سرمایہ دارانہ نظام کا میکنزم
’’سرمایہ دارانہ نظام کا خودکار میکنزم‘‘ ہمارے شہر میں ہر روز چوری ڈکیتی وغیرہ کی بے شمار وارداتیں ہوتی ہیں۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
آج سب سے پہلے میں ان تمام دوستوں اور کالم کے قارئین کا بے حد شکر یہ ادا کروں گا جنھوں نے پنجاب کے دور دراز علاقوں کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے اندرونی شہروں سے ٹیلیفون اور ایس ایم ایس کے ذریعے ہماری خیریت دریافت کی اور ایکسیڈنٹ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہماری صحت کے لیے دعا کی۔
خاص طور پر کراچی کے کالم نگار دوستوں کا اور ان کا بھی شکر گزار ہوں جنھوں نے گھر آ کر میری خیریت دریافت کی، ہماری صحت کے لیے دعا کی۔ حادثات زندگی کا حصہ ہیں حادثہ ہمیشہ اپنی غلطی سے ہی نہیں ہوتا بلکہ عموماً دوسروں کی غلطی سے بھی ہوتا ہے ہم پر موٹرسائیکل چڑھانے والے دوست کو ہم اس لیے نہیں جانتے کہ وہ محترم ہمیں بے ہوش کر کے فرار ہو گئے، خیریت یہ ہوئی کہ ٹوٹ پھوٹ اور فریکچر سے ہم بچ گئے لیکن پسلی، گردن، پیروں پر اس قدر گہری چوٹیں آئیں کہ ہم اب تک ان سے سنبھل نہیں سکے ہیں خاص طور پر سیدھے ہاتھ پر آنے والی گہری چوٹ کی وجہ سے ابھی تک قلم پکڑنے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک خاص طور پر کراچی میں نوجوانوں کے گروہ انجام سے باخبر موٹر سائیکلیں سڑکوں پر اس طرح چلاتے ہیں جیسے وہ موٹر سائیکل نہیں چلا رہے ہیں بلکہ جہاز اڑا رہے ہیں۔ ڈرائیونگ کی اس بے احتیاطی کی وجہ سے ہر روز کئی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بہرحال آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کرنے جا رہے ہیں جو ہے تو بڑا عام سا لیکن ہمارے عوام اس پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے اور وہ موضوع ہے ''سرمایہ دارانہ نظام کا خودکار میکنزم'' ہمارے شہر میں ہر روز چوری ڈکیتی وغیرہ کی بے شمار وارداتیں ہوتی ہیں۔
انتظامیہ کی نااہلی اگرچہ ان وارداتوں کی ایک بڑی وجہ ہے لیکن درحقیقت ان جرائم کی اصل وجہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ میکنزم ہے جو ایک طرف چور ڈاکو پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف چوکیدار اور پولیس کو بھی جنم دیتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام لوگ ایک ہی طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے دشمن ایک دوسرے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پولیس، رینجرز، ایف سی سمیت مختلف سیکیورٹی ایجنسیز سے تعلق رکھنے والوں کا بنیادی تعلق غریب طبقات ہی سے ہوتا ہے لیکن ہمارا محترم نظام انھیں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے یہی نہیں بلکہ ان کے طبقاتی مفادات بھی متصادم ہو جاتے ہیں۔
اس کی وجہ صرف اتنی سی ہے کہ ان ایجنسیز کے اہلکاروں کے جسم پر الگ الگ یونیفارم ڈال کر انھیں ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متصادم طبقات میں بدل دیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس دلچسپ اور عوام دشمن تفریق کا سلسلہ صدیوں سے کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے لیکن ہندوستان میں نوآبادیاتی نظام کے آنے کے بعد انتظامی اہلکاروں کو عوام پر اس قدر برتری دلائی گئی کہ یہ طبقات جن کا اصلی کام عوام کی خدمت تھا اور جنھیں خادم بن کر رہنا چاہیے تھا وہ حاکم بن کر رہ گئے۔ یوں نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والے انتظامیہ کے اہلکار نظم و نسق اور امن و امان کے نام پر بالادست طبقات کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے لگے۔
