منشور پر عمل
پاکستان کی جمہوری تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی حکومت نہیں آئی جو عوام کو ان کے مسائل سے نجات دلائے۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
پاکستان کی جمہوری تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی حکومت نہیں آئی جو عوام کو ان کے مسائل سے نجات دلائے۔ پاکستان کے سادہ لوح عوام ہمیشہ اس امید پر سیاسی جماعتوں کو ووٹ دے کر کامیاب کراتے رہے کہ وہ انھیں بھوک، غربت، جہالت سے نجات دلائیں گی لیکن ان کی امید ہمیشہ ناامیدی میں بدلتی رہی، اس کی وجہ یہ رہی کہ برسراقتدار جماعتوں کے منشور میں عوام کے مسائل کا حل رہا ہی نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ 1988 کے بعد سے آج تک جتنی جمہوری حکومتیں برسراقتدار آئیں وہ یا تو لوٹ مار میں مصروف رہیں یا آپس میں اختلافات کا شکار رہیں، ملک میں کوئی ایک بھی ایسی جماعت یا دانشور موجود نہیں جو حکمرانوں سے یہ پوچھے کہ آپ نے انتخابات کے وقت عوام سے جو وعدے کیے تھے ان پر عملدرآمد کیوں نہ ہوا، ہماری حزب اختلاف اگرچہ حکمرانوں سے اختلاف بھی کرتی رہی ان پر الزامات کی بارش بھی کرتی رہی اور آج بھی کر رہی ہے لیکن کسی جماعت نے حکمران جماعت سے اس کے منشور کے حوالے سے کبھی باز پرس نہیں کی اس کی بڑی وجہ یہ رہی کہ انتخابات میں شرکت کرنے والی جماعتوں نے نہ اپنے منشور کو کوئی اہمیت دی نہ اپنے منشور کو انتخابات میں عوام کے سامنے واضح طور پر پیش کرنے کی زحمت کی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ ہر انتخاب میں کامیابی کے لیے یا تو سیاسی جوڑ توڑ کا سہارا لیا گیا یا جھوٹے انتخابی وعدوں سے کام چلایا گیا۔
مثال کے طور پر 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ نے عوام کو چھ ماہ میں بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے نجات کے وعدے دیے اور آئی ایم ایف اور دوسرے مالیاتی اداروں سے قرض نہ لینے اور کشکول توڑنے کے وعدے کیے۔ اب تین سال ہونے کو ہیں نہ بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے عوام کو نجات ملی نہ کشکول کو توڑا گیا، اس کے خلاف عالمی مالیاتی اداروں سے عوام دشمن شرائط پر اربوں ڈالر کے قرض لیے گئے اور کڑی شرطوں کے ساتھ لیے گئے، ابھی دبئی میں آئی ایم ایف سے طے شدہ قرضوں کی قسط کی وصولی کے لیے آئی ایم ایف کی کئی شرائط مانی گئیں جن میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ کشکول توڑنے کی بات جس زور شور سے کی گئی اسی زور و شور سے مزید اربوں ڈالر کے قرض لے کر پاکستان کے ہر شہری کو مالیاتی اداروں کا مقروض بنادیا گیا۔
سیاستدانوں کی یہ چالاکیاں جھوٹے وعدے سیاستدانوں کی روایت کا حصہ ہیں جس کا ازالہ کرنے کا کوئی سسٹم یا میکنزم ہمارے پاس موجود نہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی جمہوریت اور سیاست میں لاکھ خرابیاں سہی، وہاں انتخابات کی جان پارٹی کا منشور ہوتا ہے، ترقی یافتہ ملکوں کے عوام نہ پارٹی کی نیک فال پر ووٹ دیتے ہیں نہ محض انتخابی وعدوں پر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ پارٹی کا منشور دیکھتے ہیں اور اسی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں جن کا منشور ان کے مسائل کے حل سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی سیاسی پارٹیاں ایسا منشور عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں جس پر وہ آسانی سے عملدرآمد کرسکیں۔ اگر کوئی جماعت اپنے منشور پر عملدرآمد میں ناکام رہتی ہے تو اسے مڈٹرم الیکشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری پارلیمانی پارٹیوں میں نہ منشور کو اہمیت دینے کا راج ہے نہ اس پر عملدرآمد سے کسی حکمران جماعت کو کوئی دلچسپی رہتی ہے۔
