ذی الحج

انعامات ِ الٰہیہ کے مُبارک دن

رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص عشرۂ ذی الحجہ کے ایام میں سورۂ فجر پڑھے تو اﷲ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ سے بچا لیتا ہے۔‘‘ فوٹو: فضل خالق

لاہور:
''ذی الحجہ'' اسلامی سال کے بارھویں مہینے کا نام ہے، اس ماہ مبارک میں اﷲ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو خصوصی انعامات سے نوازتا ہے۔

یہ چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ اس میں عبادات کا اعلیٰ ثواب ہے، بالخصوص اس کے پہلے دس دنوں کی اتنی فضیلت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان دس دنوں کو قرآن مجید میں ''ایام معلومات'' کہا ہے۔
ارشاد باری ہے:''اور جانے ہوئے دنوں میں اﷲ کا نام لیں۔'

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:''اور دس راتوں کی قسم۔'' اس سے ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہے۔

نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے:''اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو ان دس دنوں کی بھلائی سے محروم رہا اور نویں ذی الحجہ کے روزے کا تو خاص خیال رکھو کہ اس میں اس قدر بھلائیاں ہیں جن کا شمار نہیں۔''
ام المومنین حضرت حفصہ ؓ ارشاد فرماتی ہیں:''چار چیزوں کو نبی کریم ﷺ نہیں چھوڑتے تھے: عاشورے کا روزہ اور ذی الحجہ کے دس دن یعنی پہلے نو دن کے روزے اور ہر ماہ کے تین دن کے روزے اور نماز فجر سے قبل دو رکعتیں!''

رسول مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:''جس وقت عشرۂ ذی الحجہ داخل ہوجائے اور تم میں کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو چاہیے کہ بال اور جسم سے کسی چیز کو مس نہ کرے۔''
ایک اور روایت میں ہے کہ''نہ بال کتروائے اور نہ ناخن کٹوائے۔''

ایک روایت میں آتا ہے:''جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے اور قربانی کا ارادہ ہو تو نہ بال منڈوائے اور نہ ناخن ترشوائے۔''
نبی اکرم ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ سے ارشاد فرمایا:''قربانی کے جانور کے پاس کھڑی ہو، اس لیے کہ قربانی کے جانور کی گردن سے جب خون کا پہلا قطرہ گرے گا تو اس کے عوض تمہارے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔''

اس موقع پر حضرت عمران بن حصین ؓ نے رسول کریمﷺ کی خدمت میں عرض کیا:''یا رسول اﷲ ﷺ ! یہ آپؐ کے لیے اور آپؐ کے اہل بیت کے لیے خاص ہے یا سب مومنین کے لیے ہے؟''
اس کے جواب میں سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:''سب مومنین کے لیے ہے۔''

نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:''جس شخص نے قربانی کرنے کی وسعت پائی پھر بھی قربانی نہیں کی پس وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔''
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:''قربانی کے دن خون بہانے سے زیادہ بندے کا کوئی عمل اﷲ تعالیٰ کو محبوب نہیں ہے۔ قربانی کا جانور روز قیامت اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور بے شک! اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبولیت حاصل کرلیتا ہے۔ پس دل کی خوشی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔''

صحابۂ کرام نے خدمت نبویﷺ میں عرض کیا:
''یا رسول اﷲ! یہ قربانی کیا چیز ہے؟''
جواب میں آپؐ نے ارشاد فرمایا:''یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔''


صحابہ نے عرض کیا:''اس قربانی سے ہمیں کیا ثواب ملے گا؟''
نبی برحق ﷺ نے ارشاد فرمایا:''ہر بال کے عوض ایک نیکی۔''

صحابہ نے عرض کیا:''یا رسول اﷲ! اگر مینڈھا ہو تو بھی؟''
رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:''تب بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ملے گی۔''

رسول اکرم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا:''جس شخص نے دل کی خوشی کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے قربانی کی، وہ قربانی اس کے لیے دوزخ کی آگ سے آڑ ہوگی۔''
امام ابو حنیفہ اور دیگر کے مطابق ہر آزاد مسلمان اور مقیم صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے، جب کہ امام احمد بن حنبل کے نزدیک صرف دولت مند پر واجب اور فقیر کے لیے سنت ہے۔

رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:''جو شخص ذی الحجہ کی پہلی رات دو رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ انعام کی پہلی تین آیات اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کافرون ایک بار پڑھے تو اﷲ تعالیٰ اسے حج کا ثواب عطا فرماتا ہے۔''

حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ روایت کرتے ہیں کہ''جو شخص دسویں ذی الحجہ تک ہر رات وتروں کے بعد دو رکعت نفل پڑھے، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کوثر اور سورۂ اخلاص ایک ایک بار پڑھے تو اﷲ تعالیٰ اس کو اس قدر ثواب دیتا ہے کہ اس کی تعداد خود باری تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں معلوم۔ اس نماز کا ادا کرنے والا مرنے سے پہلے ہی اپنی جگہ جنت میں دیکھ لیتا ہے۔''

حضرت علی ؓ اور حضرت عبداﷲ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے، حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:''جو شخص عرفے کے دن دو رکعتیں پڑھے اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ، تین بار پھر سورۂ کافرون تین بار اور سورۂ اخلاص ایک بار پڑھے اور ہر بار ہر سورت کو بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم سے شروع کرے تو اﷲ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔''

رسول کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:''جو شخص شب عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کی رات کو 20 رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی تین بار اور سورۂ اخلاص 25 بار اور سلام کے بعد سبحان اﷲ سو بار پڑھے تو اﷲ تعالیٰ اس کو حج مقبول کا ثواب دیتا ہے اور اس کی صورت کا فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کی طرف سے ارکان حج ادا کرتا ہے۔''

رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:''جو شخص عشرۂ ذی الحجہ کے ایام میں سورۂ فجر پڑھے تو اﷲ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ سے بچا لیتا ہے۔''
شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ ''راحت القلوب'' میں روایت کرتے ہیں کہ نحر کی رات یعنی دسویں ذی الحجہ (عید قرباں کی رات) جو شخص بارہ رکعت نفل اس طرح کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص پانچ بار پڑھے تو اس کے لیے بے انتہا ثواب ہے۔

روایت ہے کہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں صحابۂ کرام ؓ نے عرض کیا:''اے اﷲ کے رسول! اگر کوئی فقیر ہو اور قربانی کی طاقت نہ رکھتا ہو تو کیا کرے؟''
آپؐ نے ارشاد فرمایا:''وہ نماز عید کے بعد گھر میں دو رکعت نماز نفل پڑھے، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کوثر تین بار پڑھے تو اﷲ جل شانہ اس کو اونٹ کی قربانی کا ثواب عطا فرمائے گا۔''

شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر ؒنے حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی ؒ سے ''راحت القلوب'' میں روایت کیا ہے کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:''جو شخص ذی الحجہ کے مہینے میں آخری روز دو رکعت نماز اس طرح ادا کرتا ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد قرآن میں سے جو یاد ہو، اس میں سے تھوڑا سا پڑھ لے تو اﷲ تعالیٰ اس کے سال بھر کے گناہ بخش دیتا ہے۔''

اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب مسلمانوں کو دل و جان سے ہر دم اپنی اطاعت میں مشغول رکھے اور ہمیں ذی الحجہ کے مبارک ایام کے فیوض و برکات نصیب فرمائے اور بار بار حج، عمرہ اور زیارت روضۂ رسول ﷺ کی سعادتوں سے مالا مال فرمائے، آمین
Load Next Story