جعلی شناختی کارڈ کی تصدیق پرگرفتاریاں

پاکستان میں جعلی شناختی کارڈوں کا مسئلہ افغان مہاجرین کی لاکھوں کی تعداد میں یہاں آنے کے بعد پیدا ہوا

جب سے دنیا کے ممالک میں شہریت کے شناختی کارڈ جاری کرنے کے نظام کا اجرا ہوا ہے اس کے بعد شہریت کی اہمیت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر غیر ملکیوں خصوصاً افغانوں کو پاکستانی شناختی کارڈز اور پاسپورٹ جاری کیے جانے کی اطلاعات بڑی پرانی ہیں۔ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ایک سابق ایم این اے اور اس کے چار ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا ہے' یہ حراست ایڈیشنل سیشن جج کوہاٹ کے حکم پر ہوئی' اخباری خبر کے مطابق سابق ایم این اے اور اس کے چار ساتھی ضمانت قبل از وقت پر تھے۔

جسے ایڈیشنل سیشن جج نے خارج کر دیا جس پر انھیں احاطۂ عدالت سے گرفتار کر کے ایک روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا، ملزموں کو نادرا حکام کی تحریری شکایت پر گرفتار کیا گیا ہے۔ جب سے دنیا کے ممالک میں شہریت کے شناختی کارڈ جاری کرنے کے نظام کا اجرا ہوا ہے اس کے بعد شہریت کی اہمیت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس حساس معاملے کے حوالے سے جعل سازیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔


پاکستان میں جعلی شناختی کارڈوں کا مسئلہ افغان مہاجرین کی لاکھوں کی تعداد میں یہاں آنے کے بعد پیدا ہوا۔ بہت سے افغان اپنی مہاجر بستیوں سے نکل کر مختلف شہری آبادیوں میں پھیل چکے ہیں اور ان میں سے بیشتر نے سرکاری اہلکاروں کی کرپشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا رکھے ہیں جن کے ذریعے وہ پاکستانی شہری کی حیثیت سے بیرون ملک سفر بھی کرتے ہیں اور اگر کسی غیر قانونی سرگرمی میں پکڑے جائیں تو پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

غیرملکیوں کے شناختی کارڈ کسی ذمے دار اہلکار کی ضمانت کے بغیر نہیں بن سکتے اور عدالت نے مندرجہ بالا معاملے میں جس سابق ایم این اے سمیت جن چار افراد کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کر کے انھیں گرفتار کروا دیا ہے اس سے آیندہ ذمے دار افراد کسی مشکوک شخص کی ضمانت دینے سے قبل سو مرتبہ سوچیں گے اور اس طرح جعلی شناختی کارڈ بنوانے کا دھندہ مشکل ہو جائے گا۔
Load Next Story