اس پورے طبقاتی کھیل کو مستحکم کرنے کے لیے قانون اور انصاف کا ایک پورا وسیع و عریض مستحکم ڈھانچہ کھڑا کر دیا گیا جو بہ ظاہر تو قانون اور انصاف کی بالادستی کے نعروں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ پورا نظام اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کا کام کرتا ہے اس نظام کی ورکنگ میں بنیادی عنصر پیسہ ہوتا ہے۔ رشوت اور کرپشن کی ایک ایسی کھڑکی کھلی رکھی جاتی ہے کہ یہ پورا نظام ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے چونکہ قانون اور انصاف کو دولت کے تابع کر دیا جاتا ہے، اسلیے اس نظام سے صرف دولت مند فائدہ اٹھا سکتے ہیں غریب آدمی اس نظام میں جوتوں کی دھول بنا رہتا ہے۔
اکثر یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ بے شمار غریب قیدی جرمانے بھرنے کی سکت سے محرومی کی وجہ سے عدالتوں سے بے گناہ ثابت ہونے کے باوجود برسوں جیلوں میں بند رہتے ہیں۔ بے شمار ملزمان وکلا کی خدمات حاصل کرنے کی سکت نہ رکھنے کی وجہ عمر کا بڑا حصہ زنداں میں گزار دیتے ہیں۔ جب کہ ان کے ممکنہ جرائم بہت معمولی ہوتے ہیں، مثلاً ایک ہزار روپے رشوت لینے والا اہلکار تو دھڑلے سے گرفتار ہو جاتا ہے اس کے برخلاف اربوں روپوں کی کرپشن کا ارتکاب کرنے والی اشرافیہ یا تو ملک سے چلی جاتی ہے یا ضمانت قبل از گرفتاری کروا کر شان سے ملک کے اندر رہتی ہے ابھی ہمارے ملک میں ایک فیشن ماڈل کا کیس تازہ ہے یہ خاتون جیل میں اس طرح رہتی رہی ہے جیسے وہ اپنے ڈیفنس اور کلفٹن کے محل میں رہ رہی ہو۔ اسے میک اپ اور لباس فاخرہ سمیت زندگی کی وہ تمام سہولتیں حاصل رہیں جن کا غریب لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔
اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ وہ اشرافیہ کی ایجنٹ کے طور پر منی لانڈرنگ کر رہی تھی اور لاکھوں روپے وکلا کی فیس دے کر ملک کے بڑے سے بڑے وکیل کی خدمات حاصل کرنے پر قادر تھی۔ جب کہ معمولی معمولی جرائم پر غریب طبقات سے تعلق رکھنے والی غریب خواتین نہ ضمانت کرا سکتی ہیں نہ اپنے دفاع کے لیے وکیل رکھ سکتی ہیں۔
اس جرم غریبی کی وجہ سے غریب خواتین و حضرات ملزمان برسوں جیل کی دیواروں کے پیچھے ایک کربناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں کوئی انسانی حقوق کی تنظیم ان کی حق تلفیوں پر آواز نہیں اٹھاتی۔ پوش بستیوں میں رہنے والی اشرافیہ اپنی حفاظت کے لیے مسلح گارڈ رکھتی ہے جو گھر پر دفتر اور کاروباری جگہوں تک ہر جگہ اس اشرافیہ کی حفاظت کرتے ہیں لیکن غریب طبقات بلکہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ قوم زبان نسل اور فقہوں کے نام پر ان غریب اور مڈل کلاس کے لوگ ہر روز ٹارگٹ کلنگ اور فقہی اختلافات کے حوالے سے قتل کیے جاتے ہیں ۔
پوش بستیوں میں بھی سندھی، پنجابی، پٹھان، بلوچی، سرائیکی اور مہاجر رہتے ہیں لیکن نہ ان بستیوں میں فقہہ جاتی ہے نہ لسانیت اس کے برخلاف یہ اشرافیہ ان علاقوں میں بھائی بندوں کی طرح خوش و خرم رہتی ہے کالم کی محدودیت کی وجہ سے ہم اس مکروہ سرمایہ دارانہ نظام کے خودکار میکنزم کا بھرپور جائزہ پیش کرنے سے قاصر ہیں لیکن اس خطرناک میکنزم کو سمجھے بغیر عوام نہ اپنے حقوق کا ادراک کر سکتے ہیں نہ اپنے حقوق کی جنگ لڑ سکتے ہیں ۔
