بھارت میں پاکستان سے متاثر ہونے کا طوفان
ہمیں پتہ بھی نہیں چلا اور ہمیں کچھ ایسا ہو گیا جس کے بارے میں ہمیں تو کوئی پتہ نہیں تھا
barq@email.com
یقیناً نفسیات کی زبان میں یہ بھی کوئی نہ کوئی کمپلیکس ہی ہو گا لیکن ہم چونکہ ماہر نفسیات نہیں ہیں اور نفسیات والوں سے ذرا فاصلے پر رہنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ پتہ نہیں کب؟ کہاں؟ اور کیسے کسی ماہر نفسیات کو ''کچھ'' ہو جائے اور پھر ہمیں بھی چودہ انجکشن لگوانے پڑیں، یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ایک مرتبہ ہمارے ساتھ ایسا ہو چکا ہے، ٹی وی کا ایک پروڈیوسر جس نے ایم اے تو نفسیات میں کیا تھا اور بھرتی ہو گیا تھا ٹی وی میں، کے ساتھ ہماری قربت ہو گئی۔ ہمیں پتہ بھی نہیں چلا اور ہمیں کچھ ایسا ہو گیا جس کے بارے میں ہمیں تو کوئی پتہ نہیں تھا لیکن لوگوں کو اچھی طرح پتہ چل گیا تھا کیونکہ ہم گھر، دفتر یا کہیں بھی کوئی بات کرتے تو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے اور پھر نہ جانے کیا کہتے رہتے، ہمیں صرف اتنا اندازہ ہوتا تھا کہ ہمارے سامنے ہی ہماری ''غیبت'' ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ تب رکا جب اس نفسیات میں ماسٹر کی ڈگری لینے والے پروڈیوسر کا کسی اور اسٹیشن میں تبادلہ ہو گیا۔
ہمارے ساتھ اکثر ایسے المیے رونماء ہوتے ہیں کہ جن لوگوں سے ہمیں واسطہ پڑ جاتا ہے وہ کوالی فائیڈ تو کسی اور چیز میں ہوتے ہیں لیکن آ جاتے ہیں کسی اور فیلڈ میں، مثلاً ابتدا میں جب پشتو اکیڈمی کی بنیاد پڑی تو اس میں جن جن لوگوں کو بھرتی کیا گیا تھا کوئی جغرافیے میں کوالی فائیڈ تھا، کوئی زراعت میں تو کوئی جنگلات میں ۔۔۔ جس کے اثرات ابھی پشتو اکیڈمی میں پائے جاتے ہیں، ایک لڑکا جس نے فشری میں ماسٹر کیا تھا بوجہ بیروزگاری ریڈیو پاکستان میں آ گیا تھا اور پھر مزید سوئے اتفاق سے موسیقی کا شعبہ اس کے سپرد ہوا۔ اپنی ماہی پروری اور ماہی گیری کے علم اور اصطلاحات سے اس نے تمام فن کاروں کو تقریباً ماہی گیر بنا ڈالا تھا۔
ہر کوئی جو بھی بات کرتا ماہی گیری کی اصطلاح میں کرتا، سوری ہم ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر پٹڑی سے اتر گئے اصل بات ہم اس کمپلیکس کی کرنا چاہ رہے ہیں جو ان دنوں پاکستان پریس یا میڈیا کو لاحق ہے اور بری طرح لاحق ہے جس کا کوئی نام نہیں لیکن علامات یہ ہیں، بمبئی بریانی بھی پاکستانی بریانی کی مداح نکلی، لتا منگیشکر بھی اٹھارہ من کی دھوبن کی فین نکلی، راکھی ساونت بھی پاکستانی گانے پسند کرتی ہے، سونونگم بھی پاکستانی چیونگم کے رسیا نکلے، کاجل