دو ریٹائرڈ فوجی افسروں کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا
پاک فوج کے اندر احتساب کا بہت پختہ نظام شروع ہی سے قائم ہےاورعام آرمی افسران اس احتسابی نظام کی زد میں آتےرہتے ہیں
اگر ملک کے سویلین ادارے بھی فوج کے نظام کی پیروی کرتے ہوئے کرپشن مقدمات میں شفافیت کو اولیت دیں اور بدعنوانی کے مجرموں کو سزا دی جائے۔ فوٹو:فائل
نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) اسکینڈل میں ملوث دو ریٹائر جرنیلوں کوکورٹ مارشل کے ذریعے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سزا سنا دی گئی ہے، جب کہ تیسرے ریٹائرڈ جرنیل کو بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے اندر احتساب کا بہت پختہ نظام شروع ہی سے قائم ہے اور عام آرمی افسران اس احتسابی نظام کی زد میں آتے رہتے ہیں تاہم اتنے اعلیٰ درجے کے افسروں کے سر پر احتساب کی تلوار کا چلنا یقینا ایک غیر معمولی پیشرفت ہے جس کے یقینا بہت مثبت نتائج برامد ہوں گے۔ یہی اصول اگر بااثر سیاستدانوں اور اعلیٰ بیوروکریسی پر بھی نافذ کیا جا سکے تو پورے ملک سے کرپشن کا یقینی صفایا ہو سکتا ہے۔ انصاف کا اصول یہی ہے کہ اس میں اعلیٰ اور ادنیٰ کے ساتھ برابر کا سلوک کیا جائے۔
آرمی ایکٹ کے تحت گزشتہ روز جاری کیے گئے فیصلہ کے مطابق میجر جنرل (ر) خالد ظہیر اختر کو ان کی سابقہ فوجی ملازمت سے بھی برخاست کر دیا گیا ہے جس کے بعد ان کی تمام مراعات بھی ختم ہو جائیں گی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد افضل مظفر کو سخت ناخوشی Severe Displeasure) (Recordable کی صورت میں سزا دی گی ہے، جب کہ لیفٹیننٹ جنرل خالد منیر خان کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ سزائیں این ایل سی میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ہدایات اور رولز اینڈ ریگولیشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سرمایہ کاری پر دی گئی ہیں جو آرگنائزیشن کے لیے مالی نقصان کا باعث بنی۔ اس کا نوٹس فروری 2009ء میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے لیا جس کے اس وقت چیئرمین موجودہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان تھے جنہوں نے آرمی چیف کو ایکشن لینے کی سفارش کی تھی۔
نومبر 2010ء تک فوج نے ایک کورٹ آف انکوائری قائم کی جس کے بعد ستمبر 2011ء میں شہادتیں قلمبند کی گئیں، تاہم فیصلہ التواء میں پڑ گیا۔ اس دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے انصاف اور شفافیت کے لیے کیس کو تیزی سے نمٹانے کی ہدایت کی۔ اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی نے کیس کی دوبارہ تفتیش کی۔ کئی مہینے تک کمیٹی کے اجلاسوں میں سرمایہ کاری کے ریکارڈ کی قدر و قیمت لگانے اور تمام گواہان کے انٹرویوز کے بعد اب انکوائری مکمل ہو گئی ہے۔
جس میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ دو ریٹائرڈجرنیلوں اور ایک سویلین افسر سعید الرحمان بے شک این ایل سی کے رولز اینڈ ریگولیشنز کی خلاف ورزی اور سرمایہ کاری کے غلط فیصلوں کے ذمے دار ہیں، جو مذکورہ مدت کے دوران آرگنائزیشن کے مالیاتی نقصانات کا باعث بنے۔ نتیجتاً انکوائری کے نتائج کی روشنی میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت دو ریٹائرڈ جرنیلوں کو سزا سنا دی گئی ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کیس میں پاک فوج نے انصاف و احتساب کی اعلیٰ روایات برقرار رکھی ہیں۔ بلاشبہ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی' بے ضابطگی اور نااہلی ہے' اعلیٰ سطح پر ان خرابیوں کا ہونا ریاستی اداروں کے زوال کا سبب بنا ہے۔
