سڑکوں کی پارلیمان عالی
اگر میں نے کچھ کیا تو تم سڑک پر آجاؤ گے یہ ڈیل نہیں ہوئی یا یہ قرضہ ادا نہیں ہوا تو میں تو سڑک پر آجاؤں گا،
barq@email.com
جناب کپتان خان کا تازہ ترین فرمودہ یہ ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے جواب سے ''مطمئن'' نہیں ہوئے تو پھر سڑکوں پر آجائیں گے، کچھ یاد آیا آپ کو؟ نہیں آیا ہو گا کیوں کہ نہ آپ نے فردوسی کا شاہنامہ پڑھا ہو گا اور نہ اس میں رستم پہلوان کی وہ بات سنی ہو گی جو اس نے ''افراسیاب'' کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے کہی تھی کہ
وگرنہ بکام من آمد جواب
من وگرزو میدان و افراسیاب
یعنی اگر افراسیاب کی طرف سے میری مرضی کا ''جواب'' نہیں آیا تو ... پھر ... تو پھر ''میں'' ہوں گا میرا ''گرز'' ہو گا ''میدان'' ہو گا اور افراسیاب، رستم اور سہراب کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے لیکن اس ''رستم'' سے حوالہ پا کر اور بھی دنیا میں بہت سارے ''رستم'' ہوئے ہیں جن میں زیادہ قابل ذکر تین ہیں ایک تو وہی افراسیاب و میدان و گرز والا اصلی رستم، دوسرے ہمارے رستم زمان گاما پہلوان جس نے لندن میں اس وقت کے چیمپئن کو ہرا کر رستم زمان کا ٹائٹل جیتا تھا اور تیسرے؟ آپ جانتے ہیں عالمی کپ ... جی ہاں، لیکن یہ سڑکوں پر نکل آنے والی بات کچھ ایسی بات ہے جس میں کوئی ایسی بات ہے جو ہر بات میں نہیں ہوتی، دراصل ہر ملک اور معاشرے کی اپنی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں مثلاً ہمارے ہاں ''سڑکوں پر آنا'' ایک کارنامہ ہے طاقت کا مظاہرہ ہے اور دشمن کو تگنی کا ناچ نچانا ہے لیکن پڑوسی ملک میں سڑک پر آجانا انتہائی بری حالت کو کہتے ہیں مثلاً یہ کام نہیں ہوا تو ہم سڑک پر آجائیں گے۔
اگر میں نے کچھ کیا تو تم سڑک پر آجاؤ گے یہ ڈیل نہیں ہوئی یا یہ قرضہ ادا نہیں ہوا تو میں تو سڑک پر آجاؤں گا، سڑک پر نہیں آنا چاہتے تو جیسا میں کہتا ہوں کرو ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ، سیدھی زبان میں دیوالیہ ہونے کو سڑک پر آنا سمجھ لیجیے، لیکن ہمارے ہاں سڑک پر آنا اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں جانے سے بڑی بات ہے کیوں کہ سلامتی کونسل میں تو صرف چار پانچ ووٹ ہوتے ہیں اور ''سڑک کونسل'' میں ہر قسم کے ''بٹ'' بھی ووٹر بلکہ ویٹو مارنے والے بھی ہوتے ہیں لیکن ''اصطلاحات'' کا یہ اختلاف یا بظاہر تضاد بھی کہیں نہ کہیں کوئی ''مشترکہ رگ'' ہوتی ہے، مثلاً اٹک پار اگر آپ کسی کو کمینہ کہیں گے تو وہ مرنے مارنے پر اتر آئے گا کیوں کہ یہ ایک بہت بڑی گالی ہے لیکن یہی لفظ ''کمینہ'' جب اٹک پار کر کے اور ایک ہزار ایک سو ایک ''پلازہ جات'' پر لٹنے کے بعد کے پی کے میں آجاتا ہے تو ''خیر پخیر'' ہو جاتا ہے، وہاں آپ کسی چوہدری کو یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا چوہدری بڑا کمینہ آدمی ہے یا چوہدری صاحب آپ بڑے کمینے ہیں لیکن یہاں ہم بڑے بڑے خان اور آدمی کو بڑے آرام سے کمینہ کہہ کر اچھی خاصی داد پا لیتے ہیں، خان تو کمینہ آدمی ہے کیوں خان ؟ ہاں بھئی میرے آباؤاجداد بھی کمینے رہے ہیں بلکہ ہمارا خاندان ہی جدی پشتی کمینہ ہے، کمینگی میں تو کوئی ہماری برابری کر ہی نہیں سکتا، مثلاً ابھی ہم اسی وقت اگر پشتو میں کہیں گے کہ ہمارے فلاں وزیر یا وزیراعلیٰ یا پارٹی سربراہ بڑے کمینے انسان ہیں تو وہ از حد خوش ہو جائیں گے بلکہ یہاں سیاستدانوں کو بے شک کہہ ڈالیں وہ کچھ نہیں کہیں گے بلکہ مسکرا کر لطف اندوز ہو جائیں گے لیکن جوں اٹک پار ہوئے لفظ نے سب کچھ بدل بلکہ الٹ دیا۔
اب یہاں پھر ایک پرانی کہانی دم ہلانے لگی ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے اس سے بھی نمٹ ہی چلیں تو اچھا ہے وہ ایک چرسی تھا جو اندھیرے میں کباب کھا رہا تھا اور کباب کا ایک ٹکڑا نیچے گر پڑا اس نے چارپائی کے نیچے زمین پر ہاتھ پھیرا تو ''کچھ'' ہاتھ لگا اس نے کباب کا ٹکڑا سمجھ کر منہ میں ڈال لیا لیکن وہ کباب کی جگہ ''کچھ'' اور تھا چنانچہ چبانے پر مختلف ذائقہ محسوس کر کے بولا ، کم بخت تم نے تو گرتے ہی اپنا ذائقہ بدل ڈالا ۔ کچھ الفاظ بھی ایسے ہی بہروپئے ہوتے ہیں جو جگہ بدلتے ہی اپنے معنی بدل دیتے ہیں ایسا ہی یہ لفظ سڑک بھی ہے وہاں سڑک میں اس کا مطلب ''دربدری'' ہوتا ہے لیکن یہاں ... جناب کپتان اور علامہ قادری نے اس کے معنی کچھ سے کچھ کر دیے ہیں یوں کہئے کہ ''دربدری'' کے بجائے ''بے مادر پدری'' کر دیے ہیں بلکہ لباس بدلنے جیسا کوئی عمل سمجھ لیجیے
ہر منزل غربت پہ گماں ہوتا ہے گھر کا
بہلایا ہے ہر گام ہمیں ''دربدری'' نے
بھلے ہی پڑوسی ملک میں ''سڑک'' یا سڑک پر آنے کے معنی کچھ اور ہوں لیکن اپنے ہاں ''سڑک'' کا مطلب پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ سے بھی دس ہزار گنا زیادہ سمجھ لیجیے، کہ کہاں کہاں سے لوگ آکر کتنے کتنے بڑے بڑے مسائل سڑک پر حل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہیں پر کوئی قتل یا حادثہ ہوتا ہے تو لاش سڑک پر رکھ کر ٹرائل شروع ہو جاتا ہے، کہیں کسی پہاڑ کے اوپر کسی چیونٹے نے چیونٹی پر بری نظر ڈالی ہے تو معاملہ فوراً سڑک کی عدالت میں دائر کر دیا جاتا ہے، مطلب یہ کہ سڑک ویسے تو سڑک ہوتی ہے جو بقول علامہ بریانی کے نہ کہیں جاتی ہے نہ کہیں سے آتی ہے لیکن پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ سڑک فلاں فلاں جگہ جاتی ہے حتیٰ کہ بعض سڑکیں تو ''دستور'' تک بھی جاتی ہوئی نظر آتی ہیں حالانکہ اپنی جگہ لیٹی ہوئی ہوتی ہیں... گویا
تیری ہی طرح آج ترے ہجر کے دن بھی
جاتے نظر آتے ہیں مگر کیوں نہیں جاتے
