جمہوریت کے اسرار و رموز
کسی بھی ملک میں عوام کو بنیادی تبدیلیوں کے لیے تیار کرنا ایک بہت بڑا اور مشکل کام ہے۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
کسی بھی ملک میں عوام کو بنیادی تبدیلیوں کے لیے تیار کرنا ایک بہت بڑا اور مشکل کام ہے۔ اگرچہ اس کام کی ذمے داری ملک کی ان سیاسی پارٹیوں پر آتی ہے جو بنیادی تبدیلیوں کو اپنے ایجنڈے کا پہلا حصہ سمجھتی ہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر طرف اشرافیائی سیاست ہی لہرا رہی ہو، ملک میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے دعویدار ذاتی اور جماعتی مفادات کے لیے ٹکڑوں اور دھڑوں میں بٹتے ہوئے بے عملی کا شکار ہوں، عوام میں سیاسی اور طبقاتی شعور پیدا کرنے کی ذمے داری اہل قلم، اہل دانش پر آتی ہے۔
سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اشرافیائی جمہوریت میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف ایک ہی سکے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان اختلافات عوام کے مسائل حل کرنے پر ہوتے ہیں نہ عوام کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے۔ کیوں کہ عوام کے مسائل کا حل اور عوام کا بہتر مستقبل ان کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہوتا، اس کا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے 68 سالوں میں بے شمار حکومتیں آئیں اور چلی گئیں لیکن عوام کے مسائل حل ہونا تو در کنار ان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے، کیا یہ اتفاق ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان جمہوریت پسندوں کے ایجنڈے میں عوام کے مسائل شامل ہی نہیں تھے۔
ماضی کو چھوڑیں صرف حال پر نظر ڈالیں، پچھلے ادوار میں خاص طور پر پچھلے پانچ چھ سالوں کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی مل جل کر کام کرتی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں مسلم لیگ (ن) فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی، چونکہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب مسلم لیگ (ن) کی تحویل میں تھا اور سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کا کام انجام دے رہا تھا لہٰذا مسلم لیگ (ن) کو مرکز میں چھیڑ چھاڑ کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
اسی باہمی تعاون کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی حکومت نے آرام سے اپنے پانچ سال مکمل کر لیے۔ اس ''امن و امان'' کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ میدان سیاست میں ان دو رانیوں کے علاوہ کوئی ایسی طاقتور پارٹی موجود نہ تھی جو ان کے اقتدار کے لیے خطرہ ثابت ہو۔ ان کے علاوہ دوسری تمام سیاسی جماعتیں عملاً ان کی طفیلی جماعتیں ہیں جن سے ان دونوں بڑی جماعتوں کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہ تھا۔
یہ وہ حقیقت تھی جس نے ان دو بڑی پارٹیوں کو آپس میں جوڑ رکھا تھا۔ اس حوالے سے اگر چہ حصول اقتدار کے لیے مصنوعی جنگیں بھی ہوتی رہیں اور حسب ضرورت سیاسی اتحاد بھی بنتے رہے لیکن اگر سیاسی اتحادوں کی پوری تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ان اتحادوں میں عوامی مسائل عوام کی زندگی بہتر بنانے کی کوئی شق آپ کو نظر نہیں آئے گی ان اتحادوں کا پہلا اور آخری مقصد حصول اقتدار اور حفاظت اقتدار ہی نظر آئے گا۔
1977ء کے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے موثر اتحاد میں بھی سوائے اقتدار کی چھینا جھپٹی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا۔ جس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ انتخابات میں معمولی سی دھاندلی کو جمہوریت کی نفی قرار دے کر بھٹو کے خلاف تحریک چلانے والا 9 ستاروں کا تاریخی اتحاد بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ضیا الحق کا ہمنوا بن گیا۔
2013ء کے انتخابات کے دوران جب عمران خان کی تحریک انصاف ایک موثر اور مقبول طاقت کی حیثیت سے سامنے آئی تو تمام نام نہاد پارلیمانی پارٹیوں کے کان کھڑے ہو گئے، عمران خان سے یہ خوف اس لیے نہیں تھا کہ عمران خان عوام کے مسائل کے حل کا کوئی ایماندارانہ منصوبہ لے کر ان کے سامنے کھڑا تھا بلکہ اصل بات یہ تھی کہ عمران خان ان کی طے شدہ باریوں کے نظام میں رکاوٹ بن رہا تھا، اسلام آباد میں عمران اور قادری کے دھرنوں کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو حقیقی خطرہ لاحق ہو گیا تھا، لہذا پیپلز پارٹی سمیت ملک کی وہ تمام طفیلی سیاسی پارٹیاں جو اقتدار کے دستر خوان سے خوشہ چینی کرتی تھیں اکٹھی ہو گئیں۔
