سندھ میں کرپشن یا میڈیا ٹرائل

سندھ میں کرپشن کا شور 7سالوں سے مچایا جا رہا ہے مگر گزشتہ دنوں سے نیب اور ایف آئی اے نے ان شکایات پر توجہ دی

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ میں نیب اور ایف آئی اے کے اچانک متحرک ہو جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی ادارے کسی بھی صوبے کے اینٹی کرپشن معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

کرپشن پر کنٹرول صوبائی معاملہ ہے مگر وفاقی ادارے اس معاملے میں سندھ میں غیر قانونی مداخلت اور سندھ حکومت کا میڈیا ٹرائل کر رہے ہیں جب کہ سندھ میں کرپشن دیگر صوبوں سے کم ہے مگر نیب اور ایف آئی اے چھاپے مار کر سرکاری فائلیں لے جاتے ہیں، اگر کے ایم سی کی کوئی فائل گم ہوئی تو ذمے دار وفاقی ادارے ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر شکار پور کا ذکر کیا کہ وہاں بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے یہ اعتراف ضرور کر لیا کہ سندھ میں کرپشن دیگر صوبوں سے کم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ سندھ میں اچانک محکمہ اینٹی کرپشن کیوں متحرک ہو گیا ہے اور اس نے صوبے میں چھاپے مارنے کیوں شروع کر دیے ہیں۔ اینٹی کرپشن نے میرپور خاص کے علاوہ دیگر شہروں کے بلدیاتی اداروں پر خاص طور پر چھاپے مارے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

ملک کی سب سے بڑی بلدیہ عظمیٰ جس پر ضلعی نظام میں چار سال جماعت اسلامی اور چار سال متحدہ کے ضلع ناظمین بااختیار حاکم رہے اور گزشتہ چھ سالوں سے سندھ کے تمام بلدیاتی اداروں پر سندھ حکومت نے سرکاری ایڈمنسٹریٹر مسلط کر رکھے ہیں اور جان بوجھ کر سندھ میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جا رہے۔

پی پی حکومت میں 5 سال سابق صدر آصف زرداری کے خاص دوست آغا سراج درانی وزیر بلدیات رہے جو سب سے بااثر و بااختیار وزیر تھے جن کے دور میں بلدیاتی اداروں میں اندھا دھند سیاسی بھرتیاں ہوئیں کہ سندھ کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین تنخواہوں کو ترس گئے جو پہلے انھیں باقاعدگی سے وقت پر ملا کرتی تھیں۔

بعد میں آصف زرداری کے منہ بولے بھائی مظفر احمد عرف ٹپی وزیر بلدیات بنائے گئے جو گزشتہ پانچ سالوں میں رکن اسمبلی بھی نہ ہوتے ہوئے سندھ کے چار وزرائے اعلیٰ کہلانے میں سب سے اہم تھے۔ بعد میں نہ جانے کیوں انھیں ہٹا کر ایک اور قابل اعتماد وزیر کو جو محکمہ اطلاعات کے وزیر تھے انھیں ہی وزیر بلدیات بھی بنا دیا گیا اور ان ہی شرجیل میمن کو اب دونوں اہم محکموں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

پی پی دور کے گزشتہ سات سالوں میں یوں تو ہر سرکاری محکمے میں کرپشن کی شکایات ہوتی رہیں اور صوبائی وزیروں تک پر سرکاری ملازمتیں فروخت کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ وزیر اعلیٰ اور وزیروں کی کھلی کچہریوں میں جیالے بغیر رشوت ملازمت نہ ملنے پر احتجاج کرتے رہے مگر سندھ حکومت خاموش رہی۔


سندھ کے اپوزیشن لیڈر اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ ترقیاتی و تعمیری کاموں کے لیے اربوں روپے تو مختص کیے جاتے ہیں مگر یہ کہاں پر خرچ ہوتے ہیں اس کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔ سندھ کے سابق اپوزیشن لیڈر شہریار مہر بھی محکمہ بلدیات شرجیل میمن اور سابق وزیر بلدیات سراج درانی پر الزامات لگاتے رہے اور بلدیاتی افسروں سے رشوت لیے جانے کے لیے اسمبلی فلور پر بولتے رہے مگر کچھ نہیں ہوا۔

