دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم

سانحہ اٹک سے یہ حقیقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک پنجاب میں بھی متحرک ہے

ہماری بہادر فوج اور سکیورٹی ادارے جتنی تیزی سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں اس سے یہ امید بڑھتی ہے کہ یہ پاک دھرتی جلد امن کا گہوارہ بن جائے گی۔

پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کی خود کش حملے میں شہادت کے بعد اس دہشت گردی کی واردات کی تحقیق و تفتیش کے لئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، اس ٹیم میں آئی ایس آئی، ایم آئی، سپیشل برانچ، کوانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے وہ لوگ شامل ہوں گے جو دہشت گردی کی وارداتوں کی تفتیش میں ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ سانحہ اٹک میں کرنل شجاع خانزادہ سمیت 19 افراد شہید ہوئے، شہید ہونے والوں میں ڈی ایس پی حضرو شوکت شاہ بھی شامل ہیں، اگلے روز ہی کرنل شجاع خانزادہ کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

سانحہ اٹک سے یہ حقیقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک پنجاب میں بھی متحرک ہے اور یہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بھی کام کر رہا ہے، اگلے روز پیپلز پارٹی فاٹا کے صدر اخونزادہ چٹان کے کم سن صاحبزادے کو اغوا کر لیا گیا۔ ان سارے معاملات سے ایک حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ ملک میں سول حکومت کے تحت کام کرنے والے ادارے ابھی تک وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کی ان سے توقع ہے، دہشت گردوں سے لڑنا صرف فوج کا کام ہی نہیں بلکہ سول اداروں کا بھی کام ہے کہ وہ شہروں، قصبوں اوردیہات میں موجود دہشت گردوں کی کمیں گاہیں تلاش کریں، ان کے سرپرستوں کا پتہ کریں اور ان کیخلاف ثبوت اکٹھے کریں تاکہ انہیں جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

حکومتی اداروں کے زوال کی ایک مثال یہ ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ ملبے کے نیچے دبے رہے اور انہیں بروقت نکالا نہیں جا سکا کیونکہ امدادی اداروں کے کارکنوں کے پاس جدید آلات نہیں تھے اور نہ ہی انہیں اس قسم کے حالات سے نبٹنے کی تربیت حاصل ہے، اگر امدادی اداروں کے پاس جدید آلات ہوتے اور کارکن تربیت یافتہ ہوتے تو کئی افراد کو ملبے تلے سے زندہ نکالا جا سکتا تھا، مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو ان پہلو پر توجہ دینی چاہیے، بہر حال یہ امر خوش آئند ہے کہ اس سانحہ کے بعد ملکی قیادت نے عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا ہے اور دہشت گردوں کیخلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔


وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان کو ہر صورت کامیاب بنائے گی، دہشت گردوں کو ان کی کمین گاہوں سے ڈھونڈ کر ختم کریں گے، قانون نافذ کرنے والے ادارے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اپنا کام جاری رکھیں۔ صدر مملکت ممنون حسین نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں حکومت اور ریاستی اداروں کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے نہیں روک سکتیں۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو واقعے کی تحقیقات اور فوری منصوبہ سازوں تک پہنچنے میں مدد دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں ہمارا عزم کمزور نہیں کر سکتیں۔

آئی جی پنجاب کے مطابق حملہ آور دو تھے۔ حملے کے بعد پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا، ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف جاری آپریشن کو تیز کرنے کے بعد انہیں دھمکیاں زیادہ ملنا شروع ہو گئی تھیں۔ دھمکیاں ملنے کے باوجود شجاع خانزادہ خوفزدہ نہیں ہوئے بلکہ دہشت گردی کے خلاف وہ پہلے سے بھی زیادہ متحرک ہوگئے۔ پنجاب میں مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والی بڑی اہم شخصیت دہشت گردوں کا نشانہ بنی ہے اس سے قبل دہشت گرد پولیس اور سکیورٹی اداروں پر حملے کرتے رہے ہیں جس کا مقصد ان اداروں کو خوفزدہ کرنا تھا تاکہ وہ ان کے خلاف کارروائیاں روک دیں اب صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کی شہادت سے بھی حکومت کو ایسا ہی پیغام دیا گیا ہے لیکن حکومت اور عسکری قیادت بارہا یہ واضح کر چکی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا عزم کمزور نہیں ہو گا اور وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

اب بھی آپریشن ضرب عضب کے تحت شمالی وزیرستان میں شوال کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی فضائی کارروائی میں 40 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے جو جنگ شروع کی گئی ہے یہ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے، ملکی سلامتی کا یہ دشمن بے چہرہ ہے اس لئے کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لئے نا جانے کتنی قربانیاں دینا پڑیں گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک سکیورٹی اہلکاروں کے حوصلے ہر قربانی کے بعد مزید بلند ہوئے ہیں اور وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط عزم کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف متحرک ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کو بڑے پیمانے پر کامیابیاں ملی ہیں اور اس وقت شمالی وزیرستان کے بڑے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرالیا گیا ہے۔ ہماری بہادر فوج اور سکیورٹی ادارے جتنی تیزی سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں اس سے یہ امید بڑھتی ہے کہ یہ پاک دھرتی جلد امن کا گہوارہ بن جائے گی۔
Load Next Story