خوئے بد را بہانہ بسیار
فارسی زبان کاایک بڑامعروف محاورہ ہے’’خوئےبدرا بہانہ بسیار‘‘ یعنی اگرعادت بری ہو تواس کےلیےبے شمار بہانے مل جاتے ہیں
دفتر خارجہ کے مطابق مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے ہونا ہے۔ فوٹو : فائل
بھارت نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو دعوت نامہ نہ بھیجنے کا بہانہ بنا کر پاکستان میں ہونے والی دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اخباری خبر کے مطابق جمعہ کو نئی دہلی میں تمام بھارتی ریاستوں کے اسپیکرز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو دعوت نامہ نہ دینے پر بھارتی اسپیکرز کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوی ایشن کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ فارسی زبان کا ایک بڑا معروف محاورہ ہے ''خوئے بد را بہانہ بسیار'' یعنی اگر عادت بری ہو تو اس کے لیے بے شمار بہانے مل جاتے ہیں۔
اس سے قبل بھارت نے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر ہونے والی پاک بھارت ملاقات صرف اس بہانے منسوخ کر دی تھی کہ دہلی میں مقیم ہمارے ہائی کمشنر نے مقبوضہ کشمیر کے حریت لیڈروں سے کیوں ملاقات کی۔ اسپیکرز کانفرنس 30 ستمبر سے 8 اکتوبر تک اسلام آباد میں ہونا ہے جس میں بھارت کے تمام اسپیکرز کو دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں تاہم مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو ابتک دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا۔ بھارتی پارلیمنٹ ''لوک سبھا'' کی اسپیکر سمترا مہاجن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو دعوت نامہ نہ بھیجنا کامن ویلتھ پارلیمنٹری یونین کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے کو سی پی یو کے صدر اور سیکریٹری جنرل کے سامنے اٹھایا جائے گا۔
اس حوالے سے انھیں خط لکھ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو نہ کیا گیا تو دیگر31 بھارتی اسپیکرز بھی پاکستان میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے بصورت دیگر بھارتی اسپیکرز کے لیے کانفرنس کا مقام تبدیل کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر رویندرا گپتا نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ انھوں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے جان بوجھ کر ایسا کیا اور آج کا یہ فیصلہ اس کے لیے ایک سخت پیغام ہے۔
دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے کانفرنس کے بائیکاٹ سے متعلق باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا۔ بھارت کی طرف سے بائیکاٹ کا سرکاری طور پر پتہ چلنے پر ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے ہونا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔
اخباری خبر کے مطابق جمعہ کو نئی دہلی میں تمام بھارتی ریاستوں کے اسپیکرز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو دعوت نامہ نہ دینے پر بھارتی اسپیکرز کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوی ایشن کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ فارسی زبان کا ایک بڑا معروف محاورہ ہے ''خوئے بد را بہانہ بسیار'' یعنی اگر عادت بری ہو تو اس کے لیے بے شمار بہانے مل جاتے ہیں۔
اس سے قبل بھارت نے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر ہونے والی پاک بھارت ملاقات صرف اس بہانے منسوخ کر دی تھی کہ دہلی میں مقیم ہمارے ہائی کمشنر نے مقبوضہ کشمیر کے حریت لیڈروں سے کیوں ملاقات کی۔ اسپیکرز کانفرنس 30 ستمبر سے 8 اکتوبر تک اسلام آباد میں ہونا ہے جس میں بھارت کے تمام اسپیکرز کو دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں تاہم مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو ابتک دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا۔ بھارتی پارلیمنٹ ''لوک سبھا'' کی اسپیکر سمترا مہاجن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو دعوت نامہ نہ بھیجنا کامن ویلتھ پارلیمنٹری یونین کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے کو سی پی یو کے صدر اور سیکریٹری جنرل کے سامنے اٹھایا جائے گا۔
اس حوالے سے انھیں خط لکھ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو نہ کیا گیا تو دیگر31 بھارتی اسپیکرز بھی پاکستان میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے بصورت دیگر بھارتی اسپیکرز کے لیے کانفرنس کا مقام تبدیل کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر رویندرا گپتا نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ انھوں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے جان بوجھ کر ایسا کیا اور آج کا یہ فیصلہ اس کے لیے ایک سخت پیغام ہے۔
دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے کانفرنس کے بائیکاٹ سے متعلق باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا۔ بھارت کی طرف سے بائیکاٹ کا سرکاری طور پر پتہ چلنے پر ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے ہونا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