پاکستان کے فرنٹ لائن ملک ہونے کا اعتراف

بیلاروس کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں مضبوط تعلقات کی خواہش اسی معاشی ایجنڈا کی ایک کڑی ہے۔

پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات پر گامزن ہے اور رہے گا جس کے تحت حکومت بیلاروس کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی۔ فوٹو : پی آئی ڈی

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے دنیا کی نصف آبادی مستفید ہوگی۔ اقتصادی راہداری کے تحت شاہراہوں کے مربوط نظام سے خطے میں خوشحالی آئیگی۔ حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہی ہے ۔ منگل کو بیلاروس اور پاکستان مشترکہ بزنس فورم سے خطاب میں وزیراعظم نے در حقیقت خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو تقویت دینے کا تزویراتی و معاشی ایجنڈا پیش کیا ہے جسے عالمی طور پر اسی اقتصادی استحکام ومربوط ہمسائیگی کے طاقتور تناسب میں دیکھنے کی ضرورت ہے، پاک چین اقتصادی راہداری بلاشبہ ایک اقتصادی بریک تھرو ہے جس پر بھارت یا کسی اور کو کسی تشویش یا بدگمانی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔ یہ منصوبہ کسی ملک کے خلاف نہیں، اسے پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنا ہے، دریں اثنا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے آغازکا جائزہ لینے کے لیے پاکستانی اراکین پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد تین روزہ دورے پر چین پہنچ چکا ہے۔

ادھر امریکا نے امید ظاہرکی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مفاہمتی بات چیت کومتاثر نہیں کرینگے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ یہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے کہ وہ مل کر اپنی سرحدکے دونوں جانب موجود دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ اور ان کی قوت کو کم کریں۔اس حوالے سے پیشرفت ہوئی ہے لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ محفوظ ٹھکانے ختم کرنے اور بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس ضمن میں امریکا ثالثی سمیت کسی واضح موقف کے ساتھ افغان اور طالبان رہنماؤں پر اثر انداز ہونے کے لیے صدراشرف غنی اور مذاکرات کے لیے تیار طالبان لیڈروں کی نئی صف بندی کے تقاضوں کا ادراک نہیں کررہا، صرف پاکستان پر زوردینا کہ وہ اور افغان حکام مل کر دہشت گردوں کا صفایا کریں، مناسب حکمت عملی نہیں۔

پاکستان اور کیا کرے اس نے بارہا کہا کہ پر امن افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے، مگر کوئی افغان حکمرانوں کو بھی تو سمجھائے کہ وہ الزامات کی تکرار سے گریز کریں، چنانچہ پاکستان پر تنقیدکے حوالے سے امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر وزیرِخارجہ جان کیری نے افغان صدرسے بات بھی کی ہے جب کہ جان کیری نے کہاکہ افغانستان میں مصالحتی عمل امریکا کی اولین ترجیح ہے تاہم دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنا آسان نہیں، اس کے لیے سب کو متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔ادھر پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نے افغان صدر اشرف غنی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گرد افغانستان اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں۔ دہشت گردی سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے پاک افغان تعاون ضروری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اب تک ہم 60000سے زائد جانیں قربان کر چکے ہیں ۔ امریکا نے قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کیا ہے اور پاکستان کو اس کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے تمام تر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا ہے۔ اس بات کا اعتراف منگل کو وزارت دفاع میں پاکستان،امریکا دفاعی مشاورتی گروپ کے23ویں اجلاس میں کیا گیا۔


