دورہ زمبابوے میں چند سینئرز کیلیے آرام اور نئے پلیئرز کی قسمت چمکے گی

50 سے زائد کھلاڑیوں کے پول میں شامل تمام کرکٹرزکوآئندہ ایک ڈیڑھ برس میں موقع دیں گے، چیف سلیکٹر ہارون رشید

50 سے زائد کھلاڑیوں کے پول میں شامل تمام کرکٹرزکوآئندہ ایک ڈیڑھ برس میں موقع دیں گے، چیف سلیکٹر ہارون رشید۔ فوٹو: فائل

قومی کرکٹ چیف سلیکٹر نے آئندہ ماہ کے دورئہ زمبابوے میں چند سینئرز کو آرام دینے کا ارادہ ظاہر کردیا،یوں مزید نئے پلیئرز کی قسمت چمکے گی،ہارون رشید کا کہنا ہے کہ50 سے زائد کھلاڑیوں کے پول میں شامل تمام پلیئرز کوآئندہ ایک،ڈیڑھ برس میں موقع دینگے۔

ان کے مطابق سرفراز احمد کو ٹی ٹوئنٹی میچز سے باہر بٹھانا کوئی تنازع نہ تھا، سلیکٹرز سمیت ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈکپ تک نئے کمبی نیشنز آزمانے کا فیصلہ کیا ہے، سری لنکا میں فتح کے باوجود قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کی گنجائش موجود ہے مطمئن ہو کر نہیں بیٹھا جا سکتا، انھوں نے کہا کہ محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی ابھی دور کی بات ہے۔

انھیں فٹنس و دیگر امور پر سخت محنت کرنا ہوگی۔تفصیلات کے مطابق نئے پلیئرز کے عمدہ کھیل نے پاکستانی کرکٹ حکام کو خوشی سے سرشار کر دیا ہے، چیف سلیکٹر ہارون رشید نے مستقبل میں مزید نوجوانوں کیلیے قومی ٹیم کے دروازے کھولنے کا اعلان کیا، نمائندہ ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ہم نئے ٹیلنٹ کو متواتر مواقع دینا چاہتے ہیں،دورئہ زمبابوے میں کمبی نیشنز آزمانے کیلیے1،2 سینئرز کو آرام دیا جا سکتا ہے، یاد رہے کہ گرین شرٹس کو 24ستمبر سے5 اکتوبر تک زمبابوین سرزمین پر تین ٹوئنٹی20 اور اتنے ہی ون ڈے میچز کھیلنے ہیں۔

ہارون رشید نے کہا کہ ہم نے جو 50 سے زائد کھلاڑیوں کا پول تیار کیا آئندہ ایک، ڈیڑھ سال تک اس میں شامل تمام پلیئرز کو موقع دیں گے، یہ گذشتہ 2، 3 برس سے قومی سرکٹ میں عمدہ پرفارم کر رہے ہیں، ان میں اوپنرز، مڈل آرڈر بیٹسمین، اسپنرز اور پیسرز سب شامل ہیں، اسی کیساتھ ڈومیسٹک کرکٹ میں غیرمعمولی کارکردگی دکھانے والے کسی بھی نئے کھلاڑی کیلیے بھی ٹیم کے دروازے کھلے ہونگے۔


انھوں نے کہا کہ ٹیم میں نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کے آنے سے فیلڈنگ بہتر ہوگئی، ایسی باڈی لینگوئج بھی کئی برسوں بعد نظر آئی، رضوان، عماد وسیم اور بابر اعظم جیسے ینگسٹرز نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے،انور علی کو اب متواتر مواقع ملے تو میچ ونر بن کرکھیلا، یاسر شاہ بھی وکٹیں لینے والا بولر ہے۔

ایک سوال پر ہارون رشید نے کہا کہ سرفراز احمد کوٹی ٹوئنٹی میچز میں نہ کھلانا کوئی تنازع نہیں تھا، کون جان بوجھ کر اپنے نمبر ون کھلاڑی کو ڈراپ کریگا؟ سلیکٹرز سمیت کپتان شاہد آفریدی اورکوچ وقار یونس نے مل کر یہ فیصلہ کیاکہ ورلڈکپ تک نئے کمبی نیشنز آزماتے رہیں گے، سرفراز ایسے کھلاڑی ہیں جنھیں ڈراپ کرنے کا سوچنا بھی ممکن نہیں، رضوان کو موقع دینے کیلیے انھیں آرام کرایا گیا تھا، انھوں نے کہا کہ میگا ایونٹ سے قبل ہمیں7،8میچز ہی کھیلنا ہیں پھر30پلیئرز کے نام آئی سی سی کو بھیجنے کا وقت آ جائیگا، آئندہ چند ماہ میں ہمیں پتا ہونا چاہیے کہ کون سے 15 کھلاڑی بھارت جائینگے۔

اسی لیے تجربات کر رہے ہیں۔ چیف سلیکٹر نے کہا کہ سری لنکا میں فتح کے باوجود قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کی گنجائش موجود ہے لہذا مطمئن ہو کر نہیں بیٹھا جا سکتا، کرکٹ میں اچھے برے دورآتے رہتے ہیں جیسے حال میں نمبر ٹو رینک آسٹریلوی ٹیم انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ میں صرف 60 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستانی سائیڈ ابھی برصغیر میں اپنے ملک سے ملتی جلتی کنڈیشنز میں کھیل رہی ہے، پچز وغیرہ مشکل نہیں تھیں،سری لنکا کے اہم بولر مالنگا بھی آؤٹ آف فارم رہے، میری نزدیک کھلاڑیوں کا اصل امتحان انگلینڈ،آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں ہوگا جہاں کی کنڈیشنز آسان نہیں ہوتیں، جیت خوش آئند ضرور مگر ہمیں مستقبل کو بھی ذہن میں رکھنا ہے۔ ہارون رشید نے کہا کہ میں حالیہ فتوحات کا کریڈٹ ٹیم مینجمنٹ کو دیتا ہوں، ہم تو 15 کھلاڑی منتخب کر کے انھیں دے دیتے ہیں، صورتحال کے لحاظ سے ان کا استعمال، حکمت عملی کی تیاری ، ٹریننگ یہ سب کچھ انہی کو کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی ابھی دور کی بات ہے، انھیں فٹنس و دیگر امور پر سخت محنت کرنا ہوگی، پیسر نے زیادہ تر ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے ، گریڈ ٹو کرکٹ کے فائنل میں وہ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہو گئے، فرسٹ کلاس سیزن میں ان کے کھیل کا جائزہ لیںگے۔ یونس خان کے دوبارہ ون ڈے کھیلنے کی خواہش پر چیف سلیکٹر نے کہا کہ میرا ان سے رابطہ رہتا ہے، وہ بہت تجربہ کار بیٹسمین ہیں، اگر ضرورت پڑی تو یقیناً انھیں واپسی کا موقع دیں گے۔
Load Next Story