ٹریفک سسٹم کی بدحالی سے شہری پریشان
پبلک ٹرانسپورٹ سے اوور لوڈنگ کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب تمام روٹس پر نئی بسیں چلائی جائیں
مناسب ہوگا کہ ہر پہلو پر سوچ بچار کے بعد فیصلے صادر کیے جائیں اور کراچی کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی باسہولت سروس مہیا کی جائے۔ فوٹو : ایکسپریس
KARACHI:
کراچی میں ٹریفک کی زبوں حالی، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور ٹیکسی رکشہ ڈرائیوروں کے من مانے کرائے وصول کرنے کا حال کسی سے چھپا نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب رکشے اور ٹیکسیوں میں کرائے کے لیے میٹر نصب ہوا کرتے تھے لیکن ٹرانسپورٹ مافیا کے مضبوط ہونے کے ساتھ ہی رکشہ ٹیکسی ڈرائیوروں نے بھی اپنی من مانی شروع کردی تھی۔ بالآخر متعلقہ اداروں کو اس بات کا احساس ہو ہی گیا اور گزشتہ روز ڈی آئی جی ٹریفک امیر شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ ایک ماہ کے اندر ٹیکسی اور رکشوں میں میٹرز کی تنصیب یقینی بنائی جائے گی۔
یقیناً یہ فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق ہے نیز 21 اگست تک تمام اسکول وینز سے سی این جی اور ایل پی جی کو ختم کرنے اور اسکول وینز کی منفرد شناخت قائم کرنے کے لیے پیلا رنگ اور اسکول کے نام اور ایڈریس کا بورڈ لگانے کی ہدایت بھی صائب ہے لیکن ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر فوری فیصلے بھی صادر کیے گئے جن کے مضمرات پر بھی نگاہ ہونی چاہیے، جیسا کہ پہلے مرحلے میں پبلک ٹرانسپورٹ سے اوور لوڈنگ کا خاتمہ اور دوسرے مرحلے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں، منی بسوں سے سی این جی اور ایل پی جی سلنڈر ہٹانے کا منصوبہ شامل ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ سے اوور لوڈنگ کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب تمام روٹس پر نئی بسیں چلائی جائیں اور پرانی بسوں کی تعداد بڑھائی جائے، علاوہ ازیں چھ، نو سیٹر رکشوں کی اچانک بندش تو کردی گئی ہے لیکن متبادل ٹرانسپورٹ مہیا نہ کرنے کے باعث شہری سفر میں شدید اذیت کا شکار ہیں۔ ماضی میںٹیکسی اور رکشوں کے میٹرز میں ٹمپرنگ کا کیا نتیجہ نکلا؟ ڈی آئی جی ٹریفک کا یہ کہنا صائب کہ چنگ چی رکشوں کو کسی بھی صورت دوبارہ سڑکوں پر نہیں آنے دیا جائے گا، لیکن کیا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں بہتری کا کوئی منصوبہ بھی زیر غور ہے؟ ماس ٹرانزٹ سسٹم کا کیا ہوگا؟جب تک شہریوں کو متبادل ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کی جائے گی گاڑیوں سے اوورلوڈنگ کا خاتمہ بھی ممکن نہیں۔ مناسب ہوگا کہ ہر پہلو پر سوچ بچار کے بعد فیصلے صادر کیے جائیں اور کراچی کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی باسہولت سروس مہیا کی جائے۔
کراچی میں ٹریفک کی زبوں حالی، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور ٹیکسی رکشہ ڈرائیوروں کے من مانے کرائے وصول کرنے کا حال کسی سے چھپا نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب رکشے اور ٹیکسیوں میں کرائے کے لیے میٹر نصب ہوا کرتے تھے لیکن ٹرانسپورٹ مافیا کے مضبوط ہونے کے ساتھ ہی رکشہ ٹیکسی ڈرائیوروں نے بھی اپنی من مانی شروع کردی تھی۔ بالآخر متعلقہ اداروں کو اس بات کا احساس ہو ہی گیا اور گزشتہ روز ڈی آئی جی ٹریفک امیر شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ ایک ماہ کے اندر ٹیکسی اور رکشوں میں میٹرز کی تنصیب یقینی بنائی جائے گی۔
یقیناً یہ فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق ہے نیز 21 اگست تک تمام اسکول وینز سے سی این جی اور ایل پی جی کو ختم کرنے اور اسکول وینز کی منفرد شناخت قائم کرنے کے لیے پیلا رنگ اور اسکول کے نام اور ایڈریس کا بورڈ لگانے کی ہدایت بھی صائب ہے لیکن ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر فوری فیصلے بھی صادر کیے گئے جن کے مضمرات پر بھی نگاہ ہونی چاہیے، جیسا کہ پہلے مرحلے میں پبلک ٹرانسپورٹ سے اوور لوڈنگ کا خاتمہ اور دوسرے مرحلے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں، منی بسوں سے سی این جی اور ایل پی جی سلنڈر ہٹانے کا منصوبہ شامل ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ سے اوور لوڈنگ کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب تمام روٹس پر نئی بسیں چلائی جائیں اور پرانی بسوں کی تعداد بڑھائی جائے، علاوہ ازیں چھ، نو سیٹر رکشوں کی اچانک بندش تو کردی گئی ہے لیکن متبادل ٹرانسپورٹ مہیا نہ کرنے کے باعث شہری سفر میں شدید اذیت کا شکار ہیں۔ ماضی میںٹیکسی اور رکشوں کے میٹرز میں ٹمپرنگ کا کیا نتیجہ نکلا؟ ڈی آئی جی ٹریفک کا یہ کہنا صائب کہ چنگ چی رکشوں کو کسی بھی صورت دوبارہ سڑکوں پر نہیں آنے دیا جائے گا، لیکن کیا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں بہتری کا کوئی منصوبہ بھی زیر غور ہے؟ ماس ٹرانزٹ سسٹم کا کیا ہوگا؟جب تک شہریوں کو متبادل ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کی جائے گی گاڑیوں سے اوورلوڈنگ کا خاتمہ بھی ممکن نہیں۔ مناسب ہوگا کہ ہر پہلو پر سوچ بچار کے بعد فیصلے صادر کیے جائیں اور کراچی کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی باسہولت سروس مہیا کی جائے۔