’’فہمیوں‘‘ کے کھیت اور فصلیں
ہمارا مقصد وہ گھاس ہے جسے یہ خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں کہتا ہے
barq@email.com
انسان کے بارے میں علماء فضلا حکماء اور اطباء کچھ بھی کہیں خاص طور پر دیگر جانوروں کی رائے اس کے بارے میں بالکل بھی اچھی نہیں ہے حتیٰ کہ اس کے قریبی عزیز بندر بھی خواہ مخواہ اس پر ''منفی تنقید'' کرتے رہتے ہیں مثلاً ایک بندر شہر کی یاترا سے واپس آیا تو اس نے بندروں کو یہ بریکنگ نیوز دی کہ انسان اپنے آپ کو ہمارا رشتہ دار بتاتا ہے؟ یہ حیرت انگیز انکشاف سن کر ایک دانا دانشور بندر بول،'' کیا انسان نے اتنی ترقی کرلی کہ ہم سے رشتہ جوڑنے لگا ہے؟'' لیکن ہم چونکہ سخن فہم اور غالب کے طرف دار دونوں یعنی ٹو ان ون ہیں اس لیے خدا لگتی بات کہیں گے کہ جانوروں کے تمام تر الزامات اور انسان کے تمام کرتوتوں کے باوجود انسان بڑا معصوم جانور ہے،ل چلیے دل کو خوش رکھنے کے لیے اسے حیوان ناطق یا حیوان اعلیٰ یا حیوان اشرف کہئے لیکن اس کی سادہ دلی میں کوئی کلام نہیں ہے کیونکہ اپنی تمام تر ترقیوں اور ایجادات و اختراعات کے باوجود یہ اب بھی گھاس ہی کھاتا ہے اور بھی بہت کچھ ٹھونس لیتا ہے حتیٰ کہ اپنے ہی ہم نسلوں کا گوشت بھی ''بینکوں'' میں رکھ کر کھاتا رہتا ہے لیکن بنیادی طور پر اس کی غذا جس پر یہ ابھی تک زندہ ہے گھاس ہی ہے، لیکن ٹھہریئے یہ وہ گھاس نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں جسے یہ ''ساگ پات'' کہتا ہے بلکہ ہمارا مقصد وہ گھاس ہے جسے یہ خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں کہتا ہے اور درحقیقت اسی خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں کی گھاس پر یہ ابھی تک زندہ ہے ورنہ نہ جانے کب کا فنا ہو چکا ہوتا، یعنی اب اس کی داستان تک بھی نہ ہوتی داستانوں میں اور ڈینوسار وغیرہ کی طرح اس کے صرف رکازات ملتے لیکن بھلا ہو خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں کی اس ''سدا بہار'' گھاس کا جس کے لیے کسی کھیت یا زمین کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے ''بونے بوانے'' کی ضرورت ہوتی ہے، دل و دماغ نامی دو عجیب و غریب ''کھیت'' اس کے پاس ہیں جہاں جتنی چاہے گھاس اگاتا ہے ،کاٹتا اور کھاتا رہتا ہے۔ یہ دونوں ہی بڑے زرخیز کھیت ہیں۔ ایک مشہور و معروف ماہر زراعت ڈاکٹر علامہ اقبال نے ان کھیتوں کے سائنسی تجزبات وغیرہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ
نہیں ہے ناامید اقبال اپنے کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اس زرخیزی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ بمقام پاکستان اس کے جو بھی اور جتنے بھی کھیت پائے جاتے ہیں تقریباً ستر سال سے ان کو نہ کھاد ملی ہے نہ بیج اور نہ پانی، بس کچھ کمالی قسم کے ماہرین جنھیں لیڈر یا رہنما کہا جاتا ہے اپنے بیانات کی بوندیں برساتے رہتے ہیں اور خوش فہمیوں، غلط فہمیوں کی فصلیں لہلہاتی رہتی ہیں جنھیں قائد عوام، قائد جمہوریت، قائد اسلام، قائد دھرنا ٹائپ کے ماہرین کاٹتے رہتے ہیں اور دساور بھیج کر دھن کماتے رہتے ہیں۔ کسی اور ملک کے بارے میں تو ہمیں پوری طرح جانکاری نہیں ہے کہ وہاں کے ''کھیتوں'' میں خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں کی فصلیں کیسی ہوتی ہیں اور آیا وہاں کی زمین بھی اتنی ہی زرخیز ہے جتنی ہمارے ہاں کی زمین ہے لیکن اتنا اندازہ تو ہمیں لگ سکتا ہے کہ یہ نقد آور فصلیں ہر اس مقام پر ہوتی ہیں جہاں انسان نامی مخلوق پائی جاتی ہے اور اس کے اندر دل اور دماغ نام کے کھیت کلیان موجود ہیں، مثلاً امریکا میں اپنی اپنی خوش فہمیوں کی فصلیں اگائی جاتی ہیں وہاں کے لیڈر اور ممتاز رہنما بلکہ شاعر و صورت گر و افسانہ نویس ان کھیتوں کے مالکوں یعنی عوام کو یہ یقین دلائے ہوئے ہیں کہ ساری دنیا پر ہماری حکمرانی ہے اور ہم سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی نہیں کوئی نہیں، برطانیہ کے کھیتوں میں یہ خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں اگتی رہتی ہیں کہ اس وقت دنیا کے پاس جو کچھ ہے وہ ہمارا دیا ہوا ہے اور تو اور ہمارے پڑوس میں ایک اونٹ ہے جس کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے لیکن اس پر جو ساربان نریندر مودی کے نام سے سوار ہے وہ ساری دنیا کو سیدھا کرنے چلا ہے۔
توکار زمیں رانکو ساختی
کہ با آسماں نیز پر داختی
یعنی تم نے زمین کو کیا بنا ڈالا کہ اب آسمانی کاموں میں دخل دینے کے لیے اڑنا چاہتے ہو، لیکن اپنے بمقام پاکستان کے بارے میں ہمیں خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ یہاں صرف اور صرف ایک ہی فصل یا گھاس اگائی جاتی ہے اور وہ غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں کی سدا بہار فصل ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ دو الفاظ خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں بہت لمبے پڑتے ہیں اس لیے ان دونوں کو مختصر کر کے صرف ''فہمیاں'' بھی کفایت کر لیتی ہیں کیونکہ ''فہمیوں'' کا خاندان بہت وسیع ہے، اس لیے کوئی کب تک فرداً فرداً ہر ''فہمی'' کا نام سے ذکر کرے، مثلاً اس ''فہمی'' خاندان کی ایک اور مشہور فہمی ''سیاست فہمی'' کے نام سے بھی پائی جاتی ہے جس نے غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں سے بھی زیادہ لوٹ مچا رکھی ہے۔ پورے ملک میں غالباً ''ڈیڑھ آدمی'' ایسے موجود ہیں جو سیاست فہمی کے مدعی نہیں ہیں ، ان میں ایک تو ہمارے چشم گل چشم ہیں اور آدھے ہم ہیں، باقی اٹھارہ بیس کروڑ میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملے گا جس کے ''نیفے'' میں سیاست فہمی کا اتنا بڑا سا پیاز نہ ہو، آپ اسے سیدھا سادہ بندے کا پتر سمجھیں گے اور وہ اندر سے سیاست فہم نکلے گا اور بھی بہت ساری ''فہمیاں'' ہیں جو مارکیٹ میں بے پناہ پائی جاتی ہیں۔ اسلام فہمی، دین فہمی، دانش فہمی، تعلیم فہمی اور نہ جانے کیا کیا فہمی اور فہمیاں ۔۔۔ گویا ایں ھمہ خانہ آفتاب است
ہزاروں فہمیاں ایسی کہ ہر ''فہمی'' پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ''فہمان'' لیکن پھر بھی کم نکلے
