اسکول بسوں اور ویگنوں کے قواعد و ضوابط

ٹریفک قوانین ہوں یا بسوں ویگنوں اور موٹر سائیکلز کے حوالے سے ضوابط سب کچھ موجود ہے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا

ڈرائیور حضرات کی مہارت کو جانچنے کا بندوبست ہونا چاہیے، جو سرکاری اہلکار اناڑی ڈرائیور کو لائسنس جاری کرے، اسے بھی سزا ملنی چاہیے۔ فوٹو: فائل

کراچی میں ٹریفک پولیس نے اسکول ویگنوں اور بسوں کے لیے قواعد و ضوابط کا اعلان کیا ہے۔ ان ضوابط کے تحت اسکول ویگنوں اور بسوں کا پیلا رنگ ہو گا اور ان پر اسکول کا نام تحریر ہو گا۔ ان بسوں اور ویگنوں میں اٹینڈنٹ اور ہیلپر لازمی ہو گا۔ کسی ہنگامی صورت حال میں ان بسوں اور ویگنوں میں اخراج کا راستہ اور آگ بجھانے کا سامان بھی لازم ہو گا۔ قواعد و ضوابط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسکول بسوں اور ویگنوں میں سیٹوں سے زائد طلبا کو سوار نہیں کرایا جائے گا جب کہ ایل پی جی سلنڈر سمیت کسی قسم کا سلنڈر بس یا ویگن میں موجود نہ ہو۔ ان بسوں اور ویگنوں میں سگریٹ نوشی بھی ممنوع ہو گی۔ کسی قسم کا حادثہ رونما ہونے کی صورت میں اسکول مینجمنٹ اس کی ذمے دار ہوگی اور بھی بہت سے قاعدے بیان کیے گئے ہیں، یہ قواعد و ضوابط اچھے بھی ہیں اور ان کی ضرورت بھی ہے۔


اصل بات یہ ہے کہ ٹریفک قوانین ہوں یا بسوں ویگنوں اور موٹر سائیکلز کے حوالے سے ضوابط سب کچھ موجود ہے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ اسکول و کالج اور یونیورسٹی بسوں کا رنگ مخصوص ہی ہونا چاہیے۔ اس سے سب کو دور سے ہی شناخت ہو جاتی ہے کہ اس بس یا ویگن میں طالب علم سوار ہیں، یہ صرف کراچی تک نہیں محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے ملک میں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ گاڑی کی فٹنس پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، اس وقت کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، سکھر، ملتان، فیصل آباد غرض ہر شہر و قصبے میں ایسی گاڑیاں چل رہی ہیں جو بے پناہ دھواں چھوڑ رہی ہیں، ڈرائیور حضرات کی مہارت کو جانچنے کا بندوبست ہونا چاہیے، جو سرکاری اہلکار اناڑی ڈرائیور کو لائسنس جاری کرے، اسے بھی سزا ملنی چاہیے، اس طریقے سے ہی ملک میںٹریفک حادثات کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔
Load Next Story