دو بڑے خطرات

کرۂ ارض کے انسانوں کو جو دو بڑے خطرات لاحق ہیں، ان میں سے ایک شمسی طوفان کے خوفناک اثرات کا خطرہ ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

کرۂ ارض کے انسانوں کو جو دو بڑے خطرات لاحق ہیں، ان میں سے ایک شمسی طوفان کے خوفناک اثرات کا خطرہ ہے، دوسرا عالمی سطح پر پھیلتی دہشت گردی ہے۔ جہاں تک شمسی طوفان کا مسئلہ ہے وہ انسانی اختیارات سے باہر ہے، ماہرین ارض فکر مند ہیں کہ اگر توقع کے مطابق شمسی طوفان اٹھتا ہے تو اس کی تپش اس شدت سے کرۂ ارض تک پہنچیں گی کہ کرۂ ارض پر موجود جانداروں کا صفایا ہو جائے گا، ہماری ارضی اور فلکیاتی معلومات اب اس قدر وسیع اور مستند ہے کہ ان خدشات کو محض خدشات نہیں کہا جا سکتا لیکن مجبوری یہ ہے کہ انسان اپنی ناقابل یقین سائنس ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس قابل نہیں ہوا ہے کہ وہ عناصر فطرت کی خون آشامیوں پر قابو پا سکے۔ ارضی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین کو وجود میں آئے ہوئے چار ارب سال ہو چکے ہیں اور زمین مزید تین ارب سال تک زندہ رہے گی، ماہرین ارض کا اندازہ ہے کہ ان چار ارب سالوں میں جانے دنیا میں کتنی بار زندگی نے آنکھ کھولی ہو گی اور کتنی بار عناصر فطرت نے کرۂ ارض سے جانداروں کا صفایا کیا ہو گا، یہ تصور اس لیے مفروضہ نہیں کہلا سکتا کہ کرۂ ارض پر جانداروں کے خاتمے کے قابل اعتبار ثبوت موجود ہیں۔

شمسی طوفان کب آئے گا اور اپنے ساتھ کیا کیا تباہیاں لائے گا اس کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن خود انسان نے کرۂ ارض پر بسنے والے انسانوں کو کیسی کیسی تباہیوں سے دو چار کیا وہ اشرف المخلوقات کے سامنے صورت سوالی کھڑی ہیں۔ دو عالمی جنگوں نے کروڑوں بے گناہ انسانوں کو ایک انتہائی وحشت ناک موت سے دوچار کر دیا، اس کے علاوہ ویت نام، کوریا، عراق، افغانستان، فلسطین، کشمیر کی جنگوں نے بھی لاکھوں بے گناہ انسانوں کو ایک انتہائی وحشت ناک موت سے دوچار کر دیا، اس کے علاوہ ویت نام، کوریا، عراق، افغانستان، فلسطین، کشمیر کی جنگوں نے بھی لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت سے ہمکنار کر دیا یہ ساری قتل و غارتگری انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا کلنک بن گئی ہے، جو اشرف المخلوقات ہونے کی نفی کرتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں انسانوں کی بھینٹ لینے والی یہ جنگیں کیوں لڑی گئیں؟ عقل مندوں کا کہنا ہے کہ دنیا میں جنگوں، لڑائیوں کا سبب زر، زمین اور زن ہے، ان تباہ کاریوں میں زن کا دخل ہو نہ ہو زر اور زمین کے دخل سے انکار نہیں کیا جا سکتا، عالمی جنگوں کو اگر مارکیٹوں پر قبضے کی لڑائی کہا جاتا ہے تو اس کا بالواسطہ مطلب زر اور زمین کا مسئلہ ہی ہوتا ہے۔

پچھلے دس بارہ سالوں سے کرۂ ارض جس قیامت سے دوچار ہے وہ ہے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی۔ 9/11 سے شروع ہونے والی یہ وبا اب ملکی سرحدوں سے نکل کر عالمی سطح پر اپنی خون آشامی دکھا رہی ہے۔ صرف پاکستان میں اب تک 50 ہزار سے زیادہ بے گناہ انسان اس کالی دیوی کی نظر ہو چکے ہیں۔ ابتدا میں یہ صرف دو عفریت تھے اب انھوں نے اتنے انڈے بچے دے دیے ہیں کہ کوئی علاقہ، کوئی ملک ان کی حشر سامانیوں سے محفوظ نہیں۔ اس بلائے بے درماں کا تعلق بدقسمتی سے مسلم ملکوں سے ہے، ہر چند کہ ان تنظیموں میں شامل انتہا پسندوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن یہ اکابرین جن ہتھیاروں سے لیس ہیں وہ اس قدر خطرناک اور قابو سے باہر ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی ان سے خائف ہیں اور انھیں قابو کرنے سے معذور دکھائی دیتی ہیں۔


