افغان امن مذاکرات تعطل ختم کیا جائے

پاکستان نے ان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کیا جس کی یہ بھرپور کوشش تھی کہ افغان مفاہمتی عمل کامیابی سےہمکنار ہو

طالبان کو بھی ادراک ہو چکا ہے کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات کا راستہ ہی واحد حل ہے۔ فوٹو: فائل

LONDON:
وزیراعظم نواز شریف سے افغان صدر اشرف غنی نے اتوار کی شب ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان 10 منٹ تک مختلف امور، باہمی تعلقات اور خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر افغان امن عمل، مذاکرات میں پاکستان کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نوازشریف نے افغانستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں کی مذمت کی اور جاں بحق افراد کے اہلخانہ اور افغان عوام سے اظہار تعزیت کیا۔

پاکستان، افغانستان، امریکا، چین، روس اور دیگر عالمی قوتیں افغانستان میں قیام امن کے لیے سرگرم ہیں ان کی کوشش ہے کہ اس خطے میں ایک طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی اپنے اختتام کو پہنچے ۔ اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد افغان حکومت کی پالیسیوں میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں، موجود افغان حکومت جہاں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے وہاں وہ اندرون ملک جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مخالف فریقوں سے مذاکرات کا عمل بھی شروع کیے ہوئے ہے۔

7 جولائی کو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اسلام آباد میں امن مذاکرات کا دور شروع ہوا جس میں جنگ بندی اور غیر ملکی افواج کے انخلا پر غور کیا گیا۔ پاکستان نے ان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کیا جس کی یہ بھرپور کوشش تھی کہ افغان مفاہمتی عمل کامیابی سے ہمکنار ہو۔ یہ مذاکرات چین کے شہر ارومچی میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا تسلسل تھے جس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ چین بھی ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے سرگرم ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق چین کے افغانستان میں تجارتی مفادات بڑھتے جا رہے ہیں اور وہ اس خطے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے پر تول رہا ہے لہٰذا یہاں قیام امن اس کی ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے۔ مری میں ہونے والے مذاکرات میں یہ کوشش کی گئی کہ افغان حکام اور افغان طالبان کے درمیان اعتماد سازی کے امور طے پا جائیں تاکہ بات چیت کا عمل بلا کسی تعطل کے جاری رہے۔ یہ مذاکرات افغانستان میں قیام امن کے لیے بڑا بریک تھرو تھے۔ اس موقع پر یہ خدشات بھی سامنے آئے کہ کچھ نادیدہ قوتیں ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنا گھناؤنا کھیل کھیل سکتی ہیں۔


گزشتہ دنوں ملا عمر کے انتقال کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد افغان طالبان میں امارت کے مسئلے پر اختلافات پیدا ہو گئے اور وہ واضح طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ایک گروہ نے ملا اختر منصور کے ہاتھ پر بیعت کر کے انھیں اپنا امیر بنا لیا جب کہ دوسرا گروہ ملا عمر کے بیٹے کو امیر بنانے کے لیے سرگرم ہو گیا جس کا سیاسی دفتر قطر میں قائم ہے۔ طالبان میں ابھرنے والے ان اختلافات کے باعث مری میں شروع ہونے والے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے اور اس بات کا انتظار کیا جانے لگا کہ طالبان میں قیادت کا مسئلہ جلد از جلد حل ہو تاکہ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوسکے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ملا اختر منصور افغان حکومت سے مذاکرات پر رضا مند ہو گئے ہیں اور پاکستان نے ان مذاکرات کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں جن کا اگلا دور بھی مری میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم طالبان نے مذاکرات کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ابھی تک طالبان میں قیادت کے مسئلے پر اختلافات موجود ہیں تاہم اس وقت ملا اختر منصور کا گروہ زیادہ موثر حیثیت اختیار کر رہا ہے اور افغانستان کے مختلف صوبوں میں ملا اختر منصور کی بیعت جاری ہے اور دوسری جانب ان کے مخالفین کو بھی راضی کرنے کے لیے طالبان شوریٰ کا اجلاس جاری ہے۔

افغان طالبان کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات کی ذمے داری قطر آفس کو دی گئی ہے اور مفاہمتی عمل کی تمام کوششیں اسی کے ذمے کی جائیں گی، مری امن مذاکرات کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا تاہم موجودہ صورت حال میں کسی نمایاں پیشرفت کا امکان نہیں۔ دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک امن مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اس مقصد کے لیے پاک افغان سفیروں کی مشاورتی عمل کے لیے اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ طالبان نے مذاکرات کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی تاہم رابطے جاری ہیں۔

امارت کے مسئلے پر افغان طالبان میں اختلافات سامنے آنے پر بعض حلقوں کی جانب سے ان خدشات کا اظہار بھی کیا جانے لگا کہ اگر یہ اختلافات جلد از جلد دور نہ کیے گئے تو افغان طالبان کے گروہوں کے درمیان جنگ شروع ہو سکتی ہے تاہم ابھی تک ایسی کوئی صورت حال پیدا نہیں ہوئی اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔طالبان کو بھی ادراک ہو چکا ہے کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات کا راستہ ہی واحد حل ہے۔پاکستان اور افغانستان کو مذاکرات جلد از جلد شروع کرانے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر دینی چاہئیں تاکہ اس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والی قوتیں ناکام ہو جائیں۔
Load Next Story