پنجاب و سندھ میں سیلاب سے مزید ہلاکتیں
انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ ہزاروں دیہات کا زیر آب آنا، تیار فصلوں اور مکانات کا تباہ ہونا بھی بڑا المیہ ہے
عوام کو خود بھی حفاظتی اقدامات کا خیال رکھنا چاہیے نیز حکومت کی جانب سے سمندر میں تمام تفریحی مقامات پر ریسکیو کا نظام مزید فعال اور وسیع بنانے کی ازحد ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل
صوبہ پنجاب و سندھ میں سیلاب کی ہلاکت خیزی جاری ہے۔گزشتہ روز بھی مختلف علاقوں میں سیلابی و بارش کے پانی، چھت کے گرنے اور دریاؤں میں ڈوب کر 7 بچوں سمیت مزید 10 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ ہزاروں دیہات کا زیر آب آنا، تیار فصلوں اور مکانات کا تباہ ہونا بھی بڑا المیہ ہے جس سے سنبھلنے میں ایک عرصہ درکار ہوگا۔ گزشتہ برسوں آنے والے سیلاب اور ان کی تباہ کاریوں پر حکومتی برائے نام اقدامات اور متاثرین کو دوبارہ بسانے کی غیر سنجیدہ کوششیں عکاس ہیں کہ قدرتی آفات اور اپنی کم مائیگی کا رونا رو کر اپنی ذمے داریوں سے پہلوتہی کا رویہ اداروں کی جینز میں سرائیت کرگیا ہے۔
ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں مون سون بارشوں کے دوران سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تازہ ترین صورتحال کی رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق ملک بھر میں سیلاب کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر208 افراد جان بحق جب کہ 157 زخمی ہوچکے ہیں۔ 21,975 مکانات تباہ، 3,870 دیہات اور 1,407,730 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد حکومتی اداروں کو متاثرین کی بحالی کے لیے فوراً سرگرم ہوجانا چاہیے۔ دوسری جانب بھارت نے ہیڈ ہری سے دریائے ستلج میں 86800 کیوسک پانی چھوڑدیا ہے، جس کے بعد ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 60000کیوسک ہوگئی لیکن یہ صورتحال بھی کچھ غیر متوقع نہیں۔ بھارت نے پاکستانی دریاؤں پر بے شمار بند تعمیر کردیے ہیں اور پانی کی زیادتی کی صورت میں وہ ہر سال ہی دریاؤں میں پانی چھوڑ دیتا ہے، اس تناظر میں پاکستانی حکومت کو بھی پیشگی اقدامات کرنے چاہئیں۔
سیلاب سے تباہی ایک طرف کراچی میں سمندر کی طغیانی کے پیش نظر سمندر میں نہانے کے پابندی عائد ہے لیکن خلاف ورزی کے باعث سمندر میں ڈوب کر ہلاکتوں کے واقعات بھی منظر عام پر آرہے ہیں۔ اتوار کو ایک خاندان کے 4 افراد سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ عوام کو خود بھی حفاظتی اقدامات کا خیال رکھنا چاہیے نیز حکومت کی جانب سے سمندر میں تمام تفریحی مقامات پر ریسکیو کا نظام مزید فعال اور وسیع بنانے کی ازحد ضرورت ہے۔
ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں مون سون بارشوں کے دوران سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تازہ ترین صورتحال کی رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق ملک بھر میں سیلاب کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر208 افراد جان بحق جب کہ 157 زخمی ہوچکے ہیں۔ 21,975 مکانات تباہ، 3,870 دیہات اور 1,407,730 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد حکومتی اداروں کو متاثرین کی بحالی کے لیے فوراً سرگرم ہوجانا چاہیے۔ دوسری جانب بھارت نے ہیڈ ہری سے دریائے ستلج میں 86800 کیوسک پانی چھوڑدیا ہے، جس کے بعد ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 60000کیوسک ہوگئی لیکن یہ صورتحال بھی کچھ غیر متوقع نہیں۔ بھارت نے پاکستانی دریاؤں پر بے شمار بند تعمیر کردیے ہیں اور پانی کی زیادتی کی صورت میں وہ ہر سال ہی دریاؤں میں پانی چھوڑ دیتا ہے، اس تناظر میں پاکستانی حکومت کو بھی پیشگی اقدامات کرنے چاہئیں۔
سیلاب سے تباہی ایک طرف کراچی میں سمندر کی طغیانی کے پیش نظر سمندر میں نہانے کے پابندی عائد ہے لیکن خلاف ورزی کے باعث سمندر میں ڈوب کر ہلاکتوں کے واقعات بھی منظر عام پر آرہے ہیں۔ اتوار کو ایک خاندان کے 4 افراد سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ عوام کو خود بھی حفاظتی اقدامات کا خیال رکھنا چاہیے نیز حکومت کی جانب سے سمندر میں تمام تفریحی مقامات پر ریسکیو کا نظام مزید فعال اور وسیع بنانے کی ازحد ضرورت ہے۔