پنجاب کے وزیر داخلہ خود کش حملے میں شہید
اصل مجرم یا دہشت گرد وہ لوگ نہیں ہیں جو خود کش حملہ کرتے ہیں ، اصل مجرم وہ لوگ ہیں جو ایسے خود کش تیار کرتے ہیں
پنجاب کے وزیر داخلہ پر ہونے والے خود کش حملے کا ماسٹر مائنڈ تلاش کرنا حکومت کی اہم ذمے داری ہے۔ فوٹو : فائل
TEL AVIV:
پنجاب کے وزیرداخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اتوار کی صبح ایک خود کش حملے میں شہید ہو گئے، ان کے ہمراہ کئی اور افراد بھی شہید ہوئے ہیں۔ تا حال کسی دہشت گرد گروپ یا تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کی شہادت پر حکومت پنجاب نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ،سابق صدر آصف زرداری، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دہشت گردوں کی فوری گرفتاری کی ہدایات جاری کر دی ہیں، پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ بہادر افسر تھے ،انھوں نے عظیم مقصد کے لیے قربانی دی ہے، انھوں نے واضح کیا کہ ایسے بزدلانہ حملے ہمارا عزم متزلزل نہیں کر سکتے۔ انھوں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی اور کہا کہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں حملے کے ماسٹر مائنڈ کو ڈھونڈنے میں مدد کریں۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اٹک میں اپنے گاؤں شادی خان میں اپنے ڈیرے پر موجود تھے اور وہاں علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس دوران دو خود کش حملہ آور ہال میں داخل ہوئے اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔دھماکا اس قدر شدید تھا کہ ہال کی چھت گر گئی جس کے نیچے کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اور دیگر لوگ دب گئے۔ امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں اور پھر ایک ایک کر کے شہدا اور زخمیوں کو نکالا گیا۔ صوبے بھر میں کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے جاری آپریشن کو تیز کرنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کو دھمکیاں زیادہ ملنا شروع ہوگئی تھیں۔ ان دھمکیوں کے پیش نظر صوبائی وزیر داخلہ کو مزید محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔بعض اطلاعات کے مطابق شجاع خانزادہ نے اپنے آبائی علاقے میں کالعدم تنظیموں کے متحرک ہونے کے بارے میں بھی انسداد دہشت گردی کے محکمے کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد محکمے کے ذمے داران افراد نے اس علاقے میں کارروائی کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا شروع کردیا تھا۔
اس ضمن میں صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے حکام سے بھی ان تنظیموں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا گیا تھا۔ اٹک کا ضلع شمال مغرب کی جانب پنجاب کا آخری ضلع ہے ،دریائے اٹک کا پل پار کر کے سے آگے خیبرپختونخوا کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ ایک نڈر انسان تھے، جب سے وہ پنجاب کے وزیر داخلہ بنے اور نیشنل ایکشن پلان کا آغاز ہوا ،تب سے پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف عملی کاروائیوں کا آغاز ہوا۔ کئی دہشت گرد اپنی کارروائی سے قبل ہی گرفتار کر لیے گئے۔ یوں دیکھا جائے تو دہشت گردوں کو ان کی وجہ سے سنگین مسائل کا سامنا تھا۔ بہر حال دہشت گردوں نے پنجاب میں بڑا ٹارگٹ حاصل کیا ہے۔ پنجاب حکومت کو وزیر داخلہ کی سیکیورٹی کا فول پروف انتظامات کرنا چاہیے تھا۔ اس معاملے میں کہاں کوتاہی ہوئی اس کے بارے میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی یہ بات بالکل درست ہے کہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ کسی صوبے کے وزیر داخلہ کا دہشت گردوں کا ہدف بننا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
پنجاب حکومت کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ مرکزی حکومت کو بھی اس حوالے سے اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا۔ اصل مجرم یا دہشت گرد وہ لوگ نہیں ہیں جو خود کش حملہ کرتے ہیں ، اصل مجرم وہ لوگ ہیں جو ایسے خود کش تیار کرتے ہیں، انھیں پناہ دیتے ہیں ،انھیں اپنے ٹارگٹ تک پہنچانے کی سہولت دیتے ہیں اور ان کی مالی مدد کرتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں ہدف دیتے اور انھیں اس کی معلومات دیتے ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بنیادی ذمے داری ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردوں ،ملک دشمنوں اور جرائم پیشہ افراد تک پہنچیں اور ان کے ماسٹر مائنڈ کو تلاش کریں ۔ پنجاب میں جس طریقے سے دہشت گردی ہو رہی ہے ،اس سے یہاں گورننس کے معاملات پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پیشہ وارانہ کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جانا ضروری ہے۔ پنجاب کے وزیر داخلہ پر ہونے والے خود کش حملے کا ماسٹر مائنڈ تلاش کرنا حکومت کی اہم ذمے داری ہے۔
