ناراض بلوچوں سے مذاکرات ہونے چاہئیں
بلوچستان میں قیام امن اور وہاں ترقی کے عمل کو تیزکرنے کے لیے ناراض بلوچوں سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔
تجارتی سرگرمیاں بڑھنے اور روز گار کے نئے اور وسیع مواقع پیدا ہونے سے بلوچ نوجوانوں کی وہ شکایات بھی خود بخود دور ہو جائیں گی کہ انھیں روز گار نہیں مل رہا۔ فوٹو: فائل
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ایپکس کمیٹی بلوچستان کے اجلاس سے خطاب میں ناراض بلوچوں کو مرکزی قومی دھارے میں واپس لانے کے لیے ''پرامن بلوچستان'' پروگرام کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے امن و استحکام انتہائی ضروری ہے۔
بلوچ رہنماؤں کو قومی دھارے کی سیاست میں لا کر بلوچستان کے حالات بہتر کیے جائیں گے' صوبے اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا جائے گا' بلوچ نوجوان ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوں اور ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف' گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی' وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر اعلیٰ شخصیات بھی موجود تھیں۔
بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ اور قوم پرست سیاستدانوں کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کی شکایات کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے' ان کا موقف ہے بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ یہ ہے اس میں ترقی کا عمل اس رفتار سے نہیں ہو رہا جو اس کا حق ہے۔اگرچہ سابق حکومتوں نے بلوچستان میں بہت سے ترقیاتی کام کرائے اور شکایات کا ازالہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے کے مسائل ابھی تک حل طلب ہیں اور بلوچ سیاستدانوں کی شکایات کا مناسب طور پر ازالہ نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ بلوچ رہنما مسلسل اپنی ناراضی کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں۔
اسی صورت حال کے ازالے کے لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بالکل صائب کہا کہ بلوچستان کے حالات بہتر بنانے کے لیے ناراض بلوچوں کو مرکزی قومی دھارے میں واپس لایا جائے۔ بلوچستان میں قیام امن اور وہاں ترقی کے عمل کو تیزکرنے کے لیے ناراض بلوچوں سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ بلوچستان میں امن و امان بھی ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے اور سیکیورٹی ادارے صورت حال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن طور پر کوشاں ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں بھارت افغانستان کے راستے گڑ بڑ کر رہا ہے اور پاکستان بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی عالمی سطح پر پیش کر چکا ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بہت سے نوجوان غربت اور بیروز گاری کے خاتمے سے تنگ آ کر باآسانی ملک دشمن قوتوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے اگر وہاں غربت اور بیروز گاری کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں تو ممکن ہے کہ یہ نوجوان کسی سازش کا شکار ہونے کے بجائے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ادا کریں گے۔
موجودہ حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے لہٰذا وہ بلوچستان کے حالات بہتر بنانے کے لیے کوشش کر رہی ہے اس مقصد کے لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال' صوبے میں جاری شورش اور نیشنل ایکشن پلان میں پیشرفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ واضح طور پر اعلان کیا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو فی کس 5 سے 15لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
چھوٹے پیمانے پر اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے یہ ایک معقول رقم ہے بیروز گاری سے تنگ ناراض بلوچ نوجوانوں کو کسی منفی سرگرمی کا حصہ بننے کے بجائے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانا اور اپنی صلاحیتوں کو کسی مثبت کام کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ بلوچ سیاستدانوں کو ماضی کی حکومتوں سے یہ شکایات رہی ہیں کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے کے وعدے تو کرتی رہیں مگر وہ ایفا نہیں ہوئے۔ اس صورت حال کے تناظر میں موجودہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے لیے جو پروگرام شروع کیے ہیں انھیں جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا اور تاخیری عمل سے بچایا جانا چاہیے۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان ملک میں مستقبل کی ترقی کا مرکزی نقطہ ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری سے سب سے زیادہ فائدہ اسی صوبے کو پہنچے گا۔ حکومت جو ترقیاتی کام اس صوبے میں کر رہی ہے اس کے مطابق گوادر پورٹ کو سڑکوں اور ریل رابطوں کے ذریعے وسط ایشیائی ملکوں سے منسلک کیا جائے گا۔ گوادر پورٹ سٹی، بندر گاہ کے منصوبے اور پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل سے یہ صوبہ تجارتی سرگرمیوں کا بہت بڑا مرکز بن جائے گا اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔
تجارتی سرگرمیاں بڑھنے اور روز گار کے نئے اور وسیع مواقع پیدا ہونے سے بلوچ نوجوانوں کی وہ شکایات بھی خود بخود دور ہو جائیں گی کہ انھیں روز گار نہیں مل رہا۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے مگر اس وسیع دولت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا اور جو تھوڑا بہت فائدہ اٹھایا بھی جا رہا ہے اس میں بلوچ عوام کا حصہ ان کے مطالبات کے مطابق انھیں فراہم نہیں کیا جا رہا۔ حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے اور بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے منصوبے تشکیل دیتے وقت سب سے پہلے مقامی لوگوں کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ان کی غربت اور بیروز گاری کا خاتمہ ہو اور وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
