دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس اور بھارت کا رویہ

بھارت کی جانب سے دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کسی گہری سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے

دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ بخوبی جانتی ہے کہ تنازعہ کشمیر حل کیے بغیر پاک بھارت تعلقات کو خوشگوار بنانا انتہائی مشکل کام ہے، فوٹو : فائل

وزیراعظم کے مشیر خارجہ برائے قومی سلامتی امور سرتاج عزیز نے ہفتے کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات 24,23 اگست کو متوقع ہے، اس ملاقات میں ''را'' کی پاکستان میں مداخلت کے ثبوت پیش کیے جائیں گے، دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس شیڈول کے مطابق اسلام آباد میں ہوگی، شرکت کے لیے 70 فیصد شرکاء نے یقین دلایا ہے، مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو دورے کی دعوت نہیں دی، مقبوضہ کشمیر اسمبلی قانونی اور آئینی نہیں متنازع ہے اس کے اسپیکر کو بلانا ہمارے موقف کی نفی ہو گی۔ دہشت گردی کے واقعات کا الزام ایک دوسرے پر لگانے کے معاملے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

اسلام آباد میں 30ستمبر سے 8 اکتوبر تک قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کا 61 واں اجلاس منعقد ہو رہا ہے، اس کانفرنس میں دولت مشترکہ کے 53 ممالک کی 178 پارلیمنٹس کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، خبروں کے مطابق 115 پارلیمنٹس کے 403 مندوبین اور مبصرین نے کانفرنس میں شرکت کی تصدیق اور رجسٹریشن کرائی ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو گزشتہ برس دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے 60ویں اجلاس میں متفقہ طور پر ایسوسی ایشن کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو دعوت نامہ نہ بھیجنے کا بہانہ بنا کر دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کو نئی دہلی میں تمام بھارتی ریاستوں کے اسپیکرز کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو دعوت نامہ نہ دینے پر بھارتی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔

اس مسئلے پر پاکستان نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئیدوٹوک کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو دولت مشترکہ کے ممالک کی پارلیمانی یونین کے اجلاس میں بلانا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہو گی، یہ فیصلہ پاکستان کے تاریخی اور اصولی موقف کی بنیاد پر کیا گیا ہے، مسئلہ کشمیر 1947 سے اب تک متنازعہ چلا آ رہا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے کے ذریعے کیا جائے گا جس کے سوا اس مسئلے کا کوئی دوسرا حل موجود نہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی کئی قراردادیں منظور کی ہیں جن میں کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے لہٰذا ان حقائق کے تناظر میں پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دے سکتا۔


بھارت آئے دن پاکستان کے لیے نت نئے مسائل پیدا کرنے اور دوستانہ تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانے تراشتا رہتا ہے۔ کبھی وہ ممبئی حملے کا ڈراما رچا کر پاکستان کے خلاف محاذ کھول دیتا ہے تو کبھی کشتی کا ناٹک کھیل کر الزام تراشی کا نیا سلسلہ شروع کر دیتا ہے، بھارتی میڈیا بھی اس منافقانہ کھیل میں غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف نفرت کے شعلے اگلنا شروع کر دیتا ہے، تعصب اور نفرت کی اس آگ کو اتنا زیادہ بڑھاوا دیا جاتا ہے کہ یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ ابھی پاک بھارت جنگ شروع ہوجائے گی۔ بھارت کی جانب سے دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کسی گہری سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کرانا ہے، اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اسپیکر رویندرا گپتا کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دے دیتا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت سے دستبردار ہوتے ہوئے اس خطے کو بھارت کا اٹوٹ انگ تسلیم کر لیا ہے۔

مودی سرکاری کی بھی یہ بھرپور کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مقبوضہ کشمیر کو آئینی طور پر بھارت کا مستقل حصہ بنا دے، یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاک بھارت مذاکرات کی بات چلتی ہے بھارتی حکومت کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر اسے سبوتاژ کر دیتی ہے، اس نے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر ہونے والی پاک بھارت ملاقات کو بھی یہ بہانہ بنا کر منسوخ کر دیا تھا کہ دہلی میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر نے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند لیڈروں سے کیوں ملاقات کی۔ پاک بھارت قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ تو بعد کی بات ہے مگر اس کا خدشہ موجود ہے کہ بھارت کی موجودہ انتہا پسند حکومت مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے کبھی مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں کرے گی۔ بہرحال دونوں ملکوں کے قومی سلامتی مشیروں کی 23 اور 24 اگست کو متوقع ملاقات کو مثبت پیش رفت کے طورپر دیکھا جا سکتا ہے جوپاک بھارت باضابطہ مذاکرات کی بحالی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ بخوبی جانتی ہے کہ تنازعہ کشمیر حل کیے بغیر پاک بھارت تعلقات کو خوشگوار بنانا انتہائی مشکل کام ہے لہٰذا ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت اصل تنازعے کی طرف آئے اور اس کے ساتھ دیگر تنازعات کو بھی حل کرنے کی کوشش کریں۔ دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کے حوالے سے یہ استدلال بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی دانشور اور اہل علم اور حکومت باہمی تعلقات و تجارت کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کو پرے رکھ کر دیگر معاملات پر بات چیت کی جائے، انھیں اب یہ کرنا چاہیے کہ اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اسمبلی کے اسپیکر کو نہیں بلاتاتو اسے بھی الگ رکھا جائے اور بھارت دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس میں شریک ہو جائے۔اس سے حالات میں بہتری آئے گی اور مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان جو مذاکرات ہوں گے ان کا ماحول بھی خوشگوار ہو جائے گا۔
Load Next Story