کراچی ’’ تھیٹر آف وار‘‘ نہ بننے پائے
دہشت گردی کی راکھ سےنئےیونانی دیومالائی پرندےققنس کےاٹھنےوالےنئےاندیشےگربہ کشتن روزاول کےمصداق فوری ملیامیٹ ہونےچاہئیں
امید کی جانی چاہیے کہ دہشت گردوں کا اپر ہینڈ کچل دیا جائے گا اور کسی کو پاکستان کی سلامتی پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فوٹو : محمد عظیم
کراچی میں ایک بار پھر دہشتگردی نیٹ ورک فعال ہوگیا، اس کی نئی لہر کا اسکرپٹ کراچی کو کسی خاص مقصد کے لیے پھر سے '' تھیٹر آف وار'' بنانا ہے یا اس کے پس پردہ عالمی اسٹبلشمنٹ اور انتہاپسند کالعدم تنظیموں کے مذموم عزائم کچھ اور ہیں، سر دست سندھ حکومت سمیت ریاستی حکام کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ دہشت گردی کے حوالے سے یہ پیراڈائم شفٹ ہے جو پنجاب سے اچانک منی پاکستان کو منتقل ہوگیا ہے ۔
منگل کی صبح کراچی کے مصروف کاروباری علاقے بہادر آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملہ ہوا، ان پر مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ان کا ڈرائیور جاں بحق ہوگیا۔ دہشت گردوں کی ٹائمنگ ماہرین جرم کے نزدیک انتہائی حیران کن تھی کیونکہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نائن زیرو جا چکے تھے ، اس المناک حملے کے بعد بھی ایم کیو ایم کی قیادت اور مولانا فضل الرحمان کے مابین استعفوں پر مختصر مثبت مذاکرات ہوئے۔
ادھر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمان کی تلاش میں چھاپے مارنے شروع کردیے، تاہم دہشت گرد گروپس اور مختلف کالعدم تنظیموں سے ماورا کئی ایسی قوتوں کا سراغ لگانے کی ضرورت ہے جو کراچی کی حساسیت اور عالمی محل وقوع کے باعث اسے اپنے لیے ناقابل تسخیر ''عقابوں کا نشیمن'' بنانے پر مصر ہیں۔ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل (ر) اطہر عباس نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آخری جنگ پنجاب میں ہوگی جس کے بعد دہشت گردوں کا خاتمہ ہو جائے گا،دہشت گرد تنظیمیں دباؤ کے باعث اکٹھی ہوگئی ہیں، ان کا ہدف بڑی سیاسی شخصیات ہیں۔ ان باتوں میں غور وفکر کا سامان موجود ہے۔
عالمی رپورٹوں میں کراچی کو دنیا کا خطرناک شہر قراردیا گیا تھا مگر گزشتہ چند ماہ کے دوران کراچی آپریشن کے باعث اسے مثبت تبدیلیوں سے دوچار شہر کہا جانے لگا تھا اور عالمی میڈیا کے بعض حوالے شہر قائد میں زندگی کے معمولات میں باقاعدگی کی نوید دے رہے تھے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں نے پھر سے سر اٹھایا، جہادی گروپوں کے ساتھ ساتھ القاعدہ، داعش ،انڈین خفیہ ایجنسی ''را'' اور دیگر عالمی خفیہ اداروں کی کراچی میں ،مخاصمانہ سرگرمی کے حوالے سے کافی پورٹیں آچکی ہیں، اس لیے سلامتی پر مامور حکام کو دہشت گردی کی نئی لہر کو معمول کی کارروائی نہیں سمجھنا چاہیے، سوچنے کا مقام ہے کہ دشمن اپنے اہداف پر منتقمانہ اور شدید رد عمل کے تحت اسٹرائیکنگ پاور کا بے دردی سے استعمال کررہا ہے۔
ہم ہر بار اس کے دیے ہوئے زخموں کے بعد کارروائی کرتے ہیں، جب کہ یہ جنگ اب لازم ہے کہ دہشت گردوں کی پچ پر لڑی جائے اور ان کے ارادے اگر کراچی کو میدان جنگ بنانے کے ہیں تو ان کے عزائم خاک میں ملادینے چاہئیں نیزکاؤنٹر ٹیررازم کی جاری حکمت عملی کو مزید موثر ، نتیجہ خیزاور مہلک بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ پیر اور منگل کو واقعات جس شدت کے ساتھ رونما ہوئے ان کے پیچھے ان نادیدہ ہاتھوں اور ماسٹر مائنڈز کو تلاش کرنا ناگزیر ہے تاکہ دیر نہ ہوجائے جب کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور آپریشن ضرب عضب کا جو کمر توڑ تاثر چار سو پھیلا ہے اس کا ٹمپو برقرار رکھا جائے۔
