امریکا کی انتخابی مہم…
اوباما امریکی عوام کو ٹیکس ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کر رہے ہیں
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
بیسویں صدی کے آخری عشرے میں جب روس شکست و ریخت کا شکار ہو گیا تو جہاں دنیا بھر کے اقتصادی ناانصافیوں کے شکار عوام کی مایوسیوں میں اضافہ ہوا وہیں ایک اور ظلم یہ ہوا کہ دنیا بائی پولر سے یونی پولر میں تبدیل ہونے لگی یعنی امریکا نے یہ اختیار ازخود حاصل کر لیا کہ وہ دنیا کا واحد حکمران ہے۔
اوباما امریکا کی تاریخ کا پہلا نیگرو صدر ہے، اس لیے دنیا امید کر رہی تھی کہ شاید اب امریکا ان غلطیوں کا ازالہ کرے گا جن کا ارتکاب بش نے کیا تھا لیکن اوباما حکومت نے بھی دنیا کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہ دیا۔ اب امریکا کی دو پارٹیاں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک انتخابات کے میدان میں اُتری ہوئی ہیں۔ اوباما کے مد مقابل مِٹ رومنی اوباما پر مسلسل الزامات لگا رہا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی نے امریکا کو عالمی برادری میں رسوا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رومنی دنیا میں امن کی خواہش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ رومنی کا ایک الزام یہ بھی ہے کہ اوباما کی پالیسیوں نے امریکا کی سیکیورٹی کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ رومنی کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی اتحادی امریکی مفادات کے خلاف جاتا ہے تو اس کی حمایت اور اقتصادی امداد بند کر دی جانی چاہیے، اس حوالے سے انھوں نے پاکستان اور مصر کا خاص طور پر ذکر کیا۔
ادھر اوباما امریکی عوام کو ٹیکس ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کو بش حکومت کی غلط پالیسیوں سے باہر نکال کر دنیا کو جنگوں کی تباہ کاریوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ اوباما اس حوالے سے 2014ء تک افغانستان سے واپسی کے اپنے فیصلے کو ایک مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور وہ اسرائیل کے اس مطالبے اور دباؤ کا ذکر بھی کر رہے ہیں کہ اسرائیل امریکا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ایران کی ایٹمی پیش رفت روکنے کے لیے ایک ریڈ لائن مقرر کر دے، اگر ایران اس ریڈ لائن کو کراس کرے تو اسرائیل کو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کا حق دیا جائے۔
اوباما اسرائیل کے اس مطالبے کو ماننے سے گریزاں ہے لیکن امریکی سیاست میں یہودی لابی کی طاقت اتنی شدید ہے کہ کوئی امریکی حکومت اسے نظرانداز نہیں کر سکتی، خاص طور پر الیکشن کے موقع پر یہودی لابی بہت سرگرم ہو جاتی ہے۔ اوباما اور اسرائیل کا ایران کے حوالے سے اتفاق رائے عین ممکن ہے جس کا ثبوت ان خبروں سے ملتا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں، اختلاف رائے وقت کے تعین پر ہے۔ کیا اوباما ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنائیں گے؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔
اگرچہ امریکا کا حکمران طبقہ ابھی تک عالمی حکمرانی کا دعوے دار ہے لیکن عراق اور افغانستان کی جنگ کے ناخوشگوار اثرات کی وجہ سے امریکی صدر اوباما اب یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ ''امریکا اکیلا دنیا کے مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔'' اس برہنہ حقیقت کو تسلیم کر لینے کے بعد منطقی طور پر امریکا کو دنیا پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے بجائے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر فیصلے کرنے کی طرف آنا ہو گا۔
جب امریکا کا حکمران طبقہ یونی پولرزم کے حصار سے باہر آتا ہے تو سب سے پہلے اسے دنیا کے اہم ترین مسائل کا تعین کرنا پڑے گا پھر ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک مشترکہ پالیسی وضع کرنا ہو گی۔ دنیا کے اہم ترین مسائل میں ایک بڑا مسئلہ جنگوں کے کلچر کا خاتمہ ہے۔ جنگوں کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے اس بات پر اتفاق رائے ضروری ہے کہ ہر متنازعہ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ اس راستے پر چلنے کے لیے سب سے پہلے اقوام متحدہ کو مکمل طور پر آزاد کر کے اس کے فیصلوں میں دنیا کے تمام رکن ممالک کی شرکت ضروری ہے۔