ان سترہ سیاسی جماعتوں کے اکٹھ نے پارلیمنٹ میں حفاظت جمہوریت کے نام پر جوابی دھرنا دیا۔ اور عمران خان اقتدار کی اس لڑائی میں اس لیے مات کھا گئے کہ ان کی سیاست میں میچیورٹی تھی نہ منصوبہ بندی۔ ایک شتر بے مہار کی طرح وہ سیاسی میدان میں گھومتے رہے اور آخر کار شکست سے دو چار ہو گئے۔
اب عمران کے پاس سوائے 2018ء تک انتظار کے کوئی اور آپشن نہیں ہے۔عمران خان نے اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف شور مچانے کی کوشش کی اور عوامی حمایت کی محرومی کے سبب اس لڑائی کو عدالتوں میں لڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کوشش میں بھی اس لیے کامیاب نہ ہو سکے کہ ان کی پارٹی میں اشرافیائی جمہوریت میں قانون اور انصاف کے اسرار کو سمجھنے والا کوئی نہ تھا۔ اس ناکام لڑائی کے بعد اب عمران خان کے پاس کوئی پتا ایسا نہیں رہا جس سے وہ تُرپ کی چال چل سکیں۔
اس ناکامی کا نتیجہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے کیونکہ اس کا ایجنڈہ عوامی مسائل کا حل نہیں تھا بلکہ حصول اقتدار تھا۔ تحریک انصاف میں اقتدار کی خاطر شامل ہونے والوں کے لیے اب تحریک انصاف میں کوئی چارم نہیں رہا۔ یہ عنصر اب اس نشیمن سے اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے سامنے کوئی ایسا متبادل نہیں جو انھیں اقتدار کے سنگھاسن کی طرف لے جا سکے لہٰذا پارٹی سخت غیر یقینیت کا شکار ہو کر رہ گئی ہے اور یہ صورت حال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ان کے سامنے تحریک انصاف کا کوئی بہتر متبادل نہ آئے۔
اگر اس غیر یقینیت میں تسلسل رہتا ہے اور مسلم لیگ (ن) عوام کو مزید بے وقوف بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے تو یہ اکھڑا ہوا عنصر بغیر کسی ندامت اور اخلاقی جواز کے مسلم لیگ (ن) کی طرف پرواز کرنے لگے گا۔
مشکل یہ ہے کہ عوام اپنی سادہ لوحی میں اشرافیہ کے ان تضادات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور انقلاب کے ہر خوش کن نعرے کی طرف لپکنے لگتے ہیں جس کا نتیجہ اشرافیہ کے استحکام کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ ایسی گمبھیر صورتحال میں عوام دوست اور بامعنی تبدیلیوں کے خواہش مندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اشرافیائی تضادات سے عوام کو آگاہ کرتے رہیں اور انھیں اس قابل بنانے کی کوشش کریں کہ وہ اس طبقاتی سیاست کے اسرار و رموز کو سمجھیں اور اپنے لیے ایک واضح لائحہ عمل تیار کریں۔
سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اشرافیائی جمہوریت میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف ایک ہی سکے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان اختلافات عوام کے مسائل حل کرنے پر ہوتے ہیں نہ عوام کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے۔ کیوں کہ عوام کے مسائل کا حل اور عوام کا بہتر مستقبل ان کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہوتا، اس کا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے 68 سالوں میں بے شمار حکومتیں آئیں اور چلی گئیں لیکن عوام کے مسائل حل ہونا تو در کنار ان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے، کیا یہ اتفاق ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان جمہوریت پسندوں کے ایجنڈے میں عوام کے مسائل شامل ہی نہیں تھے۔
ماضی کو چھوڑیں صرف حال پر نظر ڈالیں، پچھلے ادوار میں خاص طور پر پچھلے پانچ چھ سالوں کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی مل جل کر کام کرتی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں مسلم لیگ (ن) فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی، چونکہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب مسلم لیگ (ن) کی تحویل میں تھا اور سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کا کام انجام دے رہا تھا لہٰذا مسلم لیگ (ن) کو مرکز میں چھیڑ چھاڑ کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
اسی باہمی تعاون کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی حکومت نے آرام سے اپنے پانچ سال مکمل کر لیے۔ اس ''امن و امان'' کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ میدان سیاست میں ان دو رانیوں کے علاوہ کوئی ایسی طاقتور پارٹی موجود نہ تھی جو ان کے اقتدار کے لیے خطرہ ثابت ہو۔ ان کے علاوہ دوسری تمام سیاسی جماعتیں عملاً ان کی طفیلی جماعتیں ہیں جن سے ان دونوں بڑی جماعتوں کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہ تھا۔