پاکستانی ڈراموں کی دلدادہ نکلی، بپاشا باسو پاکستانی ڈیزائنروں کی مداح نکلی، ملکہ شراوت بھی پاکستانی عبایا اور حجاب کی رسیا نکلی، مادھوری ڈکشٹ لاہوری حلوہ پوری کی شوقین نکلی، گجرات کی اڈلی اور تامل سانبھر، لاہوری ٹکا ٹک کی پرستار نکلے، ودیا بالن نے راحت فتح علی خان کی تعریف کی، کپل شرما نے پاکستانی مداح کی نقل کرنے کا اعتراف کر لیا، ایس اے رحمن پاکستانی موسیقی کے دل دادہ نکلے، سنیدھی چوہان عینی کی فین نکلی، راج کمار ہیرانی میڈم سنگیتا کی ہدایت کاری سے مثاتر۔ دراصل یہ بھی کمپلیکس کی ایک شکل ہے جو عرصہ دراز سے پاکستانی لکھاریوں، کالم نگاروں اور دانشوروں کو لاحق ہے کہ مغرب کی کسی بھی ایجاد کو لے کر اسے اندلس اور بغداد پہنچا دیتے ہیں، مثلاً آئن اسٹائن سے پہلے ان نظریات پر نشیاپور میں ایک مسلمان عالم البغلالی البغلان نے بہت سارا کام کیا تھا، اسٹیفن ہاکنگ کا نظریہ بلیک ہول دراصل عمر خیام کی خوشہ چینی ہے، کنڈولیزا رائس معروف ملکہ قلوپطرا کی امریکی ایڈیشن ہے، ہلیری کلنٹن ملکہ خیرزان جیسی لگتی ہے، انجلینا جولی ملکہ نور جہاں کو کاپی کرتی ہے، اس سلسلے میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہند والے بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔
وہ بھی جدید ترین ایجادات کو کسی نہ کسی طرح کھنیچ کھانچ کر رامائن اور مہابھارت تک پہنچا دیتے ہیں، رامائن میں جب راون سے لڑتے لڑتے رام کا بھائی لکشمن شدید زخمی ہو جاتا ہے اور ایک وید کے مطابق اس کا علاج صرف سنجیونی نای بوٹی ہوتی ہے جو کسی دور کے پہاڑ میں پائی جاتی ہے تو ہنومان اسے لانے کے لیے ہوا میں اڑتا ہے اور وہاں اس بوٹی کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے پورے پہاڑ کو اٹھا کر لاتا ہے تو درمیان میں اچانک مصنف کی ''رگ اجداد پسندی'' پھڑک اٹھتی ہے، لکھتا ہے دیکھا ۔۔۔۔ یہ مغرب والے اب کہیں جا کر ہوائی جہاز تک پہنچے ہیں ہمارے بزرگ اس زمانے میں ہیلی کاپٹر ایجاد کر چکے تھے، ہنومان اصل میں بہت بڑا موجد اور ہوا باز تھا، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی سے کم رہیں چنانچہ کئی کتابوں میں جب حضرت سلیمان کے ''تخت'' کی بات آتی ہے تو ہوائی جہاز اور آکسی جن، ہائیڈرو جن نامی جنات کا ذکر بھی آ جاتا ہے، دروپدی کے سوئمبر میں جب ارجن نیچے تیل کی کڑاہی میں دیکھ کر اوپر گھومتی ہوئی مچھلی کی آنکھ میں تیر مارتا ہے تو مصنف اچانک جوش میں بھر کر عش عش کرنے لگتا ہے، دیکھا ہمارے پرکھوں نے آج سے نو ہزار سال پہلے ٹیلی اسکوپ اور ریڈر ایجاد کر لیا تھا، اپنے آباؤ اجداد کے کارنامے ہر اس شخص کو یاد آنے لگتے ہیں جو خود کسی کام کا نہیں ہوتا، لیکن یہ بالکل ایک نئی بیماری ہے جو ان دنوں پاکستانی میڈیا کو لاحق ہوگئی ہے۔