ہماری سڑکوں کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ادھر بہت دور کہیں ''قطبین'' کے قریب ''کینیڈا'' میں بھی کوئی ''مسئلہ'' پیدا ہوتا ہے تو وہ سیدھا اسلام آباد کسی سڑک پر بذریعہ کنٹینر پہنچتا ہے اور ''حل'' ہو کر چلا جاتا ہے، اسلام آباد کی سڑکوں پر خاص طور سے مسائل کے حل کے لیے جو ''اجلاس'' منعقد کیے جاتے ہیں انھیں قانونی یا شاید غیر قانونی بھاشا میں دھرنا کہتے ہیں جن میں کوئی ''ڈی جے'' مقدمہ چلاتا ہے یوں سمجھئے کہ یہ ڈی جے ایک طرح سے پبلک پراسیکوٹر ہوتے ہیں ایک کٹہرا کنٹینر کی صورت میں ہوتا ہے اور وہاں سے گیتا سیتا یا بیبیتا پر ہاتھ رکھ کر بیان دیے جاتے ہیں دوسری عدالتوں اور پارلیمانوں کے برعکس سڑکوں کی عدالتوں کنٹینروں کے کٹہروں اور پارلیمانوں میں مکمل آزادی ہوتی ہے یہاں کوئی بھی لفظ غیر پارلیمانی نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے کارروائی سے حذف کیا جاتا ہے، ایک اور فرق یہ ہے کہ سڑکوں کی ان عدالتوں یا پارلیمانوں میں اکثر ''مقدمات'' غیر موجود ملزموں پر چلائے جاتے ہیں اور ایسے چلائے جاتے ہیں کہ چالو ہو جاتے ہیں کسی بھی چالان یا چال چلن کے بغیر جس نے جس کے خلاف جو بھی کہا وہ پتھر کی لکیر ہو جاتا ہے، ایک طرح سے دیکھا جائے تو دوسرے تمام معاملات کی طرح اس ''سڑک'' کے معاملے میں بھی ہم پڑوسی ملک سے بازی لے گئے ہیں وہاں ابھی تک سڑک صرف سڑک ہوتی ہے جن پر زیادہ سے زیادہ چلا اور آیا جایا جاتا ہے یا حادثات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا کچھ لوگ ''کمائیوں'' کے لیے استعمال کرتے ہیں جیسے ٹریفک والے یا چھابڑی فروش وغیرہ، بلکہ اکثر تو وہاں کی سڑکیں ملک کی ''غربت'' بھی دکھاتی ہیں کیوں کہ ہمارے ملک کے برعکس وہاں غربت اکثر سڑکوں پر رہائش پذیر ہوتی ہے۔
کنارے کنارے جھونپڑیاں اور سامنے فٹ پاتھ پر دکانداری یا بھیک مانگنے کا آزادانہ کاروبار ... لیکن اپنے ہاں سڑک نے بہت زیادہ ترقی کی ہوئی ہے اس سے زیادہ ترقی اور کیا ہو گی کہ ملک تو کیا دنیا بھر کے معاملات اور مسائل سڑکوں پر ہی حل کیے جاتے ہیں اور ایسے حل کیے جاتے ہیں کہ ''ہل من مزید'' کے نعرے سنائی دینے لگتے ہیں اور ''ہل چل'' جاتے ہیں، اب تو یہ سوچا جارہا ہے کہ خواہ مخواہ اتنے بڑے بڑے الیکشن کمیشن کھڑے کرنے اور زرکثیر صرف کر کے انتخابات کرنے، اسمبلیاں بنانے اور پھر ان ممبران سے ملک لٹوانے کے بجائے سڑکوں کو ہی ''مرجع خلائق'' بنایا جائے، آخر اتنا کھڑاک کھڑا کرنے کی ضرورت کیا ہے، بس سیدھے سیدھے آیئے جہاں جی چاہے کسی سڑک پر پارلیمنٹ جمایئے اور ہر سڑک کو ''شاہراہ دستور'' بنا ڈالیے بلکہ اسی وقت فیصلہ داغ کر قرب و جوار کی بے جان چیزوں کو سزا بھی دے ڈالیے، جناب کپتان خان نے اور جناب علامہ نے پارلیمان وغیرہ کو فضول جان کر ادھر کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے آخر فائدہ کیا فضول بک بک کرنے اور مراعات بانٹنے کا ... سڑک پر آیئے اور مسئلہ حل کر ڈالیے، نہ ہلدی نہ چونا صرف ایک 'دھرنا'' بلکہ ہر قسم کا گانا بجانا بھی
