افغان صدر اور چیف ایگزیکٹو کی الزام تراشیاں
پاکستان سے جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں، افغان صدر اشرف غنی
پاکستان سے جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں، افغان صدر اشرف غنی فوٹو: فائل
افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے گزشتہ روز مختلف مواقعے پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر روایتی الزام تراشی کی۔ صدر اشرف غنی نے کابل میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس میں انھوں نے بھارتی لیڈروں کے لہجے میں کہا کہ پاکستان سے جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں، پاکستان میں خودکش بمبارتیار کرنے والے کیمپ اور بم بنانے والی فیکٹریاں پہلے کی طرح کام کر رہی ہیں۔
افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی وزراء کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسی قسم کا لہجہ اختیار کیا اور الزام لگایا ہے کہ ا فغانستان میں حالیہ تمام دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی۔ انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو تباہ کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایمانداری سے افغان حکومت کی حمایت کرنے سے گریزاں ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی زیرقیادت افغانستان میں امن اور مصالحت کی کوششوں کے حوالے سے بدستور پرعزم ہے۔
دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہلاکتوں پر غم وغصہ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے افغانستان سے مکمل تعاون کریں گے۔ افغانستان کے صدر کی کابل میں ہونے والی پریس کانفرنس اور اس کے متن کا نوٹس لیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ وزیراعظم پاکستان نے 12 مئی کو دورہ کابل کے موقعے پر کہا تھا، پاکستان افغانستان کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پاکستان افغانستان سے مکمل تعاون کرے گا۔
افغانستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو نے جس غصے کا اظہار کیا ہے، اس کی تہہ میں افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ افغانستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کو روکنے کی ذمے داری افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کا کام ہے یا وہاں موجود اتحادی فوجوں کا۔ افغانستان میں طالبان عرصے سے کارروائیاں کر رہے ہیں، یہ کوئی نیا کام نہیں ہے۔ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے برسراقتدار آنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید افغان حکومت کا پاکستان کے بارے میں رویہ تبدیل ہو جائے لیکن افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ افغان صدر نے دھمکی آمیز لہجہ اپناتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان سے جنگ کے پیغام مل رہے ہیں۔
پاکستان کی حکومت کے لیے افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ افغانستان میں بھارت کا عمل دخل بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ افغانستان میں بااثر طبقوں نے ایک ایسی سوچ کو جنم دیا ہے جو بھارت سے ملتی جلتی ہے۔ جس طرح بھارت کی اسٹیبلشمنٹ نے بھارتی عوام میں پاکستان دشمنی کی فضا پیدا کی ہے، اسی طرح افغانستان کی لیڈرشپ بھی پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دے کر اپنی ناکامیوں کو چھپا رہی ہے۔
پاکستان تو دہشت گردوں کے خلاف باقاعدہ حالت جنگ میں ہے۔ پاکستان یہ جنگ اپنے بل بوتے پر لڑ رہا ہے۔ اس لڑائی میں اسے کسی دوسرے ملک کی فوجی مدد یا مالی مدد حاصل نہیں جب کہ افغانستان کی حالت یہ ہے کہ وہاں امریکا اور اس کی اتحادی افواج موجود ہیں۔ افغانستان کی اپنی فوج اور پولیس بھی موجود ہے۔ بھارت بھی وہاں موجود ہے، اس کے باوجود وہ اس قابل نہیں کہ اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو روک سکے۔
افغانستان کی لیڈرشپ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پر الزام تراشی کر کے وہ اپنی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ جہاں تک افغان طالبان سے مذاکرات کا تعلق ہے تو پاکستان نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مری میں ہونے والے مذاکرات اس کا ثبوت ہیں۔ اب اگر افغان طالبان کے اندر کوئی اختلافات پیدا ہو گئے ہیں یا افغانستان میں داعش کا عمل دخل شروع ہو گیا ہے تو ان معاملات پر نظر رکھنا افغان حکومت کا کام ہے یا پھر افغان حکومت کے اتحادیوں کا۔ پاکستان نے تو ابھی تک لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے۔
اصولی طور پر افغانستان کی حکومت کو اپنے باشندوں کو وطن واپس لانے کے انتظامات کرنے چاہئیں لیکن وہ اس معاملے پر بھی نہیں آ رہے۔ پاکستان کے لیے افغانستان ہمیشہ سے مسائل پیدا کرتا چلا آ رہا ہے۔ افغانستان وہ واحد ملک ہے جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی تھی۔ اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ بہرحال وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی شمال مغربی پالیسی پر نظرثانی کرے۔