بلوچ رہنماؤں کو قومی دھارے کی سیاست میں لا کر بلوچستان کے حالات بہتر کیے جائیں گے' صوبے اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا جائے گا' بلوچ نوجوان ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوں اور ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف' گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی' وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر اعلیٰ شخصیات بھی موجود تھیں۔
بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ اور قوم پرست سیاستدانوں کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کی شکایات کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے' ان کا موقف ہے بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ یہ ہے اس میں ترقی کا عمل اس رفتار سے نہیں ہو رہا جو اس کا حق ہے۔اگرچہ سابق حکومتوں نے بلوچستان میں بہت سے ترقیاتی کام کرائے اور شکایات کا ازالہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے کے مسائل ابھی تک حل طلب ہیں اور بلوچ سیاستدانوں کی شکایات کا مناسب طور پر ازالہ نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ بلوچ رہنما مسلسل اپنی ناراضی کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں۔
اسی صورت حال کے ازالے کے لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بالکل صائب کہا کہ بلوچستان کے حالات بہتر بنانے کے لیے ناراض بلوچوں کو مرکزی قومی دھارے میں واپس لایا جائے۔ بلوچستان میں قیام امن اور وہاں ترقی کے عمل کو تیزکرنے کے لیے ناراض بلوچوں سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ بلوچستان میں امن و امان بھی ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے اور سیکیورٹی ادارے صورت حال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن طور پر کوشاں ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں بھارت افغانستان کے راستے گڑ بڑ کر رہا ہے اور پاکستان بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی عالمی سطح پر پیش کر چکا ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بہت سے نوجوان غربت اور بیروز گاری کے خاتمے سے تنگ آ کر باآسانی ملک دشمن قوتوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے اگر وہاں غربت اور بیروز گاری کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں تو ممکن ہے کہ یہ نوجوان کسی سازش کا شکار ہونے کے بجائے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ادا کریں گے۔
موجودہ حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے لہٰذا وہ بلوچستان کے حالات بہتر بنانے کے لیے کوشش کر رہی ہے اس مقصد کے لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال' صوبے میں جاری شورش اور نیشنل ایکشن پلان میں پیشرفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ واضح طور پر اعلان کیا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو فی کس 5 سے 15لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
چھوٹے پیمانے پر اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے یہ ایک معقول رقم ہے بیروز گاری سے تنگ ناراض بلوچ نوجوانوں کو کسی منفی سرگرمی کا حصہ بننے کے بجائے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانا اور اپنی صلاحیتوں کو کسی مثبت کام کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ بلوچ سیاستدانوں کو ماضی کی حکومتوں سے یہ شکایات رہی ہیں کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے کے وعدے تو کرتی رہیں مگر وہ ایفا نہیں ہوئے۔ اس صورت حال کے تناظر میں موجودہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے لیے جو پروگرام شروع کیے ہیں انھیں جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا اور تاخیری عمل سے بچایا جانا چاہیے۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان ملک میں مستقبل کی ترقی کا مرکزی نقطہ ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری سے سب سے زیادہ فائدہ اسی صوبے کو پہنچے گا۔ حکومت جو ترقیاتی کام اس صوبے میں کر رہی ہے اس کے مطابق گوادر پورٹ کو سڑکوں اور ریل رابطوں کے ذریعے وسط ایشیائی ملکوں سے منسلک کیا جائے گا۔ گوادر پورٹ سٹی، بندر گاہ کے منصوبے اور پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل سے یہ صوبہ تجارتی سرگرمیوں کا بہت بڑا مرکز بن جائے گا اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔
تجارتی سرگرمیاں بڑھنے اور روز گار کے نئے اور وسیع مواقع پیدا ہونے سے بلوچ نوجوانوں کی وہ شکایات بھی خود بخود دور ہو جائیں گی کہ انھیں روز گار نہیں مل رہا۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے مگر اس وسیع دولت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا اور جو تھوڑا بہت فائدہ اٹھایا بھی جا رہا ہے اس میں بلوچ عوام کا حصہ ان کے مطالبات کے مطابق انھیں فراہم نہیں کیا جا رہا۔ حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے اور بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے منصوبے تشکیل دیتے وقت سب سے پہلے مقامی لوگوں کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ان کی غربت اور بیروز گاری کا خاتمہ ہو اور وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