سڑکے سڑکے جاندیے مٹیارے نی
کنڈا نہ ''چبھے'' تیرے پیر بانکیے نارے نی
وگرنہ بکام من آمد جواب
من وگرزو میدان و افراسیاب
یعنی اگر افراسیاب کی طرف سے میری مرضی کا ''جواب'' نہیں آیا تو ... پھر ... تو پھر ''میں'' ہوں گا میرا ''گرز'' ہو گا ''میدان'' ہو گا اور افراسیاب، رستم اور سہراب کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے لیکن اس ''رستم'' سے حوالہ پا کر اور بھی دنیا میں بہت سارے ''رستم'' ہوئے ہیں جن میں زیادہ قابل ذکر تین ہیں ایک تو وہی افراسیاب و میدان و گرز والا اصلی رستم، دوسرے ہمارے رستم زمان گاما پہلوان جس نے لندن میں اس وقت کے چیمپئن کو ہرا کر رستم زمان کا ٹائٹل جیتا تھا اور تیسرے؟ آپ جانتے ہیں عالمی کپ ... جی ہاں، لیکن یہ سڑکوں پر نکل آنے والی بات کچھ ایسی بات ہے جس میں کوئی ایسی بات ہے جو ہر بات میں نہیں ہوتی، دراصل ہر ملک اور معاشرے کی اپنی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں مثلاً ہمارے ہاں ''سڑکوں پر آنا'' ایک کارنامہ ہے طاقت کا مظاہرہ ہے اور دشمن کو تگنی کا ناچ نچانا ہے لیکن پڑوسی ملک میں سڑک پر آجانا انتہائی بری حالت کو کہتے ہیں مثلاً یہ کام نہیں ہوا تو ہم سڑک پر آجائیں گے۔
اگر میں نے کچھ کیا تو تم سڑک پر آجاؤ گے یہ ڈیل نہیں ہوئی یا یہ قرضہ ادا نہیں ہوا تو میں تو سڑک پر آجاؤں گا، سڑک پر نہیں آنا چاہتے تو جیسا میں کہتا ہوں کرو ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ، سیدھی زبان میں دیوالیہ ہونے کو سڑک پر آنا سمجھ لیجیے، لیکن ہمارے ہاں سڑک پر آنا اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں جانے سے بڑی بات ہے کیوں کہ سلامتی کونسل میں تو صرف چار پانچ ووٹ ہوتے ہیں اور ''سڑک کونسل'' میں ہر قسم کے ''بٹ'' بھی ووٹر بلکہ ویٹو مارنے والے بھی ہوتے ہیں لیکن ''اصطلاحات'' کا یہ اختلاف یا بظاہر تضاد بھی کہیں نہ کہیں کوئی ''مشترکہ رگ'' ہوتی ہے، مثلاً اٹک پار اگر آپ کسی کو کمینہ کہیں گے تو وہ مرنے مارنے پر اتر آئے گا کیوں کہ یہ ایک بہت بڑی گالی ہے لیکن یہی لفظ ''کمینہ'' جب اٹک پار کر کے اور ایک ہزار ایک سو ایک ''پلازہ جات'' پر لٹنے کے بعد کے پی کے میں آجاتا ہے تو ''خیر پخیر'' ہو جاتا ہے، وہاں آپ کسی چوہدری کو یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا چوہدری بڑا کمینہ آدمی ہے یا چوہدری صاحب آپ بڑے کمینے ہیں لیکن یہاں ہم بڑے بڑے خان اور آدمی کو بڑے آرام سے کمینہ کہہ کر اچھی خاصی داد پا لیتے ہیں، خان تو کمینہ آدمی ہے کیوں خان ؟ ہاں بھئی میرے آباؤاجداد بھی کمینے رہے ہیں بلکہ ہمارا خاندان ہی جدی پشتی کمینہ ہے، کمینگی میں تو کوئی ہماری برابری کر ہی نہیں سکتا، مثلاً ابھی ہم اسی وقت اگر پشتو میں کہیں گے کہ ہمارے فلاں وزیر یا وزیراعلیٰ یا پارٹی سربراہ بڑے کمینے انسان ہیں تو وہ از حد خوش ہو جائیں گے بلکہ یہاں سیاستدانوں کو بے شک کہہ ڈالیں وہ کچھ نہیں کہیں گے بلکہ مسکرا کر لطف اندوز ہو جائیں گے لیکن جوں اٹک پار ہوئے لفظ نے سب کچھ بدل بلکہ الٹ دیا۔
اب یہاں پھر ایک پرانی کہانی دم ہلانے لگی ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے اس سے بھی نمٹ ہی چلیں تو اچھا ہے وہ ایک چرسی تھا جو اندھیرے میں کباب کھا رہا تھا اور کباب کا ایک ٹکڑا نیچے گر پڑا اس نے چارپائی کے نیچے زمین پر ہاتھ پھیرا تو ''کچھ'' ہاتھ لگا اس نے کباب کا ٹکڑا سمجھ کر منہ میں ڈال لیا لیکن وہ کباب کی جگہ ''کچھ'' اور تھا چنانچہ چبانے پر مختلف ذائقہ محسوس کر کے بولا ، کم بخت تم نے تو گرتے ہی اپنا ذائقہ بدل ڈالا ۔ کچھ الفاظ بھی ایسے ہی بہروپئے ہوتے ہیں جو جگہ بدلتے ہی اپنے معنی بدل دیتے ہیں ایسا ہی یہ لفظ سڑک بھی ہے وہاں سڑک میں اس کا مطلب ''دربدری'' ہوتا ہے لیکن یہاں ... جناب کپتان اور علامہ قادری نے اس کے معنی کچھ سے کچھ کر دیے ہیں یوں کہئے کہ ''دربدری'' کے بجائے ''بے مادر پدری'' کر دیے ہیں بلکہ لباس بدلنے جیسا کوئی عمل سمجھ لیجیے
ہر منزل غربت پہ گماں ہوتا ہے گھر کا
بہلایا ہے ہر گام ہمیں ''دربدری'' نے
بھلے ہی پڑوسی ملک میں ''سڑک'' یا سڑک پر آنے کے معنی کچھ اور ہوں لیکن اپنے ہاں ''سڑک'' کا مطلب پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ سے بھی دس ہزار گنا زیادہ سمجھ لیجیے، کہ کہاں کہاں سے لوگ آکر کتنے کتنے بڑے بڑے مسائل سڑک پر حل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہیں پر کوئی قتل یا حادثہ ہوتا ہے تو لاش سڑک پر رکھ کر ٹرائل شروع ہو جاتا ہے، کہیں کسی پہاڑ کے اوپر کسی چیونٹے نے چیونٹی پر بری نظر ڈالی ہے تو معاملہ فوراً سڑک کی عدالت میں دائر کر دیا جاتا ہے، مطلب یہ کہ سڑک ویسے تو سڑک ہوتی ہے جو بقول علامہ بریانی کے نہ کہیں جاتی ہے نہ کہیں سے آتی ہے لیکن پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ سڑک فلاں فلاں جگہ جاتی ہے حتیٰ کہ بعض سڑکیں تو ''دستور'' تک بھی جاتی ہوئی نظر آتی ہیں حالانکہ اپنی جگہ لیٹی ہوئی ہوتی ہیں... گویا
تیری ہی طرح آج ترے ہجر کے دن بھی
جاتے نظر آتے ہیں مگر کیوں نہیں جاتے