ہماری اپوزیشن ویسے تو حکمرانوں کے خلاف نان ایشوز پر تحریک چلاتی ہے لیکن ہماری جمہوری تاریخ میں کسی ایسی تحریک کی مثال نہیں ملتی جو حکمران جماعت کے منشور پر عملدرآمد نہ کرنے کے حوالے سے چلائی گئی ہو۔ 2014 میں عمران خان اور طاہر القادری نے جو دھرنا تحریک چلائی وہ مفروضہ مطالبوں پر تھی یا نواز شریف کے استعفے جیسے غیر منطقی مطالبے پر استوار تھی، اس تحریک میں دشنام طرازیاں دھونس دھڑلے کا عنصر تو عام تھا اور حکمرانوں پر بے حساب الزامات بھی عائد کیے جا رہے تھے لیکن اس تحریک میں حکمرانوں کی طرف سے اپنے منشور پر عملدرآمد نہ کرنے کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہ تھا۔
ہمارا خیال ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے منشور سے واقف ہی نہیں، ہمارے عوام پر چونکہ روبوٹ کی طرح الیکشن میں اپنے ووٹر ڈالتے ہیں لہٰذا ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پارٹیوں کے منشور دیکھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے، حماقت کیسوا کچھ نہیں۔ ہمارے ملک میں شخصیت پرستی کی جڑیں صدیوں میں دھنسی ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں سیاسی شخصیات کو دیکھا جاتا ہے، ان کے منشور پر کوئی سوچنے کی زحمت بھی نہیں کرتا۔ اس بیماری کی وجہ ہمارا جاگیردارانہ نظام ہے جس میں شخصیت پرستی عقیدے کے طور پر موجود ہے۔
جب صورتحال یہ ہو کہ حکمران طبقے کی بازپرس کا سرے سے کوئی نظام ہی نہ ہو تو اہل قلم اہل دانش کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایسا راستہ نکالیں جس سے سیاستدانوں کی ناک میں نکیل ڈالی جاسکے، وہ عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے کرنے پر مجبور ہوں۔ ہم نے جمہوری سیاست میں منشور کی اہمیت کی نشاندہی کردی ہے، سوال یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کس طرح مجبور کیا جائے کہ وہ انتخابات کے موقع پر عوام کے سامنے اپنا منشور واضح طور پر پیش کریں۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہر جماعت کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے انتخابی منشور کی مستند کاپیاں الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائیں اور ان سے یہ تفصیل اور شیڈول مانگا جائے کہ اگر وہ انتخابات جیت کر اقتدار میں آتی ہیں تو وہ اپنے منشور پر مرحلہ وار کس طرح عملدرآمد کریں گی، یعنی پہلے سال منشور کے کس قدر حصے پر عملدرآمد ہوگا، دوسرے تیسرے چوتھے اور پانچویں سال منشور پر کس طرح عملدرآمد کریں گی۔
