ایم کیو ایم ارکان اسمبلی کے استعفے
حکومت نے متحدہ کے استعفے فوری طور پر منظور نہ کرنے کا فیصلہ کر کے درست جانب قدم اٹھایا ہے
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے اجتماعی استعفے دینے کا مقصد حکومت کو دباؤ میں لا کر اپنے مطالبات پورے کرانا تھا، وہ بھی اپنے استعفے واپس لے لے گی۔ فوٹو : فائل
تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کا ایشو ابھی بمشکل حل ہوا ہی تھا کہ گزشتہ روز ایم کیو ایم کے ارکان پارلیمنٹ کے اجتماعی استعفوں نے ملکی سیاست میں نئی ہل چل مچا دی، اس وقت ان استعفوں کا مسئلہ ملکی سیاست پر مکمل طور پر چھایا ہوا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت میں ہونے والے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ متحدہ کے استعفے فوری طور پر منظور نہ کیے جائیں' اجلاس جس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار' وزیر خزانہ اسحاق ڈار' وفاقی وزیر احسن اقبال سمیت آئینی اور قانونی ماہرین نے شرکت کی' یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت استعفوں کے معاملے پر ایم کیو ایم رہنماؤں سے بات چیت جاری رکھے گی' اس کے ساتھ تحریک انصاف والا برتاؤ کیا جائے گا' استعفوں کا معاملہ التوا میں رکھا جائے تاہم کراچی میں فورسز کا ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایم کیو ایم سمیت کسی پارلیمانی جماعت کو ایوان سے باہر نہیں دیکھنا چاہتی' تمام جماعتیں' پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے مشورہ دیا کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہ کیے جائیں اور معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں' حکومت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے مشورہ دیا کہ استعفوں کے معاملے پر درمیانی راستہ نکالا جائے اور ایم کیو ایم کو پارلیمنٹ سے باہر نہ بھیجا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا کہ جب تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں واپس لایا جا سکتا ہے تو ایم کیو ایم کو کیوں نہیں لایا جا سکتا۔ ان کا موقف تھا کہ ایم کیو ایم کے استعفوں سے ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد حکومت نے متحدہ کے استعفے فوری طور پر منظور نہ کرنے کا فیصلہ کر کے درست جانب قدم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے ملاقات کی اورپارٹی کے تحفظات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور استعفوں کی واپسی کے لیے اپنی شرائط پیش کیں۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے' ایم کیو ایم پریشان نہ ہو' متحدہ کا پارلیمانی کردار خود اس کے بہترین مفاد میں ہے' ایوان میں آ جائیں۔ اس پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ استعفوں کی واپسی کا فیصلہ الطاف حسین کریں گے۔
کراچی میں جاری آپریشن پر تحفظات کے باعث ایم کیو ایم کے ارکان سینیٹ' قومی اسمبلی اور ارکان سندھ اسمبلی نے گزشتہ روز اپنے استعفے دیدیے تھے۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے 24 ارکان کے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق' سندھ اسمبلی میں متحدہ کے 51 ارکان کے استعفے اسپیکر صوبائی اسمبلی آغا سراج درانی کو پیش کیے گئے جب کہ سینیٹ کے 8 ارکان نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں استعفے جمع کرائے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے متحدہ کے ارکان سے فرداً فرداً استعفے وصول کیے اور ہر رکن سے قواعد کے مطابق پوچھا کہ وہ استعفیٰ بغیر کسی دباؤ کے دے رہے ہیں۔ متحدہ کے تمام ارکان نے کہا کہ وہ کسی پریشر میں نہیں ہیں۔ اسپیکر نے تمام استعفے وصول کرنے کے بعد ان پر ''پراسیس'' لکھ کر متعلقہ برانچ کو بھیج دیے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے سیکریٹری قانون سے مشورہ مانگا جس پر انھوں نے استعفے منظور نہ کرنے کا مشورہ دیا۔
اس گمبھیر صورت حال کے پیدا ہونے کے موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بیلا روس کے دورے پر تھے لہٰذا حکومتی ارکان سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہو گئے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی سردار ایاز صادق کو متحدہ کے استعفوں کو منظور کرنے میں جلد بازی نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی فاروق ستار سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان کے تحفظات کو دور کریں گے لہٰذا وہ استعفے واپس لیں۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ حکومت ہمارے تحفظات دور کر دے تو تمام استعفے واپس لے سکتے ہیں۔اس صورتحال کے تناظر میں یہ امید ابھرتی ہے استعفوں کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا اور سیاسی بحران طول نہیں پکڑے گا۔دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعفے دینا اور پھر واپس لینا ایک معمول بن گیا ہے' پہلے پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنوں کے موقع پر اسمبلی سے استعفے دیے لیکن بعدازاں بدلے ہوئے حالات دیکھ کر اس نے انھیں واپس لے لیا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے اجتماعی استعفے دینے کا مقصد حکومت کو دباؤ میں لا کر اپنے مطالبات پورے کرانا تھا، وہ بھی اپنے استعفے واپس لے لے گی۔ موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو ایم کیو ایم کا رویہ جہاں جارحانہ ہے' وہاں مصالحانہ بھی ہے۔ یہ اچھا طرز عمل ہے' ادھر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی مثبت طرز عمل اختیار کیا۔ ایم کیو ایم کے استعفے منظور ہونے سے سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے لہٰذا حکومت نے استعفے منظور نہ کرنے کا فیصلہ کر کے ایم کیو ایم کو قومی دھارے میں شامل رکھنے کی جانب درست قدم اٹھایا ہے۔ امید ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کوئی بہتر حل نکل آئے گا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایم کیو ایم سمیت کسی پارلیمانی جماعت کو ایوان سے باہر نہیں دیکھنا چاہتی' تمام جماعتیں' پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے مشورہ دیا کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہ کیے جائیں اور معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں' حکومت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے مشورہ دیا کہ استعفوں کے معاملے پر درمیانی راستہ نکالا جائے اور ایم کیو ایم کو پارلیمنٹ سے باہر نہ بھیجا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا کہ جب تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں واپس لایا جا سکتا ہے تو ایم کیو ایم کو کیوں نہیں لایا جا سکتا۔ ان کا موقف تھا کہ ایم کیو ایم کے استعفوں سے ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد حکومت نے متحدہ کے استعفے فوری طور پر منظور نہ کرنے کا فیصلہ کر کے درست جانب قدم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے ملاقات کی اورپارٹی کے تحفظات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور استعفوں کی واپسی کے لیے اپنی شرائط پیش کیں۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے' ایم کیو ایم پریشان نہ ہو' متحدہ کا پارلیمانی کردار خود اس کے بہترین مفاد میں ہے' ایوان میں آ جائیں۔ اس پر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ استعفوں کی واپسی کا فیصلہ الطاف حسین کریں گے۔
کراچی میں جاری آپریشن پر تحفظات کے باعث ایم کیو ایم کے ارکان سینیٹ' قومی اسمبلی اور ارکان سندھ اسمبلی نے گزشتہ روز اپنے استعفے دیدیے تھے۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے 24 ارکان کے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق' سندھ اسمبلی میں متحدہ کے 51 ارکان کے استعفے اسپیکر صوبائی اسمبلی آغا سراج درانی کو پیش کیے گئے جب کہ سینیٹ کے 8 ارکان نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں استعفے جمع کرائے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے متحدہ کے ارکان سے فرداً فرداً استعفے وصول کیے اور ہر رکن سے قواعد کے مطابق پوچھا کہ وہ استعفیٰ بغیر کسی دباؤ کے دے رہے ہیں۔ متحدہ کے تمام ارکان نے کہا کہ وہ کسی پریشر میں نہیں ہیں۔ اسپیکر نے تمام استعفے وصول کرنے کے بعد ان پر ''پراسیس'' لکھ کر متعلقہ برانچ کو بھیج دیے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے سیکریٹری قانون سے مشورہ مانگا جس پر انھوں نے استعفے منظور نہ کرنے کا مشورہ دیا۔
اس گمبھیر صورت حال کے پیدا ہونے کے موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بیلا روس کے دورے پر تھے لہٰذا حکومتی ارکان سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہو گئے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی سردار ایاز صادق کو متحدہ کے استعفوں کو منظور کرنے میں جلد بازی نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی فاروق ستار سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان کے تحفظات کو دور کریں گے لہٰذا وہ استعفے واپس لیں۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ حکومت ہمارے تحفظات دور کر دے تو تمام استعفے واپس لے سکتے ہیں۔اس صورتحال کے تناظر میں یہ امید ابھرتی ہے استعفوں کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا اور سیاسی بحران طول نہیں پکڑے گا۔دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعفے دینا اور پھر واپس لینا ایک معمول بن گیا ہے' پہلے پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنوں کے موقع پر اسمبلی سے استعفے دیے لیکن بعدازاں بدلے ہوئے حالات دیکھ کر اس نے انھیں واپس لے لیا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے اجتماعی استعفے دینے کا مقصد حکومت کو دباؤ میں لا کر اپنے مطالبات پورے کرانا تھا، وہ بھی اپنے استعفے واپس لے لے گی۔ موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو ایم کیو ایم کا رویہ جہاں جارحانہ ہے' وہاں مصالحانہ بھی ہے۔ یہ اچھا طرز عمل ہے' ادھر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی مثبت طرز عمل اختیار کیا۔ ایم کیو ایم کے استعفے منظور ہونے سے سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے لہٰذا حکومت نے استعفے منظور نہ کرنے کا فیصلہ کر کے ایم کیو ایم کو قومی دھارے میں شامل رکھنے کی جانب درست قدم اٹھایا ہے۔ امید ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کوئی بہتر حل نکل آئے گا۔