مقبوضہ کشمیر بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ بن گیا

کشمیریوں کی جانب سے یوم سیاہ منانے کا مقصد بھارتی حکومت پر یہ واضح کرنا ہے کہ انھیں بھارت کی غلامی قبول نہیں

بھارتی حکومت کا موجودہ رویہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ فوٹو : فائل

کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں نے ہفتہ کو بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ مقبوضہ کشمیر میں اس موقع پر مکمل ہڑتال کی گئی اور بھارت کی آزادی کے حوالے سے تقریبات کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا' تمام دکانیں، کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور عدالتیں بند جب کہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ معطل رہی، لوگوں کو بھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کے لیے سرینگر میں کرفیو جب کہ دیگر قصبوں میں سخت پابندیاں نافذ رہیں۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک سمیت دیگر حریت پسند رہنماؤں کو گھروں اور جیلوں میں نظر بند رکھا، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کردی گئی، کرفیو اور سخت پابندیوں کے باوجود کشمیری سڑکوں پر نکل آئے، پاکستان زندہ باد اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے، کئی مقامات پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم بھی لہرائے گئے۔

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمان ہر سال 15 اگست کو بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، اس موقع پر پورے کشمیر میں مکمل ہڑتال کی جاتی ہے جب کہ قابض بھارتی فورسز کشمیریوں کے مظاہروں کو روکنے کے لیے پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیتی ہیں لیکن آزادی کے متوالے کشمیری تمام پابندیاں پاؤں تلے روند کر سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ کشمیریوں کی جانب سے یوم سیاہ منانے کا مقصد بھارتی حکومت پر یہ واضح کرنا ہے کہ انھیں بھارت کی غلامی قبول نہیں اور تمام تر مظالم اور طاقت کے استعمال کے باوجود ان کے جذبہ حریت کو دبایا نہیں جا سکتا۔ 14 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر سبز ہلالی پرچم لہرائے اور پاکستان کے ساتھ اپنی دلی وابستگی کا اظہار کیا۔

14اور 15 اگست کو ہر سال کشمیری صرف مقبوضہ کشمیر ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں وہ آباد ہیں بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں، اسی طرح اس سال 15 اگست کو بھی لندن میں کشمیریوں نے بھارتی ہائی کمشنر کے سامنے مظاہرہ کیا' حیرت انگیز امر ہے کہ اس مظاہرے میں خالصہ تحریک کے تحت سکھ برادری کے افراد بھی شریک ہوئے سب سے بڑی ریلی مظفر آباد میں نکالی گئی' شرکاء نے یہاں اقوام متحدہ کے دفتر جا کر سیکریٹری جنرل بانکی مون کے نام احتجاجی یادداشت پیش کی اور بھارت کے خلاف افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نعرے بازی کرتے ہوئے بھارتی پرچم نذر آتش کیا۔ حریت رہنما سید علی گیلانی نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں اپنا یوم آزادی منانے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے کہا کہ بھارتی حکومت پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر قومی ترانہ اور پاکستانی پرچم لہرانے پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر رہی ہے لیکن وہ بھارت پر واضح کرنا چاہتی ہیں کہ کشمیریوں نے نہ تو پہلے کبھی اس کی غلامی قبول کی نہ آیندہ کریں گے' انھوں نے پاکستانی پرچم اپنی سرزمین پر لہرایا ہے بھارت میں نہیں۔


علاوہ ازیں وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو بھارت کے یوم آزادی پر مبارکباد دیتے ہوئے ایک بار پھر تمام تنازعات بات چیت سے طے کرنیکی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ نریندر مودی کے نام تہنیتی خط میں میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ ہم مخلصانہ طور پر چاہتے ہیں کہ بھارت سے تمام تنازعات ٹھوس اور جامع مذاکرات کے ذریعے طے کیے جائیں اس طرح ہم باہمی اعتماد اور تعاون کا نیا دور شروع کر سکتے ہیں۔ دوستانہ تعاون اور اچھے ہمسائیگی پر مبنی تعلقات کا فروغ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بھی ضروری ہے، جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں۔

پوری دنیا پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ بھارت کی تمام تر جارحیت کے باوجود پاکستانی حکومت تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور متنازعہ امور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے لیکن بھارتی حکومت کا رویہ مسلسل جارحانہ اور غیر دوستانہ چلا آ رہا ہے۔بھارتی فوج کا جنگی جنون ہے کہ رکنے ہی میں نہیں آ رہا' ہفتے کو بھی لائن آف کنٹرول پر نکیال سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے 2 شہری شہید جب کہ2 زخمی ہوگئے۔ بھارت نے گزشتہ کئی روز سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، پاکستان کے یوم آزادی پر بھی بھارتی فوج بلا اشتعال فائرنگ سے باز نہیں آئی۔

بھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر کی تحصیل خورشید آباد کے مختلف علاقوں میں بھی فائرنگ کی گئی جس سے وہاں شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اطراف کے رہائشی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تاہم پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی سے بھارتی سورماؤں کی گنیں خاموش ہو گئیں۔ بھارتی حکومت کا موجودہ رویہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح بات چیت کے لیے تیار نہیں لہٰذا اس صورت حال کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ امور طے کرانے کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو خاموشی اختیار کرنے کے بجائے عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔
Load Next Story