کیا یہ ذمے داری الیکشن کمیشن ہی کو دی جائے یا کوئی ایسی آزاد اور خودمختار منشور مانیٹرنگ کمیٹی بنائی جائے جو حکمران جماعت کی طرف سے اس کے دیے ہوئے منشور پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کرے اس میں اس بات کی بھی وضاحت ہو کہ اگر برسر اقتدار جماعت اپنے دیے ہوئے شیڈول پر عملدرآمد نہ کرسکے تو اسے حکومت سے الگ کرکے نئے انتخابات کرائیں۔ یہ ایک ایسا فارمولا ہوگا جو برسراقتدار جماعتوں کو اپنے دیے ہوئے منشور پر عملدرآمد پر مجبور کرسکتا ہے، یہی نہیں بلکہ منشور پر عملدرآمد میں ناکام ہونے والی حکمران جماعت پر کم ازکم دس سال تک الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی جائے۔ موجودہ بے لگام انتخابات کو بامعنی بنانے کے لیے یہ ایک ایسا پھندا ہوگا جو سیاسی جماعتوں کو مجبور کر دے گا کہ وہ الیکشن جیتنے کے بعد اپنے انتخابی وعدوں کو فراموش نہ کرسکیں۔ موجودہ جمہوری نظام میں اس قسم کی کسی بندش کے بغیر حکمران طبقہ وہی سب کچھ کرتا رہے گا جو وہ اب تک کرتا آرہا ہے اگر منشور مانیٹرنگ کا اہتمام ہو تو پھر عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے کا ایک موثر نظام وضع ہوجائے گا۔
مثال کے طور پر 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ نے عوام کو چھ ماہ میں بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے نجات کے وعدے دیے اور آئی ایم ایف اور دوسرے مالیاتی اداروں سے قرض نہ لینے اور کشکول توڑنے کے وعدے کیے۔ اب تین سال ہونے کو ہیں نہ بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے عوام کو نجات ملی نہ کشکول کو توڑا گیا، اس کے خلاف عالمی مالیاتی اداروں سے عوام دشمن شرائط پر اربوں ڈالر کے قرض لیے گئے اور کڑی شرطوں کے ساتھ لیے گئے، ابھی دبئی میں آئی ایم ایف سے طے شدہ قرضوں کی قسط کی وصولی کے لیے آئی ایم ایف کی کئی شرائط مانی گئیں جن میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ کشکول توڑنے کی بات جس زور شور سے کی گئی اسی زور و شور سے مزید اربوں ڈالر کے قرض لے کر پاکستان کے ہر شہری کو مالیاتی اداروں کا مقروض بنادیا گیا۔
سیاستدانوں کی یہ چالاکیاں جھوٹے وعدے سیاستدانوں کی روایت کا حصہ ہیں جس کا ازالہ کرنے کا کوئی سسٹم یا میکنزم ہمارے پاس موجود نہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی جمہوریت اور سیاست میں لاکھ خرابیاں سہی، وہاں انتخابات کی جان پارٹی کا منشور ہوتا ہے، ترقی یافتہ ملکوں کے عوام نہ پارٹی کی نیک فال پر ووٹ دیتے ہیں نہ محض انتخابی وعدوں پر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ پارٹی کا منشور دیکھتے ہیں اور اسی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں جن کا منشور ان کے مسائل کے حل سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی سیاسی پارٹیاں ایسا منشور عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں جس پر وہ آسانی سے عملدرآمد کرسکیں۔ اگر کوئی جماعت اپنے منشور پر عملدرآمد میں ناکام رہتی ہے تو اسے مڈٹرم الیکشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری پارلیمانی پارٹیوں میں نہ منشور کو اہمیت دینے کا راج ہے نہ اس پر عملدرآمد سے کسی حکمران جماعت کو کوئی دلچسپی رہتی ہے۔
ہماری اپوزیشن ویسے تو حکمرانوں کے خلاف نان ایشوز پر تحریک چلاتی ہے لیکن ہماری جمہوری تاریخ میں کسی ایسی تحریک کی مثال نہیں ملتی جو حکمران جماعت کے منشور پر عملدرآمد نہ کرنے کے حوالے سے چلائی گئی ہو۔ 2014 میں عمران خان اور طاہر القادری نے جو دھرنا تحریک چلائی وہ مفروضہ مطالبوں پر تھی یا نواز شریف کے استعفے جیسے غیر منطقی مطالبے پر استوار تھی، اس تحریک میں دشنام طرازیاں دھونس دھڑلے کا عنصر تو عام تھا اور حکمرانوں پر بے حساب الزامات بھی عائد کیے جا رہے تھے لیکن اس تحریک میں حکمرانوں کی طرف سے اپنے منشور پر عملدرآمد نہ کرنے کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہ تھا۔