اگر ملک کے سویلین ادارے بھی فوج کے نظام کی پیروی کرتے ہوئے کرپشن مقدمات میں شفافیت کو اولیت دیں اور بدعنوانی کے مجرموں کو سزا دی جائے تو وطن عزیز میں کرپشن' اقربا پروری اور دھوکا دہی کے کلچر کا خاتمہ ممکن ہوجائے گا۔
پاک فوج کے اندر احتساب کا بہت پختہ نظام شروع ہی سے قائم ہے اور عام آرمی افسران اس احتسابی نظام کی زد میں آتے رہتے ہیں تاہم اتنے اعلیٰ درجے کے افسروں کے سر پر احتساب کی تلوار کا چلنا یقینا ایک غیر معمولی پیشرفت ہے جس کے یقینا بہت مثبت نتائج برامد ہوں گے۔ یہی اصول اگر بااثر سیاستدانوں اور اعلیٰ بیوروکریسی پر بھی نافذ کیا جا سکے تو پورے ملک سے کرپشن کا یقینی صفایا ہو سکتا ہے۔ انصاف کا اصول یہی ہے کہ اس میں اعلیٰ اور ادنیٰ کے ساتھ برابر کا سلوک کیا جائے۔
آرمی ایکٹ کے تحت گزشتہ روز جاری کیے گئے فیصلہ کے مطابق میجر جنرل (ر) خالد ظہیر اختر کو ان کی سابقہ فوجی ملازمت سے بھی برخاست کر دیا گیا ہے جس کے بعد ان کی تمام مراعات بھی ختم ہو جائیں گی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد افضل مظفر کو سخت ناخوشی Severe Displeasure) (Recordable کی صورت میں سزا دی گی ہے، جب کہ لیفٹیننٹ جنرل خالد منیر خان کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ سزائیں این ایل سی میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ہدایات اور رولز اینڈ ریگولیشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سرمایہ کاری پر دی گئی ہیں جو آرگنائزیشن کے لیے مالی نقصان کا باعث بنی۔ اس کا نوٹس فروری 2009ء میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے لیا جس کے اس وقت چیئرمین موجودہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان تھے جنہوں نے آرمی چیف کو ایکشن لینے کی سفارش کی تھی۔
نومبر 2010ء تک فوج نے ایک کورٹ آف انکوائری قائم کی جس کے بعد ستمبر 2011ء میں شہادتیں قلمبند کی گئیں، تاہم فیصلہ التواء میں پڑ گیا۔ اس دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے انصاف اور شفافیت کے لیے کیس کو تیزی سے نمٹانے کی ہدایت کی۔ اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی نے کیس کی دوبارہ تفتیش کی۔ کئی مہینے تک کمیٹی کے اجلاسوں میں سرمایہ کاری کے ریکارڈ کی قدر و قیمت لگانے اور تمام گواہان کے انٹرویوز کے بعد اب انکوائری مکمل ہو گئی ہے۔
جس میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ دو ریٹائرڈجرنیلوں اور ایک سویلین افسر سعید الرحمان بے شک این ایل سی کے رولز اینڈ ریگولیشنز کی خلاف ورزی اور سرمایہ کاری کے غلط فیصلوں کے ذمے دار ہیں، جو مذکورہ مدت کے دوران آرگنائزیشن کے مالیاتی نقصانات کا باعث بنے۔ نتیجتاً انکوائری کے نتائج کی روشنی میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت دو ریٹائرڈ جرنیلوں کو سزا سنا دی گئی ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کیس میں پاک فوج نے انصاف و احتساب کی اعلیٰ روایات برقرار رکھی ہیں۔ بلاشبہ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی' بے ضابطگی اور نااہلی ہے' اعلیٰ سطح پر ان خرابیوں کا ہونا ریاستی اداروں کے زوال کا سبب بنا ہے۔
اگر ملک کے سویلین ادارے بھی فوج کے نظام کی پیروی کرتے ہوئے کرپشن مقدمات میں شفافیت کو اولیت دیں اور بدعنوانی کے مجرموں کو سزا دی جائے تو وطن عزیز میں کرپشن' اقربا پروری اور دھوکا دہی کے کلچر کا خاتمہ ممکن ہوجائے گا۔