ان تمام اقسام کی فہمیوں میں جو سب سے ٹاپ کی فہمی ہے وہ ''نرگسیت'' کی نہایت ہی ماڈرن اور ترقی دادہ قسم ہے۔ یوں کہئے کہ حماقت اور نرگسیت کو باہم ٹشو کلچر کر کے یہ نئی فہمی پیدا کی گئی ہے جو تقریباً ہر پاکستانی کی فیورٹ بلکہ ہارٹ فیورٹ فہمی ہے، ویسے تو اس کے بہت سارے نام ہیں لیکن مقبول ترین نام ''نمبر ون فہمی'' ہے یا فہمی نمبر ون کہئے جس میں گدھے کا پتر اور الو کا پٹھا بھی خود کو ''نمبر ون'' سمجھنے لگتا ہے حالانکہ گدھے اور الو سب کے سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔ وہ مشہور قصہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ایک الو کا پٹھا اپنے باپ سے لڑ پڑا اور خود کو برتر ثابت کرتے ہوئے بولا ،'' ڈیڈ آپ صرف الو ہیں اور میں الو کا پٹھا بھی ہوں'' اس پر الو نے اس کے عین تالو پر چونچ مارتے ہوئے کہا،'' الو کے پٹھے ۔۔۔۔ یہ تمہارا باپ ''الو'' بھی کبھی الو کا پٹھا تھا اور تم بھی ایک دن صرف الو رہ جاؤ گے۔ '' الو تو ہزاروں میں جو بیٹھے ہوئے ہیں شاخوں پر، بلکہ وزارتوں پر، یا بنوں کوہاٹ میں پھرتے ہیں مارے مارے ۔۔۔۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ نمبر ون کی دوڑ میں ہماری فہمی اتنی اسٹرانگ ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی کام یا کارنامہ نہیں ہے جس میں ہم ''نمبر ون'' کی پوزیشن پر نہ ہو، مثلاً انسانوں میں ہم نمبر ون ہیں کیونکہ ہم مسلمان ہیں پھر مسلمانوں میں نمبر ون اس لیے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان میں اس لیے نمبر ون ہیں کہ ہم پنجابی ہیں، پشتون ہیں، سندھی یا بلوچی ہیں بلکہ اگر مہاجر بھی ہیں یا کشمیری بھی تو بھی نمبر ون تو ہیں، کل ایک خوش فہمی بلکہ فہمیوں کے ایک کھیت کے پی کے سے ہمارا گزر ہوا واہ کیا فہمیاں تھیں جو لہلہا رہی تھیں بلکہ کہیں کہیںتو فہمیاں کھیت سے نکل کر لاہور کراچی لندن دبئی بلکہ بنی گالہ تک پہنچ رہی تھیں کیونکہ
دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے
خودبخود پہنچے ہے گل گوشہ دستار کے پاس
دوسری پرانی والی روایتی فہمیاں بھی کچھ کم نہ تھیں لیکن ابھی ابھی نئے سیزن میں لوکل سطح پر لوکل کھیتوں میں جو لوکل فہمیاں کاشت کی گئی ہیں، ان کی بڑھوتری دیکھ کر ایسا لگا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ کھیت لہلہانے لگیں گے اور لگ بھگ پچاس ہزار نئی فہمیاں اپنا پھل دینے لگیں گی اور یہ پھل اتنے وافر ہوں گے کہ ہاتھ بڑھایئے اور کھایئے، بلکہ شاید ہاتھ بڑھانے کی بھی ضرورت نہ پڑے اور ہر دہلیز پر فہمیوں کے ڈھیر پڑے ہوئے نظر آئیں۔
اگ رہا ہے درو دیوار پہ سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