ہمارا خیال ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے منشور سے واقف ہی نہیں، ہمارے عوام پر چونکہ روبوٹ کی طرح الیکشن میں اپنے ووٹر ڈالتے ہیں لہٰذا ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پارٹیوں کے منشور دیکھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے، حماقت کیسوا کچھ نہیں۔ ہمارے ملک میں شخصیت پرستی کی جڑیں صدیوں میں دھنسی ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں سیاسی شخصیات کو دیکھا جاتا ہے، ان کے منشور پر کوئی سوچنے کی زحمت بھی نہیں کرتا۔ اس بیماری کی وجہ ہمارا جاگیردارانہ نظام ہے جس میں شخصیت پرستی عقیدے کے طور پر موجود ہے۔
جب صورتحال یہ ہو کہ حکمران طبقے کی بازپرس کا سرے سے کوئی نظام ہی نہ ہو تو اہل قلم اہل دانش کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایسا راستہ نکالیں جس سے سیاستدانوں کی ناک میں نکیل ڈالی جاسکے، وہ عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے کرنے پر مجبور ہوں۔ ہم نے جمہوری سیاست میں منشور کی اہمیت کی نشاندہی کردی ہے، سوال یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کس طرح مجبور کیا جائے کہ وہ انتخابات کے موقع پر عوام کے سامنے اپنا منشور واضح طور پر پیش کریں۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہر جماعت کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے انتخابی منشور کی مستند کاپیاں الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائیں اور ان سے یہ تفصیل اور شیڈول مانگا جائے کہ اگر وہ انتخابات جیت کر اقتدار میں آتی ہیں تو وہ اپنے منشور پر مرحلہ وار کس طرح عملدرآمد کریں گی، یعنی پہلے سال منشور کے کس قدر حصے پر عملدرآمد ہوگا، دوسرے تیسرے چوتھے اور پانچویں سال منشور پر کس طرح عملدرآمد کریں گی۔
کیا یہ ذمے داری الیکشن کمیشن ہی کو دی جائے یا کوئی ایسی آزاد اور خودمختار منشور مانیٹرنگ کمیٹی بنائی جائے جو حکمران جماعت کی طرف سے اس کے دیے ہوئے منشور پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کرے اس میں اس بات کی بھی وضاحت ہو کہ اگر برسر اقتدار جماعت اپنے دیے ہوئے شیڈول پر عملدرآمد نہ کرسکے تو اسے حکومت سے الگ کرکے نئے انتخابات کرائیں۔ یہ ایک ایسا فارمولا ہوگا جو برسراقتدار جماعتوں کو اپنے دیے ہوئے منشور پر عملدرآمد پر مجبور کرسکتا ہے، یہی نہیں بلکہ منشور پر عملدرآمد میں ناکام ہونے والی حکمران جماعت پر کم ازکم دس سال تک الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی جائے۔ موجودہ بے لگام انتخابات کو بامعنی بنانے کے لیے یہ ایک ایسا پھندا ہوگا جو سیاسی جماعتوں کو مجبور کر دے گا کہ وہ الیکشن جیتنے کے بعد اپنے انتخابی وعدوں کو فراموش نہ کرسکیں۔ موجودہ جمہوری نظام میں اس قسم کی کسی بندش کے بغیر حکمران طبقہ وہی سب کچھ کرتا رہے گا جو وہ اب تک کرتا آرہا ہے اگر منشور مانیٹرنگ کا اہتمام ہو تو پھر عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے کا ایک موثر نظام وضع ہوجائے گا۔