اس حوالے سے بیلاروس کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں مضبوط تعلقات کی خواہش اسی معاشی ایجنڈا کی ایک کڑی ہے، وسط ایشیائی ریاستیں خطے کی اقتصادی قلب ماہیت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ منسک میں وزیراعظم کا عزم مثبت تھا کہ مشترکہ بزنس فورم دونوں ممالک کی تاجر برادری میں تعلقات مضبوط بنانے کے لیے موثر کردار ادا کرے گا۔ انھوں نے حکومت کی حکمت عملی بھی بیان کی کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات پر گامزن ہے اور رہے گا جس کے تحت حکومت بیلاروس کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی۔ امن، خوشحالی اور استحکام سے ہی خطے کا مستقبل روشن ہوگا۔ وزیراعظم نواز شریف اور بیلاروس کے وزیراعظم آندرے کوبیاکوف کے درمیان ملاقات میں دونوں ملکوں نے آیندہ کے اشتراک کار کا خاکہ وضع کرنے اور تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کے لیے درمیانی اور طویل المدتی روڈ میپ تیارکر کے باہمی تعلقات کو تیزتر بنیادوں پر فروغ دینے پراتفاق کیا ہے۔ تاہم خطے کے معاشی تناظر میں بھی بھارت کی رخنہ اندازی جاری ہے، ایک طرف پاکستان میں سیلاب کے نتیجے میں کئی علاقے زیر آب چکے ہیں، متعدد افراد جاں بحق ہو گئے لیکن بھارت نے 13سے 16 اگست کے دوران ستلج میں مزید پانی چھوڑنے کی وارننگ جاری کی ہے۔

بھارت کے متعلقہ حکام کی طرف سے پاکستان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ دریائے ستلج پر بنے بھارت کے بھاکھڑا اور پونگ ڈیم بھر چکے ہیں اور بھارت کسی بھی وقت 56ہزار کیوسک پانی چھوڑ سکتا ہے، نیزبھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سے اے راگھوان کا کہنا ہے کہ بھارت پاک چین اقتصادی راہداری کا مخالف نہیں، صرف راہداری کے اس حصے پر اعتراض ہے جو آزاد کشمیر سے گزرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور میں پلڈاٹ کے زیر اہتمام حالیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جب کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں اور کوٹلی میں فائرنگ سے ایک پاکستانی خاتون کی شہادت پر بھارت سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔ یہ صورتحال بھارتی ہٹ دھرمی کی مستقل حکمت عملی کی مظہر ہے جس کے جواب میں دفترِ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق ایل او سی پر سیزفائر کی خلاف ورزی کا یہ واقعہ8 اگست کی شب پیش آیا تھا۔ اس فائرنگ سے 28 سالہ فریدہ شدید زخمی ہوئی تھیں جو منگل کو زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کیا گیا اور ان سے سرکاری طور پر احتجاج کیا گیا ہے۔ بھارتی حکام پر واضح کیا گیا کہ صرف ڈیڑھ ماہ کے دوران بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی 60سے زیادہ مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی افواج نے جولائی کے مہینے میں 37 اوراگست میں اب تک24مرتبہ یہ خلاف ورزیاں کی ہیں مگر ندامت و اعتراف کے بجائے وزیر مملکت برائے داخلہ ہری بھائی پراتھبائی چوہدری نے لوک سبھا میں ایک تحریری بیان بطور الزام داغا کہ رواں سال 26 جولائی2015ء تک پاکستان نے سرحد پر 192 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔ ادھر پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز نہیں کر سکتے، یہ مذاکراتی ایجنڈے میں ناگزیر حیثیت کا حامل اور بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاک بھارت مذاکراتی ایجنڈا میں ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں ''را'' کی مداخلت کا معاملہ بھی شامل ہے۔ پاکستان بھارتی حکام کو را کی پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شواہد بھی فراہم کرے گا۔

حقیقت میں بھارت سمیت تمام عالمی قوتوں کو پاکستان کی داخلی صورتحال ،اس کی اقتصادی ترجیحات، کرپشن ، غربت اور بیروزگاری کے خاتمہ ، دہشت گردی سے نمٹنے اور سیاسی و سماجی استحکام کی کوششوں پر سنجیدگی سے نظر ڈالنی چاہیے، مخاصمت، دشمنی ،اور ماضی کا انداز سیاست برصغیر کے مسائل کا حل نہیں۔ پاکستان کے فرنٹ لائن ملک ہونے کا اعتراف عملاً نظر آنا چاہیے۔
Load Next Story