ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بل سینیٹ سے بھی منظور
وزراکی عدم موجودگی پرپھراحتجاج، وزیراعظم کے نوٹس میںلایاجائے،قائم مقام چیئرمین۔
اسلام آبادکوتربیلاسے پانی فراہمی کی تجویز زیرغورہے، وقفہ سوالات،ملالہ کیلیے دعاکی گئی. فوٹو: فائل
سینیٹ نے بھی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا بل اتفاق رائے سے منظورکرلیا۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ضرورت پڑنے پربل میں ترمیم کی جا سکتی ہیں۔ بدھ کووفاقی وزیرڈاکٹرفردوس عاشق نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی کی منظورکردہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بل کوزیرغورلایاجائے۔ قائد حزب اختلاف اسحق ڈارنے کہاکہ اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ فردوس عاشق کواعتمادمیںلیںتوبہترہوگا،بل میںترامیم منظور ہوگئیں تو پھر اسے دوبارہ قومی اسمبلی میں بھجوانا پڑے گا،فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ جس کے بھی خدشات ہیں ان کا ازالہ کیاجائے گا،سینیٹرعبدالنبی بنگش نے کہاکہ ہم اس شرط پربل منظورکرنے کی حمایت کر رہے ہیں کہ مستقبل میںہمارے خدشات دورکیے جائیں گے۔
اسحق ڈارنے کہاکہ صحت کامحکمہ صوبوںکومنتقل ہو چکاہے، ترامیم بھی صوبوںکی رضا مندی سے کرنی چاہئیں،فردوس عاشق نے کہا کہ صوبوںکوبائی پاس کر کے کوئی قانون سازی نہیں کرینگے۔ بعد ازاں چیئرمین نے بل شق وار منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا،ایوان میںتمسکات ومبادلہ کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے 2011 بھی پیش کر دی گئی،دریں اثناء ارکان سینٹ نے ایک بار پھر وزراء کی عدم شرکت پر شدید احتجاج کیا۔
وزیر خزانہ کی غیرحاضری پرزاہد خان نے کہا کہ وزراء سینٹ میں آتے ہی نہیں ، ایسے وزراء کو فوراً معطل کیاجانا چاہیے ، (ن) لیگ کے ایم حمزہ نے کہا کہ وزراء کی غیر حاضری ایوان کی توہین ہے، قائد ایوان ان کیخلاف ایکشن کیوںنہیں لیتے جس پر ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابربلوچ نے قائد ایوان جہانگیر بدرکو کہا کہ وزیراعظم کے نوٹس میں یہ معاملہ لیکر آئیں اور غیر حاضر وزراء کی نشاندہی شروع کی جائے ،جہانگیر بدر نے بتایا کہ ایوان متفقہ طور پر مذکورہ وزراء کے نام لے ، ان کے خلاف کارروائی کرینگے۔ وزیرداخلہ رحمن ملک کی درخواست پرایوان میں ملالہ اور اسکی زخمی ساتھی طالبات کی صحت یابی کیلئے دعابھی کی گئی۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ضرورت پڑنے پربل میں ترمیم کی جا سکتی ہیں۔ بدھ کووفاقی وزیرڈاکٹرفردوس عاشق نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی کی منظورکردہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بل کوزیرغورلایاجائے۔ قائد حزب اختلاف اسحق ڈارنے کہاکہ اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ فردوس عاشق کواعتمادمیںلیںتوبہترہوگا،بل میںترامیم منظور ہوگئیں تو پھر اسے دوبارہ قومی اسمبلی میں بھجوانا پڑے گا،فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ جس کے بھی خدشات ہیں ان کا ازالہ کیاجائے گا،سینیٹرعبدالنبی بنگش نے کہاکہ ہم اس شرط پربل منظورکرنے کی حمایت کر رہے ہیں کہ مستقبل میںہمارے خدشات دورکیے جائیں گے۔
اسحق ڈارنے کہاکہ صحت کامحکمہ صوبوںکومنتقل ہو چکاہے، ترامیم بھی صوبوںکی رضا مندی سے کرنی چاہئیں،فردوس عاشق نے کہا کہ صوبوںکوبائی پاس کر کے کوئی قانون سازی نہیں کرینگے۔ بعد ازاں چیئرمین نے بل شق وار منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا،ایوان میںتمسکات ومبادلہ کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے 2011 بھی پیش کر دی گئی،دریں اثناء ارکان سینٹ نے ایک بار پھر وزراء کی عدم شرکت پر شدید احتجاج کیا۔
وزیر خزانہ کی غیرحاضری پرزاہد خان نے کہا کہ وزراء سینٹ میں آتے ہی نہیں ، ایسے وزراء کو فوراً معطل کیاجانا چاہیے ، (ن) لیگ کے ایم حمزہ نے کہا کہ وزراء کی غیر حاضری ایوان کی توہین ہے، قائد ایوان ان کیخلاف ایکشن کیوںنہیں لیتے جس پر ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابربلوچ نے قائد ایوان جہانگیر بدرکو کہا کہ وزیراعظم کے نوٹس میں یہ معاملہ لیکر آئیں اور غیر حاضر وزراء کی نشاندہی شروع کی جائے ،جہانگیر بدر نے بتایا کہ ایوان متفقہ طور پر مذکورہ وزراء کے نام لے ، ان کے خلاف کارروائی کرینگے۔ وزیرداخلہ رحمن ملک کی درخواست پرایوان میں ملالہ اور اسکی زخمی ساتھی طالبات کی صحت یابی کیلئے دعابھی کی گئی۔