پنجاب کے وزیرداخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اتوار کی صبح ایک خود کش حملے میں شہید ہو گئے، ان کے ہمراہ کئی اور افراد بھی شہید ہوئے ہیں۔ تا حال کسی دہشت گرد گروپ یا تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کی شہادت پر حکومت پنجاب نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ،سابق صدر آصف زرداری، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دہشت گردوں کی فوری گرفتاری کی ہدایات جاری کر دی ہیں، پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ بہادر افسر تھے ،انھوں نے عظیم مقصد کے لیے قربانی دی ہے، انھوں نے واضح کیا کہ ایسے بزدلانہ حملے ہمارا عزم متزلزل نہیں کر سکتے۔ انھوں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی اور کہا کہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں حملے کے ماسٹر مائنڈ کو ڈھونڈنے میں مدد کریں۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اٹک میں اپنے گاؤں شادی خان میں اپنے ڈیرے پر موجود تھے اور وہاں علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس دوران دو خود کش حملہ آور ہال میں داخل ہوئے اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔دھماکا اس قدر شدید تھا کہ ہال کی چھت گر گئی جس کے نیچے کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اور دیگر لوگ دب گئے۔ امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں اور پھر ایک ایک کر کے شہدا اور زخمیوں کو نکالا گیا۔ صوبے بھر میں کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے جاری آپریشن کو تیز کرنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کو دھمکیاں زیادہ ملنا شروع ہوگئی تھیں۔ ان دھمکیوں کے پیش نظر صوبائی وزیر داخلہ کو مزید محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔بعض اطلاعات کے مطابق شجاع خانزادہ نے اپنے آبائی علاقے میں کالعدم تنظیموں کے متحرک ہونے کے بارے میں بھی انسداد دہشت گردی کے محکمے کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد محکمے کے ذمے داران افراد نے اس علاقے میں کارروائی کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا شروع کردیا تھا۔
اس ضمن میں صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے حکام سے بھی ان تنظیموں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا گیا تھا۔ اٹک کا ضلع شمال مغرب کی جانب پنجاب کا آخری ضلع ہے ،دریائے اٹک کا پل پار کر کے سے آگے خیبرپختونخوا کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ ایک نڈر انسان تھے، جب سے وہ پنجاب کے وزیر داخلہ بنے اور نیشنل ایکشن پلان کا آغاز ہوا ،تب سے پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف عملی کاروائیوں کا آغاز ہوا۔ کئی دہشت گرد اپنی کارروائی سے قبل ہی گرفتار کر لیے گئے۔ یوں دیکھا جائے تو دہشت گردوں کو ان کی وجہ سے سنگین مسائل کا سامنا تھا۔ بہر حال دہشت گردوں نے پنجاب میں بڑا ٹارگٹ حاصل کیا ہے۔ پنجاب حکومت کو وزیر داخلہ کی سیکیورٹی کا فول پروف انتظامات کرنا چاہیے تھا۔ اس معاملے میں کہاں کوتاہی ہوئی اس کے بارے میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی یہ بات بالکل درست ہے کہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ کسی صوبے کے وزیر داخلہ کا دہشت گردوں کا ہدف بننا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
پنجاب حکومت کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ مرکزی حکومت کو بھی اس حوالے سے اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا۔ اصل مجرم یا دہشت گرد وہ لوگ نہیں ہیں جو خود کش حملہ کرتے ہیں ، اصل مجرم وہ لوگ ہیں جو ایسے خود کش تیار کرتے ہیں، انھیں پناہ دیتے ہیں ،انھیں اپنے ٹارگٹ تک پہنچانے کی سہولت دیتے ہیں اور ان کی مالی مدد کرتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں ہدف دیتے اور انھیں اس کی معلومات دیتے ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بنیادی ذمے داری ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردوں ،ملک دشمنوں اور جرائم پیشہ افراد تک پہنچیں اور ان کے ماسٹر مائنڈ کو تلاش کریں ۔ پنجاب میں جس طریقے سے دہشت گردی ہو رہی ہے ،اس سے یہاں گورننس کے معاملات پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پیشہ وارانہ کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جانا ضروری ہے۔ پنجاب کے وزیر داخلہ پر ہونے والے خود کش حملے کا ماسٹر مائنڈ تلاش کرنا حکومت کی اہم ذمے داری ہے۔