نہیں ہے ناامید اقبال اپنے کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اس زرخیزی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ بمقام پاکستان اس کے جو بھی اور جتنے بھی کھیت پائے جاتے ہیں تقریباً ستر سال سے ان کو نہ کھاد ملی ہے نہ بیج اور نہ پانی، بس کچھ کمالی قسم کے ماہرین جنھیں لیڈر یا رہنما کہا جاتا ہے اپنے بیانات کی بوندیں برساتے رہتے ہیں اور خوش فہمیوں، غلط فہمیوں کی فصلیں لہلہاتی رہتی ہیں جنھیں قائد عوام، قائد جمہوریت، قائد اسلام، قائد دھرنا ٹائپ کے ماہرین کاٹتے رہتے ہیں اور دساور بھیج کر دھن کماتے رہتے ہیں۔ کسی اور ملک کے بارے میں تو ہمیں پوری طرح جانکاری نہیں ہے کہ وہاں کے ''کھیتوں'' میں خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں کی فصلیں کیسی ہوتی ہیں اور آیا وہاں کی زمین بھی اتنی ہی زرخیز ہے جتنی ہمارے ہاں کی زمین ہے لیکن اتنا اندازہ تو ہمیں لگ سکتا ہے کہ یہ نقد آور فصلیں ہر اس مقام پر ہوتی ہیں جہاں انسان نامی مخلوق پائی جاتی ہے اور اس کے اندر دل اور دماغ نام کے کھیت کلیان موجود ہیں، مثلاً امریکا میں اپنی اپنی خوش فہمیوں کی فصلیں اگائی جاتی ہیں وہاں کے لیڈر اور ممتاز رہنما بلکہ شاعر و صورت گر و افسانہ نویس ان کھیتوں کے مالکوں یعنی عوام کو یہ یقین دلائے ہوئے ہیں کہ ساری دنیا پر ہماری حکمرانی ہے اور ہم سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی نہیں کوئی نہیں، برطانیہ کے کھیتوں میں یہ خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں اگتی رہتی ہیں کہ اس وقت دنیا کے پاس جو کچھ ہے وہ ہمارا دیا ہوا ہے اور تو اور ہمارے پڑوس میں ایک اونٹ ہے جس کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے لیکن اس پر جو ساربان نریندر مودی کے نام سے سوار ہے وہ ساری دنیا کو سیدھا کرنے چلا ہے۔
توکار زمیں رانکو ساختی
کہ با آسماں نیز پر داختی
یعنی تم نے زمین کو کیا بنا ڈالا کہ اب آسمانی کاموں میں دخل دینے کے لیے اڑنا چاہتے ہو، لیکن اپنے بمقام پاکستان کے بارے میں ہمیں خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ یہاں صرف اور صرف ایک ہی فصل یا گھاس اگائی جاتی ہے اور وہ غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں کی سدا بہار فصل ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ دو الفاظ خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں بہت لمبے پڑتے ہیں اس لیے ان دونوں کو مختصر کر کے صرف ''فہمیاں'' بھی کفایت کر لیتی ہیں کیونکہ ''فہمیوں'' کا خاندان بہت وسیع ہے، اس لیے کوئی کب تک فرداً فرداً ہر ''فہمی'' کا نام سے ذکر کرے، مثلاً اس ''فہمی'' خاندان کی ایک اور مشہور فہمی ''سیاست فہمی'' کے نام سے بھی پائی جاتی ہے جس نے غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں سے بھی زیادہ لوٹ مچا رکھی ہے۔ پورے ملک میں غالباً ''ڈیڑھ آدمی'' ایسے موجود ہیں جو سیاست فہمی کے مدعی نہیں ہیں ، ان میں ایک تو ہمارے چشم گل چشم ہیں اور آدھے ہم ہیں، باقی اٹھارہ بیس کروڑ میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملے گا جس کے ''نیفے'' میں سیاست فہمی کا اتنا بڑا سا پیاز نہ ہو، آپ اسے سیدھا سادہ بندے کا پتر سمجھیں گے اور وہ اندر سے سیاست فہم نکلے گا اور بھی بہت ساری ''فہمیاں'' ہیں جو مارکیٹ میں بے پناہ پائی جاتی ہیں۔ اسلام فہمی، دین فہمی، دانش فہمی، تعلیم فہمی اور نہ جانے کیا کیا فہمی اور فہمیاں ۔۔۔ گویا ایں ھمہ خانہ آفتاب است
