عمران خان کی کسان کانفرنس

آج ہماری سیاست میں موروثیت اور شخصیت پرستی کا جو کلچر نظر آ رہا ہے وہ اسی جاگیردارانہ اخلاقیات کی دین ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کسان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل حل کرے، ہمارے سیاستدان جب کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہیں تو عموماً کھاد، بیج، اجناس کی قیمت منڈیوں تک رسائی وغیرہ جیسے فروعی مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں لیکن اگر کوئی ترقی پسند جماعت کسان کانفرنس کا اہتمام کرتی ہے تو اس کا پہلا مطالبہ زرعی اصلاحات ہوتا ہے۔ یہ مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پاکستان کی سماجی سیاسی اور معاشی ترقی کی راہ میں جاگیردارانہ نظام ایک آہنی دیوار کی طرح کھڑا ہے غالباً اس حقیت کے پیش نظر دنیا کے تمام ملکوں نے سب سے پہلا کام زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا جاگیردارانہ نظام بنیادی طور پر شخصی حکمرانوں کی اعانت کا نظام ہے جب تک دنیا میں بادشاہی نظام قائم تھا جاگیرداروں کی ذمے داری تھی کہ وہ بادشاہوں کی جنگی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے فوج فراہم کریں اور عوام سے جبراً ٹیکس وصول کر کے شاہی خزانے میں جمع کریں اور مسجدوں میں نماز کے خطبوں میں بادشاہ اور اس کے خاندان کی عمر و اقبال میں ترقی کی دعا کروائیں اس کے ساتھ ساتھ اس نظام میں رعایا کو شخصیت پرستی کی تلقین کریں یوں جاگیردارانہ نظام محض بڑی بڑی زمینوں کی ملکیت کا نام نہیں بلکہ ایک پوری معاشرتی زندگی کا نام ہے۔

آج ہماری سیاست میں موروثیت اور شخصیت پرستی کا جو کلچر نظر آ رہا ہے وہ اسی جاگیردارانہ اخلاقیات کی دین ہے۔ ہمارے دیہی علاقوں میں اگر کسانوں اور ہاریوں کو کسی وڈیرے کی خدمت میں حاضر ہونا پڑتا ہے تو اسے وڈیرے کی بیٹھک سے بہت دور جوتے اتار کر ننگے پیر وڈیرے کی خدمت میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔ کسانوں اور ہاریوں کی جو حالت ہے' وہ غلاموں جیسی ہی ہے' ان کے بچے اسکول نہیں جا سکتے اور نہ ہی ان کے پاس پیسے ہوتے ہیں۔

پاکستان غالباً جدید دور کا واحد ملک ہے جہاں یہ قدیم از کار رفتہ نظام پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ پاکستان میں جو اشرافیائی جمہوریت رائج ہے اس کا سب سے بڑا فریق جاگیردار طبقہ ہے' ملک میں جس جمہوریت کا غلغلہ ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت جاگیردار طبقہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے بعض علاقوں میں جاگیردارانہ نظام اپنی اصلی شکل میں موجود نہیں ہے لیکن سندھ اور جنوبی پنجاب میں اب تک مضبوط ہے۔ اس نظام کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ دیہی علاقوں کے عوام انتخابات کے موقعے پر بھیڑ بکریوں کی طرح ہنکار کر پولنگ اسٹیشنوں تک لائے جاتے ہیں اور انھیں بتا دیا جاتا ہے کہ انھیں کس نشان پر ٹھپہ لگانا ہے۔ جب تک یہ نظام موجود ہے سیاست جاگیرداروں کی یرغمال رہے گی زرعی معیشت سے وابستہ ہاری اور کسان جاگیرداروں کے غلام بنے رہیں گے۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نو آزاد ملکوں میں پاکستان ہی ایک ایسا ملک کیوں ہے جہاں جاگیردارانہ نظام موجود ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران جب اس خطے کے جاگیرداروں کو یہ یقین ہو گیا کہ ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے اور اگر ہندوستان تقسیم ہو گیا تو ان کے علاقے پاکستان میں ہوں گے تو انھوں نے اپنی جاگیرداریوں کو بچانے کے لیے مسلم لیگ میں نہ صرف شمولیت اختیار کی بلکہ اس کی صف اول میں پہنچ گئے اور جب پاکستان بن گیا تو یہاں کی سیاست پر یہی طبقہ قابض ہو گیا۔ اقتدار پر قابض ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان کی جاگیریں محفوظ ہو گئیں بلکہ ان کی جاگیروں میں رہنے والے ہاری اور کسان ان کا ووٹ بینک بن گئے جاگیردار صدیوں سے بالادست طبقات کا حصہ ہیں اور ان کی بالادستی کی وجہ یہ ہے کہ یہ طبقہ بادشاہوں کا محکوم اور تابعدار ہوتا تھا اور اس کی خدمات کے عوض بادشاہ اپنی جاگیریں بخشتے تھے یہی سلسلہ نو آبادیاتی دور میں بھی جاری رہا انگریز نے جاگیرداروں کو عوام کے خلاف استعمال کیا معاوضے میں جاگیریں دیں۔