ثانیہ مرزا بار بار کہتی ہے کہ میں بھارتی تھی بھارتی ہوں اور بھارتی رہوں گی لیکن اس کی کامیابی پر جشن یہاں کے میڈیا میں منایا جاتا ہے، مائیکل جیکسن کو بھی ایک مرتبہ پاکستانی میڈیا نے مسلمان کیا تھا اور اس کا کریڈٹ اپنی اسی جھولی میں ڈالا تھا جس میں سو چھید تو پہلے سے تھے اور دو چار سو چھید اب مزید پڑ چکے ہیں بلکہ کچھ نہ ہونے پر بھی ''کچھ نہ کچھ'' کہنے کا موقع مل جاتا ہے یا نکال لیا جاتا ہے، جیسے چند سال پہلے یہ سرخی جمی تھی کہ ''پاکستانی ایک اور بھارتی بھابی سے محروم رہ گئے'' نیچے تفصیل میں لکھا تھا کہ وسیم اکرم اور شش میتا سین کی شادی ہوتے ہوتے رہ گئی اور یہ اندازہ غالباً اس بات سے لگایا تھا کہ وسیم اکرم بھارت گئے تھے ، اب اس تازہ ترین میڈیائی لہر میں تقریباً تمام بھارت پاکستان کی تمام چیزوں سے متاثر ہو چکا ہے اور وہ دن دور نہیں جب تمام بھارتی نریندر مودی سے مطالبہ کریں گے کہ ہمیں پاکستانی ڈراما، پاکستانی میوزک، پاکستانی فلمیں، پاکستانی مزاج، پاکستانی ہیروز لا دو ورنہ ہم آیندہ تمہیں ووٹ نہیں دیں گے
مینو چاندی دیاں جھانجھراں لیا دے
جے تو میری ٹور ویکھنی
پہلے تو ہمارا خیال تھا کہ بھارتی صرف ہمارے شوبز گائیکوں ڈراموں اور گانوں سے متاثر ہیں لیکن اب پتہ چلا ہے کہ وہ ہماری سیاست، دیانت، تجارت، صنعت حتیٰ کہ حماقت سے بھی متاثر ہیں اور کہتے ہیں کہ حماقتیں ہوں تو پاکستانی حماقتوں جیسی ورنہ نہ ہوں، ابھی تازہ ترین خبر اگرچہ آئی نہیں ہے لیکن بہت جلد بس آیا ہی چاہتی ہے کہ بالی وڈ میں زوال روکنے کے لیے پاکستانی ہدایت کاروں، جعل سازوں اور چربہ سازوں کی خدمات حاصل کی جانے والی ہے اور اگر پاکستانیوں نے دیالو پن دکھا کر بالی وڈ کا نظام شوبز اپنے ہاتھ میں نہیں لیا ۔۔۔۔ تو اس کی داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔
ہمارے ساتھ اکثر ایسے المیے رونماء ہوتے ہیں کہ جن لوگوں سے ہمیں واسطہ پڑ جاتا ہے وہ کوالی فائیڈ تو کسی اور چیز میں ہوتے ہیں لیکن آ جاتے ہیں کسی اور فیلڈ میں، مثلاً ابتدا میں جب پشتو اکیڈمی کی بنیاد پڑی تو اس میں جن جن لوگوں کو بھرتی کیا گیا تھا کوئی جغرافیے میں کوالی فائیڈ تھا، کوئی زراعت میں تو کوئی جنگلات میں ۔۔۔ جس کے اثرات ابھی پشتو اکیڈمی میں پائے جاتے ہیں، ایک لڑکا جس نے فشری میں ماسٹر کیا تھا بوجہ بیروزگاری ریڈیو پاکستان میں آ گیا تھا اور پھر مزید سوئے اتفاق سے موسیقی کا شعبہ اس کے سپرد ہوا۔ اپنی ماہی پروری اور ماہی گیری کے علم اور اصطلاحات سے اس نے تمام فن کاروں کو تقریباً ماہی گیر بنا ڈالا تھا۔