ہزاروں فہمیاں ایسی کہ ہر ''فہمی'' پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ''فہمان'' لیکن پھر بھی کم نکلے
ان تمام اقسام کی فہمیوں میں جو سب سے ٹاپ کی فہمی ہے وہ ''نرگسیت'' کی نہایت ہی ماڈرن اور ترقی دادہ قسم ہے۔ یوں کہئے کہ حماقت اور نرگسیت کو باہم ٹشو کلچر کر کے یہ نئی فہمی پیدا کی گئی ہے جو تقریباً ہر پاکستانی کی فیورٹ بلکہ ہارٹ فیورٹ فہمی ہے، ویسے تو اس کے بہت سارے نام ہیں لیکن مقبول ترین نام ''نمبر ون فہمی'' ہے یا فہمی نمبر ون کہئے جس میں گدھے کا پتر اور الو کا پٹھا بھی خود کو ''نمبر ون'' سمجھنے لگتا ہے حالانکہ گدھے اور الو سب کے سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔ وہ مشہور قصہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ایک الو کا پٹھا اپنے باپ سے لڑ پڑا اور خود کو برتر ثابت کرتے ہوئے بولا ،'' ڈیڈ آپ صرف الو ہیں اور میں الو کا پٹھا بھی ہوں'' اس پر الو نے اس کے عین تالو پر چونچ مارتے ہوئے کہا،'' الو کے پٹھے ۔۔۔۔ یہ تمہارا باپ ''الو'' بھی کبھی الو کا پٹھا تھا اور تم بھی ایک دن صرف الو رہ جاؤ گے۔ '' الو تو ہزاروں میں جو بیٹھے ہوئے ہیں شاخوں پر، بلکہ وزارتوں پر، یا بنوں کوہاٹ میں پھرتے ہیں مارے مارے ۔۔۔۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ نمبر ون کی دوڑ میں ہماری فہمی اتنی اسٹرانگ ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی کام یا کارنامہ نہیں ہے جس میں ہم ''نمبر ون'' کی پوزیشن پر نہ ہو، مثلاً انسانوں میں ہم نمبر ون ہیں کیونکہ ہم مسلمان ہیں پھر مسلمانوں میں نمبر ون اس لیے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان میں اس لیے نمبر ون ہیں کہ ہم پنجابی ہیں، پشتون ہیں، سندھی یا بلوچی ہیں بلکہ اگر مہاجر بھی ہیں یا کشمیری بھی تو بھی نمبر ون تو ہیں، کل ایک خوش فہمی بلکہ فہمیوں کے ایک کھیت کے پی کے سے ہمارا گزر ہوا واہ کیا فہمیاں تھیں جو لہلہا رہی تھیں بلکہ کہیں کہیںتو فہمیاں کھیت سے نکل کر لاہور کراچی لندن دبئی بلکہ بنی گالہ تک پہنچ رہی تھیں کیونکہ
دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے
خودبخود پہنچے ہے گل گوشہ دستار کے پاس
دوسری پرانی والی روایتی فہمیاں بھی کچھ کم نہ تھیں لیکن ابھی ابھی نئے سیزن میں لوکل سطح پر لوکل کھیتوں میں جو لوکل فہمیاں کاشت کی گئی ہیں، ان کی بڑھوتری دیکھ کر ایسا لگا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ کھیت لہلہانے لگیں گے اور لگ بھگ پچاس ہزار نئی فہمیاں اپنا پھل دینے لگیں گی اور یہ پھل اتنے وافر ہوں گے کہ ہاتھ بڑھایئے اور کھایئے، بلکہ شاید ہاتھ بڑھانے کی بھی ضرورت نہ پڑے اور ہر دہلیز پر فہمیوں کے ڈھیر پڑے ہوئے نظر آئیں۔
اگ رہا ہے درو دیوار پہ سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے