پرامن یوم آزادی خوش نصیبی ہے
قومی دن کے حوالہ سے قومی یکجہتی اور ملک میں امن و امان کی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا گیا
قومی دن کے حوالہ سے قومی یکجہتی اور ملک میں امن و امان کی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا گیا- فوٹو: آئی این پی
تاریخ کا بلند آہنگ پیغام یہ ہے کہ زندہ قومیں اپنا یوم آزادی خود احتسابی، زمینی حقائق کے گہرے ادراک، اپنی داخلی سلامتی، جغرافیائی دفاع اور سیاسی، سماجی معاشی و فکری آزادی اور انسانی اقدار کے تحفظ کی کوششوں پر ناقدانہ نگاہ ڈالتے ہوئے گزارتی ہیں۔ ان کے نزدیک آزادی کا ایک ایک لمحہ لازوال مسرتوں سے معمور ہوتا ہے، بزرگوں کا کہنا ہے کہ اصل آزادی نئی نسل کے ذہنوں میں ذمے داری اور دوسروں کے حقوق کے احترام کا احساس پیدا کرنا اور انہیں ہمیشہ سچ بولنے کے قابل بنانا ہے تا کہ عالمی برادری میں ان کی انفرادیت انسانی اقدار کی مرہون منت ہو۔ چنانچہ جشن آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب میں صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے جمعہ کے بیان میں تقریباً ان ہی حوالوں سے اپنے ارشادات قوم کے سامنے پیش کیے، صدر نے کہا کہ عالمی تنہائی ماضی کا حصہ بن چکی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم فوج کی پشت پر کھڑی ہے، بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں مگر قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیادہ تر مسائل کی وجہ تعلیم کا انحطاط ہے، تنگ نظری، انتہا پسندی، اور دہشتگردی کا رشتہ بھی اسی سے جڑا ہوا ہے، پاکستان کا ایک اور بڑا مسئلہ بدعنوانی یعنی کرپشن ہے، ہمیں بدعنوان عناصر کو لگام دینی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ تمام جمہوری جماعتوں نے اختلاف بھلا کر فوجی عدالتوں کے قیام میں تعاون کیا جس کے اب نتائج سامنے آ رہے ہیں، پاکستان سے دہشت گردی سمیت مجرمانہ اور منافقانہ کارروائیوں کا جلد خاتمہ ہو گا جب کہ دہشت گردی کی کمر توڑنے میں ہماری فوج کا کردار مثالی ہے۔ پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور فوجی عدالتوں نے اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کیا، اگرچہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مشکل فیصلہ تھا لیکن ملک کی خاطر یہ فیصلہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے بچے والدین کو واپس تو نہیں مل سکتے لیکن ان معصوموں کے قاتلوں کی سزا پر دلی اطمینان ہوا، دہشت گردوں کو ملنے والی سزاؤں سے ہم سب کو اور والدین کو یہ تو احساس ہو رہا ہے کہ مجرمانہ اور منافقانہ کارروائیوں کا انشاء اللہ پاکستان سے عنقریب مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ بھی قومی دن کے حوالہ سے قومی یکجہتی اور ملک میں امن و امان کی بہتری پر اطمینان کا اظہار ہو رہا ہے، لیکن اظہار سے کہیں آگے بڑھ کر قومی تعمیر نو کے کئی گراں بار اور اعصاب شکن مراحل سے قوم کو نکالنے کے لیے جمہوری سفر کو نتیجہ خیز بنانا اشد ضروری ہے۔ مک کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ پاک فوج اپنے محاذوں پر دٹی ہوئی ہے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ضرور کامیاب ہو گی، چیئر مین تحریک انصاف عمران خان نے قوم کو جشن آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمت کے باوجود نئے پاکستان کے خواب کو تعبیر میں بدلنے کا سفر جاری رکھیں گے اور قائد کا پاکستان ضرور بنائیں گے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ قائد کا پاکستان بنانے کے دعوے اب حقیقت کا روپ دھارنے کے منتظر ہیں، جو بچا کھچا پاکستان ہے اسے تعمیر اور تنطیم نو کی ضرورت ہے، قوم اس جانب سفر کے لیے تیار ہے، مادر وطن کے کئی خواب ہیں جن کی تعبیر ابھی قوم کو ملنا باقی ہے۔ایک خوبصورت شعر ہے کہ
ایک دیوار کی دوری تھی قفس
توڑ سکتے تو چمن میں ہوتے