اہل قلم کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ محض لفاظی کرنے اور براہ راست یا باالواسطہ اشرافیہ کی چمچہ گیری کرنے کے بجائے عوام کو طبقاتی مفادات اور طبقاتی استحصال سے باخبر کرتے رہیں تا کہ وہ اپنے حقوق اور معاشی ناانصافیوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہو سکیں۔
خاص طور پر کراچی کے کالم نگار دوستوں کا اور ان کا بھی شکر گزار ہوں جنھوں نے گھر آ کر میری خیریت دریافت کی، ہماری صحت کے لیے دعا کی۔ حادثات زندگی کا حصہ ہیں حادثہ ہمیشہ اپنی غلطی سے ہی نہیں ہوتا بلکہ عموماً دوسروں کی غلطی سے بھی ہوتا ہے ہم پر موٹرسائیکل چڑھانے والے دوست کو ہم اس لیے نہیں جانتے کہ وہ محترم ہمیں بے ہوش کر کے فرار ہو گئے، خیریت یہ ہوئی کہ ٹوٹ پھوٹ اور فریکچر سے ہم بچ گئے لیکن پسلی، گردن، پیروں پر اس قدر گہری چوٹیں آئیں کہ ہم اب تک ان سے سنبھل نہیں سکے ہیں خاص طور پر سیدھے ہاتھ پر آنے والی گہری چوٹ کی وجہ سے ابھی تک قلم پکڑنے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک خاص طور پر کراچی میں نوجوانوں کے گروہ انجام سے باخبر موٹر سائیکلیں سڑکوں پر اس طرح چلاتے ہیں جیسے وہ موٹر سائیکل نہیں چلا رہے ہیں بلکہ جہاز اڑا رہے ہیں۔ ڈرائیونگ کی اس بے احتیاطی کی وجہ سے ہر روز کئی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بہرحال آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کرنے جا رہے ہیں جو ہے تو بڑا عام سا لیکن ہمارے عوام اس پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے اور وہ موضوع ہے ''سرمایہ دارانہ نظام کا خودکار میکنزم'' ہمارے شہر میں ہر روز چوری ڈکیتی وغیرہ کی بے شمار وارداتیں ہوتی ہیں۔
انتظامیہ کی نااہلی اگرچہ ان وارداتوں کی ایک بڑی وجہ ہے لیکن درحقیقت ان جرائم کی اصل وجہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ میکنزم ہے جو ایک طرف چور ڈاکو پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف چوکیدار اور پولیس کو بھی جنم دیتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام لوگ ایک ہی طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے دشمن ایک دوسرے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پولیس، رینجرز، ایف سی سمیت مختلف سیکیورٹی ایجنسیز سے تعلق رکھنے والوں کا بنیادی تعلق غریب طبقات ہی سے ہوتا ہے لیکن ہمارا محترم نظام انھیں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے یہی نہیں بلکہ ان کے طبقاتی مفادات بھی متصادم ہو جاتے ہیں۔
اس کی وجہ صرف اتنی سی ہے کہ ان ایجنسیز کے اہلکاروں کے جسم پر الگ الگ یونیفارم ڈال کر انھیں ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متصادم طبقات میں بدل دیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس دلچسپ اور عوام دشمن تفریق کا سلسلہ صدیوں سے کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے لیکن ہندوستان میں نوآبادیاتی نظام کے آنے کے بعد انتظامی اہلکاروں کو عوام پر اس قدر برتری دلائی گئی کہ یہ طبقات جن کا اصلی کام عوام کی خدمت تھا اور جنھیں خادم بن کر رہنا چاہیے تھا وہ حاکم بن کر رہ گئے۔ یوں نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والے انتظامیہ کے اہلکار نظم و نسق اور امن و امان کے نام پر بالادست طبقات کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے لگے۔
