیں مگر انھوں نے بھی وزیر بنتے ہی موقف میں کچھ تبدیلی کر لی ہے اور اب کہا ہے کہ رواں سال بلدیاتی انتخابات کا سال ہے، جو ستمبر میں نہ ہو سکے تو اکتوبر نومبر یا دسمبر تک ضرور ہو جائیں گے۔
محکمہ بلدیات سونے کی چڑیا ہے جس کا مقصد اپنے مالی وسائل خود پیدا کر کے ان وسائل سے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہے مگر اب محکمہ بلدیات پر راج کرنے والوں کے مقاصد تبدیل ہو گئے ہیں۔ یہ ایسا محکمہ ہے جس کا وزیر بننے والے کے ایسے وارے نیارے ہو جاتے ہیں کہ اس کی آنے والی نسلوں کو بھی کمانے کی فکر نہیں ہوتی، محکمہ بلدیات میں بلدیاتی الیکشن نہ ہونے پر وزیر بلدیات اور سیکریٹری بلدیات بادشاہ بنے ہوئے ہیں اور جنرل پرویز کے با اختیار ضلع نظام میں وزیر بلدیات اور سیکریٹری بے بس، ڈی سی او اور ای ڈی اوز ضلعی نظام کا ماتحت ہونے کی وجہ سے مجبور اور ناظمین مالی و انتظامی معاملے میں مکمل خود مختار تھے۔
بلدیاتی اداروں میں آسامیاں محدود ہوتی ہیں اور حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھنے اور مہنگائی کی وجہ سے ضلع نظام سے قبل بلدیاتی ادارے ترقیاتی کاموں کے لیے حکومتی گرانٹ کے محتاج ہوتے تھے، کیونکہ 1979ء کا جنرل ضیا کا بلدیاتی نظام بھی با اختیار نہیں تھا بلکہ کمشنری نظام کے ماتحت تھا اور بلدیاتی چیئرمینوں کو ممکنہ بلدیات کے علاوہ کمشنر، ڈپٹی و اسسٹنٹ کمشنروں کا حکم بھی ماننا پڑتا تھا اور وزیروں کے استقبالی انتظامات اور ان کے بے مقصد اجلاسوں کا انعقاد بھی کرنا پڑتا تھا مگر پھر بھی وہ اسی حالت میں تھے کہ اپنے عملے کو تنخواہیں وقت پر دے دیتے تھے اور کچھ ترقیاتی کام بھی کرا لیتے تھے کیوں کہ بلدیاتی عہدیداروں اور انجینئروں کو کسی شکایت کے بغیر گھر بیٹھے تعمیری کاموں کے ذریعے کمیشن مل جاتا تھا۔ جب کہ ضلعی نظام میں جہاں اچھے ناظمین تھے انھوں نے اپنے علاقوں میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے تھے۔ فرشتے تو یہ ناظمین بھی نہیں تھے مگر ان کے دور میں کرپشن اور کمیشن کم تھا اور ترقیاتی کام نظر آتے تھے۔
ضلع نظام ختم کر کے نام نہاد جمہوری حکومتوں نے کمشنری نظام بحال کر کے بلدیاتی اداروں پر سرکاری ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیے اور تمام بلدیاتی وسائل محکمہ بلدیات کے کنٹرول میں آ گئے اور پھر چھ سالوں مین ان اداروں میں جو لوٹ مار مچی۔ ایڈمنسٹریٹروں اور انجینئروں کے تبادلے و تقرر لاکھوں روپے کی رشوت کے عوض ہوئے۔
بلدیاتی اداروں میں سیاسی بنیاد پر غیر ضروری بھرتیاں کرائی گئیں، اس کے نتیجے میں سندھ کے بلدیاتی ادارے مالی طور پر تباہ کرا دیے گئے اور وہ اپنے ملازمین کو وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی کے قابل بھی نہیں چھوڑے گئے، بلدیاتی ادارے 6 سال سے مالی بحران میں مبتلا ہیں، کرپشن کا بازار گرم کر دیا گیا، رشوت لے کر تجاوزات قائم کرائی گئیں۔ ایس ٹی پلاٹ، شادی ہال بنوا دیے گئے، سرکاری زمینیں کوڑیوں کے مول فروخت کی گئیں، اقربا پروری، ملازمتوں کی فروخت اور من مانیوں کی انتہا کر دی گئی اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں بلدیاتی اداروں کو جو نقصان پہنچا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
سابق صدر آصف زرداری اور 5 سال وزیر بلدیاتی رہنے والے آغا سراج درانی نے متعدد بار سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا مگر کوئی وعدہ پورا نہ ہوا۔
سپریم کورٹ کی سختی سے سندھ و پنجاب میں 20 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کا حکم جاری ہوا مگر دونوں صوبائی حکومتیں اور الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنے رہے اور کسی کو وقت پر حلقہ بندیوں کا خیال نہ آیا اور اب ستمبر قریب آتا دیکھ کر بھی تینوں بلدیاتی انتخابات کرانے میں مخلص نہیں ہیں اور مزید تاخیر کے لیے مہلت طلب کی جا رہی ہے اور اب عوام کی نظریں پھر سپریم کورٹ پر ہیں اور عوام کو اپنے بنیادی حق سے مسلسل محروم رکھا جا رہاہے۔