پاک افغان سرحد کو فول پروف بنانا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ پاک افغان سرحد پر آمد ورفت کو ویزا سے منسلک کیا جائے۔ پاک افغان سرحد پر خاردار باڑ لگائی جائے اور اس کی نگرانی زیادہ سخت کی جائے۔ پاکستان کی حکومت کو افغانستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو کی ان الزام تراشیوں کا نوٹس لینا چاہیے اور اس کا مناسب انداز میں جواب دیا جانا چاہیے۔
افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی وزراء کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسی قسم کا لہجہ اختیار کیا اور الزام لگایا ہے کہ ا فغانستان میں حالیہ تمام دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی۔ انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو تباہ کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایمانداری سے افغان حکومت کی حمایت کرنے سے گریزاں ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی زیرقیادت افغانستان میں امن اور مصالحت کی کوششوں کے حوالے سے بدستور پرعزم ہے۔
دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہلاکتوں پر غم وغصہ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے افغانستان سے مکمل تعاون کریں گے۔ افغانستان کے صدر کی کابل میں ہونے والی پریس کانفرنس اور اس کے متن کا نوٹس لیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ وزیراعظم پاکستان نے 12 مئی کو دورہ کابل کے موقعے پر کہا تھا، پاکستان افغانستان کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پاکستان افغانستان سے مکمل تعاون کرے گا۔
افغانستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو نے جس غصے کا اظہار کیا ہے، اس کی تہہ میں افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ افغانستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کو روکنے کی ذمے داری افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کا کام ہے یا وہاں موجود اتحادی فوجوں کا۔ افغانستان میں طالبان عرصے سے کارروائیاں کر رہے ہیں، یہ کوئی نیا کام نہیں ہے۔ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے برسراقتدار آنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید افغان حکومت کا پاکستان کے بارے میں رویہ تبدیل ہو جائے لیکن افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ افغان صدر نے دھمکی آمیز لہجہ اپناتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان سے جنگ کے پیغام مل رہے ہیں۔
پاکستان کی حکومت کے لیے افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ افغانستان میں بھارت کا عمل دخل بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ افغانستان میں بااثر طبقوں نے ایک ایسی سوچ کو جنم دیا ہے جو بھارت سے ملتی جلتی ہے۔ جس طرح بھارت کی اسٹیبلشمنٹ نے بھارتی عوام میں پاکستان دشمنی کی فضا پیدا کی ہے، اسی طرح افغانستان کی لیڈرشپ بھی پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دے کر اپنی ناکامیوں کو چھپا رہی ہے۔
پاکستان تو دہشت گردوں کے خلاف باقاعدہ حالت جنگ میں ہے۔ پاکستان یہ جنگ اپنے بل بوتے پر لڑ رہا ہے۔ اس لڑائی میں اسے کسی دوسرے ملک کی فوجی مدد یا مالی مدد حاصل نہیں جب کہ افغانستان کی حالت یہ ہے کہ وہاں امریکا اور اس کی اتحادی افواج موجود ہیں۔ افغانستان کی اپنی فوج اور پولیس بھی موجود ہے۔ بھارت بھی وہاں موجود ہے، اس کے باوجود وہ اس قابل نہیں کہ اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو روک سکے۔
افغانستان کی لیڈرشپ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پر الزام تراشی کر کے وہ اپنی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ جہاں تک افغان طالبان سے مذاکرات کا تعلق ہے تو پاکستان نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مری میں ہونے والے مذاکرات اس کا ثبوت ہیں۔ اب اگر افغان طالبان کے اندر کوئی اختلافات پیدا ہو گئے ہیں یا افغانستان میں داعش کا عمل دخل شروع ہو گیا ہے تو ان معاملات پر نظر رکھنا افغان حکومت کا کام ہے یا پھر افغان حکومت کے اتحادیوں کا۔ پاکستان نے تو ابھی تک لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے۔
اصولی طور پر افغانستان کی حکومت کو اپنے باشندوں کو وطن واپس لانے کے انتظامات کرنے چاہئیں لیکن وہ اس معاملے پر بھی نہیں آ رہے۔ پاکستان کے لیے افغانستان ہمیشہ سے مسائل پیدا کرتا چلا آ رہا ہے۔ افغانستان وہ واحد ملک ہے جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی تھی۔ اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ بہرحال وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی شمال مغربی پالیسی پر نظرثانی کرے۔
پاک افغان سرحد کو فول پروف بنانا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ پاک افغان سرحد پر آمد ورفت کو ویزا سے منسلک کیا جائے۔ پاک افغان سرحد پر خاردار باڑ لگائی جائے اور اس کی نگرانی زیادہ سخت کی جائے۔ پاکستان کی حکومت کو افغانستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو کی ان الزام تراشیوں کا نوٹس لینا چاہیے اور اس کا مناسب انداز میں جواب دیا جانا چاہیے۔