اس پورے طبقاتی کھیل کو مستحکم کرنے کے لیے قانون اور انصاف کا ایک پورا وسیع و عریض مستحکم ڈھانچہ کھڑا کر دیا گیا جو بہ ظاہر تو قانون اور انصاف کی بالادستی کے نعروں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ پورا نظام اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کا کام کرتا ہے اس نظام کی ورکنگ میں بنیادی عنصر پیسہ ہوتا ہے۔ رشوت اور کرپشن کی ایک ایسی کھڑکی کھلی رکھی جاتی ہے کہ یہ پورا نظام ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے چونکہ قانون اور انصاف کو دولت کے تابع کر دیا جاتا ہے، اسلیے اس نظام سے صرف دولت مند فائدہ اٹھا سکتے ہیں غریب آدمی اس نظام میں جوتوں کی دھول بنا رہتا ہے۔
اکثر یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ بے شمار غریب قیدی جرمانے بھرنے کی سکت سے محرومی کی وجہ سے عدالتوں سے بے گناہ ثابت ہونے کے باوجود برسوں جیلوں میں بند رہتے ہیں۔ بے شمار ملزمان وکلا کی خدمات حاصل کرنے کی سکت نہ رکھنے کی وجہ عمر کا بڑا حصہ زنداں میں گزار دیتے ہیں۔ جب کہ ان کے ممکنہ جرائم بہت معمولی ہوتے ہیں، مثلاً ایک ہزار روپے رشوت لینے والا اہلکار تو دھڑلے سے گرفتار ہو جاتا ہے اس کے برخلاف اربوں روپوں کی کرپشن کا ارتکاب کرنے والی اشرافیہ یا تو ملک سے چلی جاتی ہے یا ضمانت قبل از گرفتاری کروا کر شان سے ملک کے اندر رہتی ہے ابھی ہمارے ملک میں ایک فیشن ماڈل کا کیس تازہ ہے یہ خاتون جیل میں اس طرح رہتی رہی ہے جیسے وہ اپنے ڈیفنس اور کلفٹن کے محل میں رہ رہی ہو۔ اسے میک اپ اور لباس فاخرہ سمیت زندگی کی وہ تمام سہولتیں حاصل رہیں جن کا غریب لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔
اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ وہ اشرافیہ کی ایجنٹ کے طور پر منی لانڈرنگ کر رہی تھی اور لاکھوں روپے وکلا کی فیس دے کر ملک کے بڑے سے بڑے وکیل کی خدمات حاصل کرنے پر قادر تھی۔ جب کہ معمولی معمولی جرائم پر غریب طبقات سے تعلق رکھنے والی غریب خواتین نہ ضمانت کرا سکتی ہیں نہ اپنے دفاع کے لیے وکیل رکھ سکتی ہیں۔
اس جرم غریبی کی وجہ سے غریب خواتین و حضرات ملزمان برسوں جیل کی دیواروں کے پیچھے ایک کربناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں کوئی انسانی حقوق کی تنظیم ان کی حق تلفیوں پر آواز نہیں اٹھاتی۔ پوش بستیوں میں رہنے والی اشرافیہ اپنی حفاظت کے لیے مسلح گارڈ رکھتی ہے جو گھر پر دفتر اور کاروباری جگہوں تک ہر جگہ اس اشرافیہ کی حفاظت کرتے ہیں لیکن غریب طبقات بلکہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ قوم زبان نسل اور فقہوں کے نام پر ان غریب اور مڈل کلاس کے لوگ ہر روز ٹارگٹ کلنگ اور فقہی اختلافات کے حوالے سے قتل کیے جاتے ہیں ۔
پوش بستیوں میں بھی سندھی، پنجابی، پٹھان، بلوچی، سرائیکی اور مہاجر رہتے ہیں لیکن نہ ان بستیوں میں فقہہ جاتی ہے نہ لسانیت اس کے برخلاف یہ اشرافیہ ان علاقوں میں بھائی بندوں کی طرح خوش و خرم رہتی ہے کالم کی محدودیت کی وجہ سے ہم اس مکروہ سرمایہ دارانہ نظام کے خودکار میکنزم کا بھرپور جائزہ پیش کرنے سے قاصر ہیں لیکن اس خطرناک میکنزم کو سمجھے بغیر عوام نہ اپنے حقوق کا ادراک کر سکتے ہیں نہ اپنے حقوق کی جنگ لڑ سکتے ہیں ۔
اہل قلم کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ محض لفاظی کرنے اور براہ راست یا باالواسطہ اشرافیہ کی چمچہ گیری کرنے کے بجائے عوام کو طبقاتی مفادات اور طبقاتی استحصال سے باخبر کرتے رہیں تا کہ وہ اپنے حقوق اور معاشی ناانصافیوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہو سکیں۔