ہماری سڑکوں کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ادھر بہت دور کہیں ''قطبین'' کے قریب ''کینیڈا'' میں بھی کوئی ''مسئلہ'' پیدا ہوتا ہے تو وہ سیدھا اسلام آباد کسی سڑک پر بذریعہ کنٹینر پہنچتا ہے اور ''حل'' ہو کر چلا جاتا ہے، اسلام آباد کی سڑکوں پر خاص طور سے مسائل کے حل کے لیے جو ''اجلاس'' منعقد کیے جاتے ہیں انھیں قانونی یا شاید غیر قانونی بھاشا میں دھرنا کہتے ہیں جن میں کوئی ''ڈی جے'' مقدمہ چلاتا ہے یوں سمجھئے کہ یہ ڈی جے ایک طرح سے پبلک پراسیکوٹر ہوتے ہیں ایک کٹہرا کنٹینر کی صورت میں ہوتا ہے اور وہاں سے گیتا سیتا یا بیبیتا پر ہاتھ رکھ کر بیان دیے جاتے ہیں دوسری عدالتوں اور پارلیمانوں کے برعکس سڑکوں کی عدالتوں کنٹینروں کے کٹہروں اور پارلیمانوں میں مکمل آزادی ہوتی ہے یہاں کوئی بھی لفظ غیر پارلیمانی نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے کارروائی سے حذف کیا جاتا ہے، ایک اور فرق یہ ہے کہ سڑکوں کی ان عدالتوں یا پارلیمانوں میں اکثر ''مقدمات'' غیر موجود ملزموں پر چلائے جاتے ہیں اور ایسے چلائے جاتے ہیں کہ چالو ہو جاتے ہیں کسی بھی چالان یا چال چلن کے بغیر جس نے جس کے خلاف جو بھی کہا وہ پتھر کی لکیر ہو جاتا ہے، ایک طرح سے دیکھا جائے تو دوسرے تمام معاملات کی طرح اس ''سڑک'' کے معاملے میں بھی ہم پڑوسی ملک سے بازی لے گئے ہیں وہاں ابھی تک سڑک صرف سڑک ہوتی ہے جن پر زیادہ سے زیادہ چلا اور آیا جایا جاتا ہے یا حادثات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا کچھ لوگ ''کمائیوں'' کے لیے استعمال کرتے ہیں جیسے ٹریفک والے یا چھابڑی فروش وغیرہ، بلکہ اکثر تو وہاں کی سڑکیں ملک کی ''غربت'' بھی دکھاتی ہیں کیوں کہ ہمارے ملک کے برعکس وہاں غربت اکثر سڑکوں پر رہائش پذیر ہوتی ہے۔
کنارے کنارے جھونپڑیاں اور سامنے فٹ پاتھ پر دکانداری یا بھیک مانگنے کا آزادانہ کاروبار ... لیکن اپنے ہاں سڑک نے بہت زیادہ ترقی کی ہوئی ہے اس سے زیادہ ترقی اور کیا ہو گی کہ ملک تو کیا دنیا بھر کے معاملات اور مسائل سڑکوں پر ہی حل کیے جاتے ہیں اور ایسے حل کیے جاتے ہیں کہ ''ہل من مزید'' کے نعرے سنائی دینے لگتے ہیں اور ''ہل چل'' جاتے ہیں، اب تو یہ سوچا جارہا ہے کہ خواہ مخواہ اتنے بڑے بڑے الیکشن کمیشن کھڑے کرنے اور زرکثیر صرف کر کے انتخابات کرنے، اسمبلیاں بنانے اور پھر ان ممبران سے ملک لٹوانے کے بجائے سڑکوں کو ہی ''مرجع خلائق'' بنایا جائے، آخر اتنا کھڑاک کھڑا کرنے کی ضرورت کیا ہے، بس سیدھے سیدھے آیئے جہاں جی چاہے کسی سڑک پر پارلیمنٹ جمایئے اور ہر سڑک کو ''شاہراہ دستور'' بنا ڈالیے بلکہ اسی وقت فیصلہ داغ کر قرب و جوار کی بے جان چیزوں کو سزا بھی دے ڈالیے، جناب کپتان خان نے اور جناب علامہ نے پارلیمان وغیرہ کو فضول جان کر ادھر کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے آخر فائدہ کیا فضول بک بک کرنے اور مراعات بانٹنے کا ... سڑک پر آیئے اور مسئلہ حل کر ڈالیے، نہ ہلدی نہ چونا صرف ایک 'دھرنا'' بلکہ ہر قسم کا گانا بجانا بھی
سڑکے سڑکے جاندیے مٹیارے نی
کنڈا نہ ''چبھے'' تیرے پیر بانکیے نارے نی