دہشت گردی کی راکھ سے نئے یونانی دیومالائی پرندے ققنس کے اٹھنے والے نئے اندیشے گربہ کشتن روز اول کے مصداق فوری ملیامیٹ ہونے چاہئیں۔ اس میںشک نہیں کہ فوج ، رینجرز ، پولیس ، ایف سی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردوں ، ٹارگٹ کلرز اور شورش پسندوں پر یلغار کررہی ہیں، ان کا محاصرہ ہوچکا ، جیسا کہ منگھو پیر میں رینجرز اور پولیس کے مکان پر مشترکہ چھاپے کے دوران مقابلے میں5 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کے قبضے سے اسلحہ اور دستی بم برآمد کر لیے گئے، لیاری میں مبینہ پولیس مقابلے میں لیاری گینگ وار کے 3 کارندے مارے گئے۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا مگر دوسری طرف پیر کو کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ، فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں مذہبی جماعت کے عہدے دار سمیت 4افراد جاں بحق اور2 افراد زخمی ہوگئے۔
ادھر پاک فوج نے پیر کو شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی میں2 خودکش بمباروں سمیت 65 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کو خفیہ معلومات کی بنیاد پر جیٹ طیاروں نے شمالی وزیرستان کے علاقوں شوال اور غرلامئی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں 50 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ ان فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے انفرااسٹرکچر جس میں اسلحے کا ڈپو بھی شامل تھا کو بھی سخت نقصان پہنچایا گیا۔ اس سے قبل سیکیورٹی فورسز کے جیٹ طیاروں نے پاک افغان سرحد کے قریب خیبر ایجنسی کے علاقے راجگال میں فضائی کارروائی کرکے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کا ہر قیمت پر خاتمہ کریں گے۔ غیر رسمی اہم اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مشیر قومی سلامتی امور سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی نے شرکت کی اور اس موقعے پر ملک کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے اٹک میں حالیہ خودکش حملے کے بعد فوری طور پر داخلی سیکیورٹی پر نظرثانی کے ا حکامات جاری کردیے۔
وزیراعظم نے معاملے کی انکوائری احکامات جاری کیے ہیں۔ انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبائی وزیر داخلہ کی سیکیورٹی کو درپیش خطرات کے بارے میں پہلے جاننے کے بارے میں ناکامی کی وجوہات کے حوالے سے آگاہی حاصل کریں۔ نواز شریف اس سلسلے میں آیندہ دو روز میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس بھی بلائیں گے جس میں خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں سیکیورٹی کے حوالے سے موجود نقائص کا جائزہ لیا جائے گا۔ امید کی جانی چاہیے کہ دہشت گردوں کا اپر ہینڈ کچل دیا جائے گا اور کسی کو پاکستان کی سلامتی پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
منگل کی صبح کراچی کے مصروف کاروباری علاقے بہادر آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملہ ہوا، ان پر مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ان کا ڈرائیور جاں بحق ہوگیا۔ دہشت گردوں کی ٹائمنگ ماہرین جرم کے نزدیک انتہائی حیران کن تھی کیونکہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نائن زیرو جا چکے تھے ، اس المناک حملے کے بعد بھی ایم کیو ایم کی قیادت اور مولانا فضل الرحمان کے مابین استعفوں پر مختصر مثبت مذاکرات ہوئے۔
ادھر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمان کی تلاش میں چھاپے مارنے شروع کردیے، تاہم دہشت گرد گروپس اور مختلف کالعدم تنظیموں سے ماورا کئی ایسی قوتوں کا سراغ لگانے کی ضرورت ہے جو کراچی کی حساسیت اور عالمی محل وقوع کے باعث اسے اپنے لیے ناقابل تسخیر ''عقابوں کا نشیمن'' بنانے پر مصر ہیں۔ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل (ر) اطہر عباس نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آخری جنگ پنجاب میں ہوگی جس کے بعد دہشت گردوں کا خاتمہ ہو جائے گا،دہشت گرد تنظیمیں دباؤ کے باعث اکٹھی ہوگئی ہیں، ان کا ہدف بڑی سیاسی شخصیات ہیں۔ ان باتوں میں غور وفکر کا سامان موجود ہے۔