یوم آزادی کی تقریبات کے جوش و خروش نے ثابت کیا ہے کہ آج وہ غلامی کا قفس ہے اور نہ وہ سامراجی، استعماری، جاگیردارانہ، فرقہ وارانہ اور دہشت گردانہ صیاد۔ سیاسی و عسکری یکجائی، ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے سامنے وہ تمام باطل قوتیں سرنڈر ہونے پر مجبور ہیں جو کل مملکت خدا داد کی رٹ کو ماننے کے لیے تیار نہ تھیں، آج ان کے نام نہاد کمانڈر کہاں ہیں؟ یوم آزادی کے موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان نے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے ہمراہ جمعرا ت کی صبح بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مزار کے احاطے میں پرچم کشائی کی، قائداعظم کے مزار پر حاضری دی، بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ ملک کو اس وقت جو خطرات لاحق ہیں ہماری افواج نے ان سے نمٹنے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ پاک افواج اس آپریشن میں کامیاب ہوں گی جس میں انھیں پوری قوم اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے۔
پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر فلپ بارٹن نے کراچی آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی آ پریشن سے امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مثبت امیج کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہو گا، ادھر بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے یقین دلایا کہ پاکستان کشمیری عوام کو جدوجہد آزادی میں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، بلوچستان میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے 400 کے قریب ہتھیار ڈالنے والوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر انھوں نے قومی دھارے میں شامل ہو کر یہ بات واضح کردی ہے کہ بلوچستان کے عوام امن چاہتے ہیں، ہتھیار رکھ کر آج یہ تمام افراد قوم کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم بلوچستان میں ٹھوس سیاسی، سماجی اور معاشی اقدامات ناگزیر ہیں، مسائل کا حل سیاسی ڈائیلاگ میں مضمر ہے۔
ربلاشبہ قوم کو اس بار ایک پرامن ماحول میں یوم آزادی منانے کا موقع ملا ہے، قانون نافذ کرنے والوں کی قربانیوں کے باعث یہ دن ہمیں دیکھنے کو ملا ہے، یہ خوش نصیبی ہے، مگر اس موقع پر ہر پاکستانی کو یہ قول زریں سامنے رکھنا چاہیے کہ آزادی محض دھن دولت سے محفوظ نہیں ہو گی، پیسہ دائمی اور مستقل چیز نہیں، اس دنیا میں ریاست و مملکت کی حقیقی سلامتی اسی صورت ممکن ہے کہ اہل وطن کے پاس علم، تجربہ، اہلیت اور دفاعی صلاحیت ہو۔ یہی کامیابی کی کنجیاں ہیں۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیادہ تر مسائل کی وجہ تعلیم کا انحطاط ہے، تنگ نظری، انتہا پسندی، اور دہشتگردی کا رشتہ بھی اسی سے جڑا ہوا ہے، پاکستان کا ایک اور بڑا مسئلہ بدعنوانی یعنی کرپشن ہے، ہمیں بدعنوان عناصر کو لگام دینی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ تمام جمہوری جماعتوں نے اختلاف بھلا کر فوجی عدالتوں کے قیام میں تعاون کیا جس کے اب نتائج سامنے آ رہے ہیں، پاکستان سے دہشت گردی سمیت مجرمانہ اور منافقانہ کارروائیوں کا جلد خاتمہ ہو گا جب کہ دہشت گردی کی کمر توڑنے میں ہماری فوج کا کردار مثالی ہے۔ پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور فوجی عدالتوں نے اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کیا، اگرچہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مشکل فیصلہ تھا لیکن ملک کی خاطر یہ فیصلہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے بچے والدین کو واپس تو نہیں مل سکتے لیکن ان معصوموں کے قاتلوں کی سزا پر دلی اطمینان ہوا، دہشت گردوں کو ملنے والی سزاؤں سے ہم سب کو اور والدین کو یہ تو احساس ہو رہا ہے کہ مجرمانہ اور منافقانہ کارروائیوں کا انشاء اللہ پاکستان سے عنقریب مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ بھی قومی دن کے حوالہ سے قومی یکجہتی اور ملک میں امن و امان کی بہتری پر اطمینان کا اظہار ہو رہا ہے، لیکن اظہار سے کہیں آگے بڑھ کر قومی تعمیر نو کے کئی گراں بار اور اعصاب شکن مراحل سے قوم کو نکالنے کے لیے جمہوری سفر کو نتیجہ خیز بنانا اشد ضروری ہے۔ مک کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ پاک فوج اپنے محاذوں پر دٹی ہوئی ہے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ضرور کامیاب ہو گی، چیئر مین تحریک انصاف عمران خان نے قوم کو جشن آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمت کے باوجود نئے پاکستان کے خواب کو تعبیر میں بدلنے کا سفر جاری رکھیں گے اور قائد کا پاکستان ضرور بنائیں گے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ قائد کا پاکستان بنانے کے دعوے اب حقیقت کا روپ دھارنے کے منتظر ہیں، جو بچا کھچا پاکستان ہے اسے تعمیر اور تنطیم نو کی ضرورت ہے، قوم اس جانب سفر کے لیے تیار ہے، مادر وطن کے کئی خواب ہیں جن کی تعبیر ابھی قوم کو ملنا باقی ہے۔ایک خوبصورت شعر ہے کہ
ایک دیوار کی دوری تھی قفس
توڑ سکتے تو چمن میں ہوتے
یوم آزادی کی تقریبات کے جوش و خروش نے ثابت کیا ہے کہ آج وہ غلامی کا قفس ہے اور نہ وہ سامراجی، استعماری، جاگیردارانہ، فرقہ وارانہ اور دہشت گردانہ صیاد۔ سیاسی و عسکری یکجائی، ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے سامنے وہ تمام باطل قوتیں سرنڈر ہونے پر مجبور ہیں جو کل مملکت خدا داد کی رٹ کو ماننے کے لیے تیار نہ تھیں، آج ان کے نام نہاد کمانڈر کہاں ہیں؟ یوم آزادی کے موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان نے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے ہمراہ جمعرا ت کی صبح بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مزار کے احاطے میں پرچم کشائی کی، قائداعظم کے مزار پر حاضری دی، بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ ملک کو اس وقت جو خطرات لاحق ہیں ہماری افواج نے ان سے نمٹنے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ پاک افواج اس آپریشن میں کامیاب ہوں گی جس میں انھیں پوری قوم اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے۔
پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر فلپ بارٹن نے کراچی آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی آ پریشن سے امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مثبت امیج کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہو گا، ادھر بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے یقین دلایا کہ پاکستان کشمیری عوام کو جدوجہد آزادی میں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، بلوچستان میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے 400 کے قریب ہتھیار ڈالنے والوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر انھوں نے قومی دھارے میں شامل ہو کر یہ بات واضح کردی ہے کہ بلوچستان کے عوام امن چاہتے ہیں، ہتھیار رکھ کر آج یہ تمام افراد قوم کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم بلوچستان میں ٹھوس سیاسی، سماجی اور معاشی اقدامات ناگزیر ہیں، مسائل کا حل سیاسی ڈائیلاگ میں مضمر ہے۔
ربلاشبہ قوم کو اس بار ایک پرامن ماحول میں یوم آزادی منانے کا موقع ملا ہے، قانون نافذ کرنے والوں کی قربانیوں کے باعث یہ دن ہمیں دیکھنے کو ملا ہے، یہ خوش نصیبی ہے، مگر اس موقع پر ہر پاکستانی کو یہ قول زریں سامنے رکھنا چاہیے کہ آزادی محض دھن دولت سے محفوظ نہیں ہو گی، پیسہ دائمی اور مستقل چیز نہیں، اس دنیا میں ریاست و مملکت کی حقیقی سلامتی اسی صورت ممکن ہے کہ اہل وطن کے پاس علم، تجربہ، اہلیت اور دفاعی صلاحیت ہو۔ یہی کامیابی کی کنجیاں ہیں۔