یمن، عراق، شام کے علاوہ کئی افریقی ملکوں میں اس عفریت کی خون آشامیاں جاری ہیں، یمن اس وقت اس لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یمن کی لڑائی اگرچہ بہ ظاہر یہ لڑائی مذہبی انتہا پسندی کا پروڈکٹ نظر آتی ہے لیکن اس کے پیچھے بھی سیاسی اور معاشی مفادات ہیں۔ ایران اور سعودی عرب در پردہ اس لڑائی میں شامل ہیں۔ سعودی عرب اور ایران دو مسلم ملک ہیں جنھیں بھائیوں کی طرح رہنا چاہیے لیکن یہ دونوں ایک دوسرے کے سخت دشمن ہیں اور اس دشمنی کی جڑیں عرب اور عجم کے اختلافات کی شکل میں ہزاروں سال کی تاریخ میں اپنی جڑیں رکھتی ہیں۔ حیرت ہے کہ اس جدید اور سر سے پیر تک بدلتی ہوئی دنیا میں ایسے نان ایشوز کو قتل و غارت نفرتوں کا وسیلہ بنا لیا گیا ہے جو ماضی کی احمقانہ عداوتوں کے جدید ایڈیشن بن گئے ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں مریخ میں بسنے کی تیاری کر رہی ہے، خلا کے سفر کر رہی ہیں، چاند پر ہو آئی ہیں ہم فقہی جھگڑوں میں اس وحشیانہ انداز میں ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں کہ انسانیت سرنگوں ہے اور مہذب انسان شرمسار ہے۔دنیا کی تاریخ کی اس بدترین خونریزی کا مقصد یہ بتایا جا رہاہے کہ ساری دنیا پر اپنے نظریات کا غلبہ ہو۔ دنیا میں بے شمار مذاہب موجود ہیں، جو پانچ پانچ ہزار سال کی تاریخ رکھتے ہیں، جو قومیں ہزاروں سال سے مخصوص عقائد کو مانتی ہیں انھیں کس طرح طاقت کے زور پر اپنے عقائد چھوڑنے اور دوسرے عقائد قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

مادی زندگی کے حوالے سے دنیا دو طبقات میں بٹی ہوئی ہے، غریب اور امیر اس تقسیم کے سرپرست پریشان ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس تفریق کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے اب غریب انسان بھی یہ محسوس کر رہاہے کہ طبقاتی استحصال اب اپنی حدوں سے گزر گیا ہے، دنیا کے چھ ارب سے زیادہ انسان دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں اور ایک چھوٹی سی اقلیت 90 فی صد انسانوں کے حقوق ان کی خوشیوں پر سانپ بند کر بیٹھی ہے۔ دنیا کے اہل علم، اہل دانش، اہل قلم اس معاشی ظلم کے خلاف اپنی ساری صلاحیتیں لگاکر عوام کو اس قابل شرم معاشی نا انصافیوں کے خلاف بیدار اور متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب ناخواندہ عوام بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ غربت، بھوک، بیماری، جہالت خدا کا عطیہ نہیں بلکہ اس انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کی دین ہے۔

اس بڑھتے ہوئے انسانی شور نے استحصالی طاقتوں کو پریشان کر دیا ہے، عوام کی نفرت غصے اور اشتعال کا رخ نان ایشوز کی طرف موڑنا استحصالی طبقات کا وہ ہتھیار ہے جس کا مقابلہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ طبقاتی استحصال کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت سے پریشان استحصالی طاقتیں اگر عوام کے شعور کو کند کرنے، انھیں نظریاتی بھول بھلیوں میں دھکیلنا چاہیں تو کیا وہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو استعمال نہیں کر سکتیں؟ اس سوال کے جواب کے لیے یہ دیکھنا پڑے گا کہ دہشت گردوں کا ہدف کون ہیں۔ اگر بات اپنے مذہب کی برتری کی ہے تو منطقی طور پر مذہبی انتہا پسندی کا نشانہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے ہوں گے، جب کہ صورت حال یہ ہے کہ اسلام کے نام پر جن بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جا رہاہے وہ دہشت گردوں کے ہم مذہب ہیں۔ ایسا کیوں؟
Load Next Story