یہ وہ حقیقت تھی جس نے ان دو بڑی پارٹیوں کو آپس میں جوڑ رکھا تھا۔ اس حوالے سے اگر چہ حصول اقتدار کے لیے مصنوعی جنگیں بھی ہوتی رہیں اور حسب ضرورت سیاسی اتحاد بھی بنتے رہے لیکن اگر سیاسی اتحادوں کی پوری تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ان اتحادوں میں عوامی مسائل عوام کی زندگی بہتر بنانے کی کوئی شق آپ کو نظر نہیں آئے گی ان اتحادوں کا پہلا اور آخری مقصد حصول اقتدار اور حفاظت اقتدار ہی نظر آئے گا۔
1977ء کے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے موثر اتحاد میں بھی سوائے اقتدار کی چھینا جھپٹی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا۔ جس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ انتخابات میں معمولی سی دھاندلی کو جمہوریت کی نفی قرار دے کر بھٹو کے خلاف تحریک چلانے والا 9 ستاروں کا تاریخی اتحاد بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ضیا الحق کا ہمنوا بن گیا۔
2013ء کے انتخابات کے دوران جب عمران خان کی تحریک انصاف ایک موثر اور مقبول طاقت کی حیثیت سے سامنے آئی تو تمام نام نہاد پارلیمانی پارٹیوں کے کان کھڑے ہو گئے، عمران خان سے یہ خوف اس لیے نہیں تھا کہ عمران خان عوام کے مسائل کے حل کا کوئی ایماندارانہ منصوبہ لے کر ان کے سامنے کھڑا تھا بلکہ اصل بات یہ تھی کہ عمران خان ان کی طے شدہ باریوں کے نظام میں رکاوٹ بن رہا تھا، اسلام آباد میں عمران اور قادری کے دھرنوں کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو حقیقی خطرہ لاحق ہو گیا تھا، لہذا پیپلز پارٹی سمیت ملک کی وہ تمام طفیلی سیاسی پارٹیاں جو اقتدار کے دستر خوان سے خوشہ چینی کرتی تھیں اکٹھی ہو گئیں۔
ان سترہ سیاسی جماعتوں کے اکٹھ نے پارلیمنٹ میں حفاظت جمہوریت کے نام پر جوابی دھرنا دیا۔ اور عمران خان اقتدار کی اس لڑائی میں اس لیے مات کھا گئے کہ ان کی سیاست میں میچیورٹی تھی نہ منصوبہ بندی۔ ایک شتر بے مہار کی طرح وہ سیاسی میدان میں گھومتے رہے اور آخر کار شکست سے دو چار ہو گئے۔
اب عمران کے پاس سوائے 2018ء تک انتظار کے کوئی اور آپشن نہیں ہے۔عمران خان نے اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف شور مچانے کی کوشش کی اور عوامی حمایت کی محرومی کے سبب اس لڑائی کو عدالتوں میں لڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کوشش میں بھی اس لیے کامیاب نہ ہو سکے کہ ان کی پارٹی میں اشرافیائی جمہوریت میں قانون اور انصاف کے اسرار کو سمجھنے والا کوئی نہ تھا۔ اس ناکام لڑائی کے بعد اب عمران خان کے پاس کوئی پتا ایسا نہیں رہا جس سے وہ تُرپ کی چال چل سکیں۔
اس ناکامی کا نتیجہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے کیونکہ اس کا ایجنڈہ عوامی مسائل کا حل نہیں تھا بلکہ حصول اقتدار تھا۔ تحریک انصاف میں اقتدار کی خاطر شامل ہونے والوں کے لیے اب تحریک انصاف میں کوئی چارم نہیں رہا۔ یہ عنصر اب اس نشیمن سے اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے سامنے کوئی ایسا متبادل نہیں جو انھیں اقتدار کے سنگھاسن کی طرف لے جا سکے لہٰذا پارٹی سخت غیر یقینیت کا شکار ہو کر رہ گئی ہے اور یہ صورت حال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ان کے سامنے تحریک انصاف کا کوئی بہتر متبادل نہ آئے۔
اگر اس غیر یقینیت میں تسلسل رہتا ہے اور مسلم لیگ (ن) عوام کو مزید بے وقوف بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے تو یہ اکھڑا ہوا عنصر بغیر کسی ندامت اور اخلاقی جواز کے مسلم لیگ (ن) کی طرف پرواز کرنے لگے گا۔
مشکل یہ ہے کہ عوام اپنی سادہ لوحی میں اشرافیہ کے ان تضادات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور انقلاب کے ہر خوش کن نعرے کی طرف لپکنے لگتے ہیں جس کا نتیجہ اشرافیہ کے استحکام کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ ایسی گمبھیر صورتحال میں عوام دوست اور بامعنی تبدیلیوں کے خواہش مندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اشرافیائی تضادات سے عوام کو آگاہ کرتے رہیں اور انھیں اس قابل بنانے کی کوشش کریں کہ وہ اس طبقاتی سیاست کے اسرار و رموز کو سمجھیں اور اپنے لیے ایک واضح لائحہ عمل تیار کریں۔