عام انتخابات عدلیہ کی زیر نگرانی کرانے کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا جسٹس تصدق

ججزکو پریذائیڈنگ اورریٹرننگ افسرلگانے کی اجازت مانگ لی،کوشش ہے ووٹنگ شرح میںاضافہ ہو،آئندہ عام انتخابات اہم ہونگے،خطاب

چیف جسٹس نے ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے ووٹ کی تصدیق کی،ووٹنگ کی شرح70فیصد کرنا چاہتے ہیں، سونو بلوچ، کراچی میں ووٹرز ڈے پر واک۔ فوٹو: فائل

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات عدلیہ کی زیر نگرانی کرانے کا حامی ہے۔

انھوں نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پریذائیڈنگ اور ریٹرننگ آفیسرزکے طو رپر ججزکی تقرری کی اجازت دی جائے، الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح میں اضافے کیلیے ملنے والی تجاویز پر غورکر رہا ہے۔ وہ بدھ کو الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر میں قومی ووٹرز ڈے کے موقع پر منعقدہ سیمینارسے خطاب کررہے تھے۔


ارکان پارلیمنٹ سعید غنی، عاصمہ ارباب عالمگیر، سلیم حیدر، عبدالقادر خانزادہ کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوںکے رہنمائوںاوراین جی اوز، سول سوسائٹی کی نمائندہ تنظیموںکے عہدیداروں نے سیمینار میں شرکت کی۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہاکہ انھوں نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنرکے فرائض سنبھالتے ہی پہلا کام اس حوالے سے چیف جسٹس کوخط لکھنے کاکیا جس میں انھیں آئندہ عام انتخابات عدلیہ کی نگرانی میںکرانے کی تجویز دی گئی اور الیکشن کمیشن کے خط کو جوڈیشل پالیسی سازکمیٹی کے سامنے لا کر اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کرکے ججوںکی بطور ڈسٹرکٹ پریذائیڈنگ اور ریٹرننگ آفیسرزتقرری کی اجازت دینے کاکہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 1977ء کے بعد سے انتخابات میں ووٹنگ کی شرح میںکمی واقع ہوئی جو 1997ء کے انتخابات میں35 فیصد تک گرگئی جبکہ2007ء میں 44 فیصد رہی۔قائم مقام سیکرٹری الیکشن کمیشن افضل خان نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں پیسے کے استعمال کو روکنے کیلیے بھارتی تجربات سے فائدہ اٹھایا جائیگا۔ اس وقت 8 کروڑ 32 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کو ووٹرزکے قومی دن کے موقع پر الیکشن کمیشن اور نادرا کی طرف سے ووٹوںکی رجسٹریشن پر بریفنگ دی گئی۔ چیف جسٹس نے 8300 پر ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے ووٹ کے بارے میں معلومات حاصل کیں ۔

کراچی میں ووٹرز ڈے پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی الیکشن کمشنر سونوخان بلوچ نے کہا ہے کہ انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 70فیصد تک لیجانے کے خواہشمند ہیں۔ ووٹرز کو تحفظ فراہم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے۔ سونوخان بلوچ نے کہا کہ صوبے میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 13ہزار 600 سے بڑھا کر 19سے 20ہزار تک کی جا رہی ہے، ممبر الیکشن کمیشن جسٹس (ر) روشن علی عیسانی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کیلیے ضروری ہے کہ انتخابی عمل جاری رہے۔ ڈائریکٹر جنرل سندھ نادرا بریگیڈیر (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ الیکٹرونک انتخابی فہرستیں مرتب کردی گئی ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story