عالمی رپورٹوں میں کراچی کو دنیا کا خطرناک شہر قراردیا گیا تھا مگر گزشتہ چند ماہ کے دوران کراچی آپریشن کے باعث اسے مثبت تبدیلیوں سے دوچار شہر کہا جانے لگا تھا اور عالمی میڈیا کے بعض حوالے شہر قائد میں زندگی کے معمولات میں باقاعدگی کی نوید دے رہے تھے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں نے پھر سے سر اٹھایا، جہادی گروپوں کے ساتھ ساتھ القاعدہ، داعش ،انڈین خفیہ ایجنسی ''را'' اور دیگر عالمی خفیہ اداروں کی کراچی میں ،مخاصمانہ سرگرمی کے حوالے سے کافی پورٹیں آچکی ہیں، اس لیے سلامتی پر مامور حکام کو دہشت گردی کی نئی لہر کو معمول کی کارروائی نہیں سمجھنا چاہیے، سوچنے کا مقام ہے کہ دشمن اپنے اہداف پر منتقمانہ اور شدید رد عمل کے تحت اسٹرائیکنگ پاور کا بے دردی سے استعمال کررہا ہے۔
ہم ہر بار اس کے دیے ہوئے زخموں کے بعد کارروائی کرتے ہیں، جب کہ یہ جنگ اب لازم ہے کہ دہشت گردوں کی پچ پر لڑی جائے اور ان کے ارادے اگر کراچی کو میدان جنگ بنانے کے ہیں تو ان کے عزائم خاک میں ملادینے چاہئیں نیزکاؤنٹر ٹیررازم کی جاری حکمت عملی کو مزید موثر ، نتیجہ خیزاور مہلک بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ پیر اور منگل کو واقعات جس شدت کے ساتھ رونما ہوئے ان کے پیچھے ان نادیدہ ہاتھوں اور ماسٹر مائنڈز کو تلاش کرنا ناگزیر ہے تاکہ دیر نہ ہوجائے جب کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور آپریشن ضرب عضب کا جو کمر توڑ تاثر چار سو پھیلا ہے اس کا ٹمپو برقرار رکھا جائے۔
دہشت گردی کی راکھ سے نئے یونانی دیومالائی پرندے ققنس کے اٹھنے والے نئے اندیشے گربہ کشتن روز اول کے مصداق فوری ملیامیٹ ہونے چاہئیں۔ اس میںشک نہیں کہ فوج ، رینجرز ، پولیس ، ایف سی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردوں ، ٹارگٹ کلرز اور شورش پسندوں پر یلغار کررہی ہیں، ان کا محاصرہ ہوچکا ، جیسا کہ منگھو پیر میں رینجرز اور پولیس کے مکان پر مشترکہ چھاپے کے دوران مقابلے میں5 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کے قبضے سے اسلحہ اور دستی بم برآمد کر لیے گئے، لیاری میں مبینہ پولیس مقابلے میں لیاری گینگ وار کے 3 کارندے مارے گئے۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا مگر دوسری طرف پیر کو کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ، فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں مذہبی جماعت کے عہدے دار سمیت 4افراد جاں بحق اور2 افراد زخمی ہوگئے۔
ادھر پاک فوج نے پیر کو شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی میں2 خودکش بمباروں سمیت 65 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کو خفیہ معلومات کی بنیاد پر جیٹ طیاروں نے شمالی وزیرستان کے علاقوں شوال اور غرلامئی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں 50 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ ان فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے انفرااسٹرکچر جس میں اسلحے کا ڈپو بھی شامل تھا کو بھی سخت نقصان پہنچایا گیا۔ اس سے قبل سیکیورٹی فورسز کے جیٹ طیاروں نے پاک افغان سرحد کے قریب خیبر ایجنسی کے علاقے راجگال میں فضائی کارروائی کرکے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کا ہر قیمت پر خاتمہ کریں گے۔ غیر رسمی اہم اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مشیر قومی سلامتی امور سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی نے شرکت کی اور اس موقعے پر ملک کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے اٹک میں حالیہ خودکش حملے کے بعد فوری طور پر داخلی سیکیورٹی پر نظرثانی کے ا حکامات جاری کردیے۔
وزیراعظم نے معاملے کی انکوائری احکامات جاری کیے ہیں۔ انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبائی وزیر داخلہ کی سیکیورٹی کو درپیش خطرات کے بارے میں پہلے جاننے کے بارے میں ناکامی کی وجوہات کے حوالے سے آگاہی حاصل کریں۔ نواز شریف اس سلسلے میں آیندہ دو روز میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس بھی بلائیں گے جس میں خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں سیکیورٹی کے حوالے سے موجود نقائص کا جائزہ لیا جائے گا۔ امید کی جانی چاہیے کہ دہشت گردوں کا اپر ہینڈ کچل دیا جائے گا اور کسی کو پاکستان کی سلامتی پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