سندھ میں کرپشن کا شور سات سالوں سے مچایا جا رہا ہے مگر گزشتہ دنوں سے نیب اور ایف آئی اے نے ان شکایات پر توجہ دی اور چھاپے مارنا شروع کیے جس پر سندھ حکومت سخت برہم اور پریشان ہے۔ سندھ پولیس میں کرپشن کے متعلق تو سپریم کورٹ نے موجودہ آئی جی پولیس غلام حیدر جمالی کو کہا ہے کہ آپ کے دور میں کرپشن تین گنا بڑھی ہے اور آپ کا زور بکتر بند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹر کی خریداری پر ہی ہے۔ اس سے قبل بھی سپریم اور سندھ ہائی کورٹ میں سندھ کے محکموں میں کرپشن کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔

سندھ کے (سابق) وزیر تعلیم پیر مظہر الحق سمیت متعدد اعلیٰ سرکاری افسروں نے گرفتاریوں کے ڈر سے عدالتوں سے ضمانتیں کرا لی ہیں اور بلدیہ عظمیٰ، ایس بی سی اے و دیگر محکموں کے متعدد افسران گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ سندھ کے اپوزیشن لیڈر سندھ میں جاری کرپشن کو معاشی دہشت گردی قرار دیا ہے اور اسے انجام تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے نیب اور ایف آئی اے کو سندھ پر حملہ آور قرار دیتے ہوئے صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ سے رجوع کرنے کی بھی دھمکی دی ہے اور یہی بات اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی کی ہے جب کہ سندھ کی دیگر تمام سیاسی پارٹیاں اور رہنما نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیوں کا خیر مقدم کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے سوا دیگر تمام ان چھاپوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

سندھ حکومت کو اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ سے رجوع کرنے کا حق تو ہے مگر سندھ کے معاملات میں سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ صوبے میں کرپشن کے متعلق جو ریمارکس دے چکے ہیں وہ سندھ حکومت کے لیے حوصلہ افزا نہیں ہیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصاً آصف علی زرداری ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، مظفر ٹپی، متعدد اہم وزیروں اور رہنماؤں کے ملک میں نہ ہونے پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں بڑی چہ میگوئیاں ہو چکی ہیں جب کہ سابق صدر آصف علی زرداری بھی کرپشن کے معاملے میں کلیئر نہیں ہوئے ہیں اور ان کے خلاف مقدمات بھی دوبارہ کھل گئے ہیں اور عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

پی پی پی رہنماؤں پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی طور پر کمائی ہوئی دولت لانچوں اور دیگر ذرایع سے بیرون ملک منتقل کی ہے اور بعض وزیروں کے دبئی کے آئے روز کے دورے بھی شکوک کو یقین میں بدل رہے ہیں۔ سندھ سے متعلق اہم فیصلے اب کراچی کی بجائے دبئی میں کیے جا رہے ہیں جس پر کڑی تنقید بھی ہو رہی ہے۔ سندھ میں کرپٹ افسروں کی گرفتاریاں ثابت کر رہی ہیں کہ سندھ میں کرپشن کے چرچے سندھ حکومت کے خلاف میڈیا ٹرائل نہیں حقیقت بھی ہے اور سرکاری افسروں نے اربوں اور کروڑوں روپے کی کرپشن تنہا نہیں کی بلکہ اپنے حکومتی اور سیاسی سرپرستوں کی ملی بھگت سے کی ہے اور تحقیقات کے نتیجے میں اس سلسلے میں انکشافات بھی ہوں گے۔

سندھ خود مختار ملک نہیں پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے اور نیب اور ایف آئی اے پاکستان کے وفاقی ادارے ہیں جو کرپشن کی شکایات پر سندھ پر حملہ آور نہیں ہوئے بلکہ اپنا آئینی حق فرض کے طور پر ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے سندھ حکومت کے دباؤ میں نہیں آ رہے اسی لیے ان پر الزامات لگ رہے ہیں۔ سندھ میں اگر کرپشن نہیں ہوئی تو حکومت خوفزدہ نہ ہو تحقیقات میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ضرور ہو جائے گا۔
Load Next Story