پاکستان میں جو سیاسی جماعتیں ملک میں جاگیرداری نظام کے مضر اثرات اور معاشرے میں ذہنی پسماندگی کے نتائج سے واقف ہیں انھوں نے ہمیشہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ آج بھی ترقی پسند جماعتوں کے منشور میں جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ سرفہرست ہے۔ اس حوالے سے پنجاب میں کسان کانفرنسیں ہوتی رہیں۔ 2005ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جو کسان کانفرنس ہوئی اس میں ہمیں بھی شرکت کا موقع ملا۔ لیکن ترقی پسند جماعتوں میں دھڑے بندیوں کی وجہ سے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے اور زرعی اصلاحات کے حوالے سے کوئی مضبوط تحریک نہ چل سکی۔عمران خان اپنی غلطیوں، غلط منصوبہ بندیوں کی وجہ اب بیک فٹ پر کھیلنے پر مجبور ہیں۔ 2014ء میں نئے پاکستان کے نعرے سے متاثر ہوکر عوام عمران خان کے گرد جمع ہو گئے تھے اگرچہ عمران خان نے نئے پاکستان کی کوئی تصویر پیش نہیں کی تھی لیکن پرانے اور گلے سڑے نظام سے بیزار عوام نئے پاکستان کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھ کر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہو گئے لیکن نئے پاکستان کا تصور چونکہ خود عمران خان کے ذہن میں صاف نہیں تھا اس لیے یہ مبہم نعرہ اپنی افادیت کھو بیٹھا اور عمران خان پچھلی صفوں میں آ گئے۔

ہم نے اپنے ایک پچھلے کالم میں عمران خان کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ نان ایشوز پر سیاست کرنے کے بجائے ملک کے اہم قومی مسائل پر سیاست کی ازسر نو شروعات کریں اور ہم نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ پاکستان کے اہم قومی مسائل میں زرعی اصلاحات سرفہرست ہیں۔ عمران خان نے ہماری سیاسی زندگی میں اگر کسانوں، ہاریوں کی اہمیت کا اندازہ کر لیا ہے تو پھر انھیں کسانوں کے فروعی مسائل پر سیاست کرنے کے بجائے زرعی اصلاحات کا مطالبہ کرنا چاہیے اگر ملک میں جامع زرعی اصلاحات ہو جاتی ہیں تو پھر سیاست سے صنعتکاروں اور جاگیرداروں کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ ہو جائے گا اور باری باری کا کلچر اپنی موت آپ مر جائے گا ہمیں نہیں معلوم کہ خان کی عقل میں یہ موٹی بات آتی ہے یا نہیں؟
Load Next Story