ہر کوئی جو بھی بات کرتا ماہی گیری کی اصطلاح میں کرتا، سوری ہم ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر پٹڑی سے اتر گئے اصل بات ہم اس کمپلیکس کی کرنا چاہ رہے ہیں جو ان دنوں پاکستان پریس یا میڈیا کو لاحق ہے اور بری طرح لاحق ہے جس کا کوئی نام نہیں لیکن علامات یہ ہیں، بمبئی بریانی بھی پاکستانی بریانی کی مداح نکلی، لتا منگیشکر بھی اٹھارہ من کی دھوبن کی فین نکلی، راکھی ساونت بھی پاکستانی گانے پسند کرتی ہے، سونونگم بھی پاکستانی چیونگم کے رسیا نکلے، کاجل پاکستانی ڈراموں کی دلدادہ نکلی، بپاشا باسو پاکستانی ڈیزائنروں کی مداح نکلی، ملکہ شراوت بھی پاکستانی عبایا اور حجاب کی رسیا نکلی، مادھوری ڈکشٹ لاہوری حلوہ پوری کی شوقین نکلی، گجرات کی اڈلی اور تامل سانبھر، لاہوری ٹکا ٹک کی پرستار نکلے، ودیا بالن نے راحت فتح علی خان کی تعریف کی، کپل شرما نے پاکستانی مداح کی نقل کرنے کا اعتراف کر لیا، ایس اے رحمن پاکستانی موسیقی کے دل دادہ نکلے، سنیدھی چوہان عینی کی فین نکلی، راج کمار ہیرانی میڈم سنگیتا کی ہدایت کاری سے مثاتر۔ دراصل یہ بھی کمپلیکس کی ایک شکل ہے جو عرصہ دراز سے پاکستانی لکھاریوں، کالم نگاروں اور دانشوروں کو لاحق ہے کہ مغرب کی کسی بھی ایجاد کو لے کر اسے اندلس اور بغداد پہنچا دیتے ہیں، مثلاً آئن اسٹائن سے پہلے ان نظریات پر نشیاپور میں ایک مسلمان عالم البغلالی البغلان نے بہت سارا کام کیا تھا، اسٹیفن ہاکنگ کا نظریہ بلیک ہول دراصل عمر خیام کی خوشہ چینی ہے، کنڈولیزا رائس معروف ملکہ قلوپطرا کی امریکی ایڈیشن ہے، ہلیری کلنٹن ملکہ خیرزان جیسی لگتی ہے، انجلینا جولی ملکہ نور جہاں کو کاپی کرتی ہے، اس سلسلے میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہند والے بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔
وہ بھی جدید ترین ایجادات کو کسی نہ کسی طرح کھنیچ کھانچ کر رامائن اور مہابھارت تک پہنچا دیتے ہیں، رامائن میں جب راون سے لڑتے لڑتے رام کا بھائی لکشمن شدید زخمی ہو جاتا ہے اور ایک وید کے مطابق اس کا علاج صرف سنجیونی نای بوٹی ہوتی ہے جو کسی دور کے پہاڑ میں پائی جاتی ہے تو ہنومان اسے لانے کے لیے ہوا میں اڑتا ہے اور وہاں اس بوٹی کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے پورے پہاڑ کو اٹھا کر لاتا ہے تو درمیان میں اچانک مصنف کی ''رگ اجداد پسندی'' پھڑک اٹھتی ہے، لکھتا ہے دیکھا ۔۔۔۔ یہ مغرب والے اب کہیں جا کر ہوائی جہاز تک پہنچے ہیں ہمارے بزرگ اس زمانے میں ہیلی کاپٹر ایجاد کر چکے تھے، ہنومان اصل میں بہت بڑا موجد اور ہوا باز تھا، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی سے کم رہیں چنانچہ کئی کتابوں میں جب حضرت سلیمان کے ''تخت'' کی بات آتی ہے تو ہوائی جہاز اور آکسی جن، ہائیڈرو جن نامی جنات کا ذکر بھی آ جاتا ہے، دروپدی کے سوئمبر میں جب ارجن نیچے تیل کی کڑاہی میں دیکھ کر اوپر گھومتی ہوئی مچھلی کی آنکھ میں تیر مارتا ہے تو مصنف اچانک جوش میں بھر کر عش عش کرنے لگتا ہے، دیکھا ہمارے پرکھوں نے آج سے نو ہزار سال پہلے ٹیلی اسکوپ اور ریڈر ایجاد کر لیا تھا، اپنے آباؤ اجداد کے کارنامے ہر اس شخص کو یاد آنے لگتے ہیں جو خود کسی کام کا نہیں ہوتا، لیکن یہ بالکل ایک نئی بیماری ہے جو ان دنوں پاکستانی میڈیا کو لاحق ہوگئی ہے۔
ثانیہ مرزا بار بار کہتی ہے کہ میں بھارتی تھی بھارتی ہوں اور بھارتی رہوں گی لیکن اس کی کامیابی پر جشن یہاں کے میڈیا میں منایا جاتا ہے، مائیکل جیکسن کو بھی ایک مرتبہ پاکستانی میڈیا نے مسلمان کیا تھا اور اس کا کریڈٹ اپنی اسی جھولی میں ڈالا تھا جس میں سو چھید تو پہلے سے تھے اور دو چار سو چھید اب مزید پڑ چکے ہیں بلکہ کچھ نہ ہونے پر بھی ''کچھ نہ کچھ'' کہنے کا موقع مل جاتا ہے یا نکال لیا جاتا ہے، جیسے چند سال پہلے یہ سرخی جمی تھی کہ ''پاکستانی ایک اور بھارتی بھابی سے محروم رہ گئے'' نیچے تفصیل میں لکھا تھا کہ وسیم اکرم اور شش میتا سین کی شادی ہوتے ہوتے رہ گئی اور یہ اندازہ غالباً اس بات سے لگایا تھا کہ وسیم اکرم بھارت گئے تھے ، اب اس تازہ ترین میڈیائی لہر میں تقریباً تمام بھارت پاکستان کی تمام چیزوں سے متاثر ہو چکا ہے اور وہ دن دور نہیں جب تمام بھارتی نریندر مودی سے مطالبہ کریں گے کہ ہمیں پاکستانی ڈراما، پاکستانی میوزک، پاکستانی فلمیں، پاکستانی مزاج، پاکستانی ہیروز لا دو ورنہ ہم آیندہ تمہیں ووٹ نہیں دیں گے
مینو چاندی دیاں جھانجھراں لیا دے
جے تو میری ٹور ویکھنی
پہلے تو ہمارا خیال تھا کہ بھارتی صرف ہمارے شوبز گائیکوں ڈراموں اور گانوں سے متاثر ہیں لیکن اب پتہ چلا ہے کہ وہ ہماری سیاست، دیانت، تجارت، صنعت حتیٰ کہ حماقت سے بھی متاثر ہیں اور کہتے ہیں کہ حماقتیں ہوں تو پاکستانی حماقتوں جیسی ورنہ نہ ہوں، ابھی تازہ ترین خبر اگرچہ آئی نہیں ہے لیکن بہت جلد بس آیا ہی چاہتی ہے کہ بالی وڈ میں زوال روکنے کے لیے پاکستانی ہدایت کاروں، جعل سازوں اور چربہ سازوں کی خدمات حاصل کی جانے والی ہے اور اگر پاکستانیوں نے دیالو پن دکھا کر بالی وڈ کا نظام شوبز اپنے ہاتھ میں نہیں لیا ۔۔۔۔ تو اس کی داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