اس سمت میں معنی خیز پیش رفت کے لیے بڑی طاقتوں سے ویٹو کا حق واپس لینا ضروری ہے۔ جب دنیا اپنے مسائل بات چیت کے ذریعے پُرامن طریقوں سے حل کرنے پر متفق ہو جاتی ہے تو پھر دنیا کو فوج اور ہتھیاروں کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اگر دنیا فوجوں اور ہتھیاروں کے غیر انسانی کلچر سے باہر آتی ہے تو ہر ملک اپنے دفاعی اخراجات سے نجات حاصل کر سکتا ہے اور دفاع کے کام پر خرچ کیا جانے والا کھربوں ڈالر کا سرمایہ غربت کے خاتمے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ غربت کا خاتمہ ہے۔ اگر دنیا دفاع پر خرچ کیے جانے والے سرمائے کو بچا لیتی ہے تو اس سرمائے سے غربت کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن دنیا سے غربت کا مکمل خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے۔ اگر امریکی قیادت اپنے عوام اور دنیا کے عوام سے مخلص ہے تو اسے سرمایہ دارانہ نظام کے ایک بہتر متبادل کی طرف آنا ہو گا اور ایک ایسا منصفانہ اقتصادی نظام تشکیل دینا ہو گا جس میں سرمائے کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کو قانوناً روکنا پڑے گا اور منافع اور مقابلے کے کلچر کی ناک میں نکیل ڈال کر اشیاء برائے منافع کے فلسفے سے پیداوار برائے ضرورت کے فلسفے کی طرف آنا ہو گا۔
دنیا میں امن برقرار رکھنے کے لیے صرف اقوام متحدہ کی فوج کی ضرورت رہے گی کسی ملک کو اپنی فوج رکھنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ یہ دنیا کے اہم ترین مسائل ہیں جن کے حل سے دنیا واقعی جنت بن سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور کا حکمراں طبقہ کیا اپنے قومی مسائل کے ساتھ ساتھ ان اہم ترین بین الاقوامی مسائل کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنائے گا؟ اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا جنگ کی تباہ کاریوں اور معاشی ناانصافیوں سے ہر گز نجات حاصل نہ کر سکے گی۔
اوباما امریکا کی تاریخ کا پہلا نیگرو صدر ہے، اس لیے دنیا امید کر رہی تھی کہ شاید اب امریکا ان غلطیوں کا ازالہ کرے گا جن کا ارتکاب بش نے کیا تھا لیکن اوباما حکومت نے بھی دنیا کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہ دیا۔ اب امریکا کی دو پارٹیاں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک انتخابات کے میدان میں اُتری ہوئی ہیں۔ اوباما کے مد مقابل مِٹ رومنی اوباما پر مسلسل الزامات لگا رہا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی نے امریکا کو عالمی برادری میں رسوا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رومنی دنیا میں امن کی خواہش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ رومنی کا ایک الزام یہ بھی ہے کہ اوباما کی پالیسیوں نے امریکا کی سیکیورٹی کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ رومنی کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی اتحادی امریکی مفادات کے خلاف جاتا ہے تو اس کی حمایت اور اقتصادی امداد بند کر دی جانی چاہیے، اس حوالے سے انھوں نے پاکستان اور مصر کا خاص طور پر ذکر کیا۔
ادھر اوباما امریکی عوام کو ٹیکس ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کو بش حکومت کی غلط پالیسیوں سے باہر نکال کر دنیا کو جنگوں کی تباہ کاریوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ اوباما اس حوالے سے 2014ء تک افغانستان سے واپسی کے اپنے فیصلے کو ایک مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور وہ اسرائیل کے اس مطالبے اور دباؤ کا ذکر بھی کر رہے ہیں کہ اسرائیل امریکا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ایران کی ایٹمی پیش رفت روکنے کے لیے ایک ریڈ لائن مقرر کر دے، اگر ایران اس ریڈ لائن کو کراس کرے تو اسرائیل کو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کا حق دیا جائے۔
اوباما اسرائیل کے اس مطالبے کو ماننے سے گریزاں ہے لیکن امریکی سیاست میں یہودی لابی کی طاقت اتنی شدید ہے کہ کوئی امریکی حکومت اسے نظرانداز نہیں کر سکتی، خاص طور پر الیکشن کے موقع پر یہودی لابی بہت سرگرم ہو جاتی ہے۔ اوباما اور اسرائیل کا ایران کے حوالے سے اتفاق رائے عین ممکن ہے جس کا ثبوت ان خبروں سے ملتا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں، اختلاف رائے وقت کے تعین پر ہے۔ کیا اوباما ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنائیں گے؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔
اگرچہ امریکا کا حکمران طبقہ ابھی تک عالمی حکمرانی کا دعوے دار ہے لیکن عراق اور افغانستان کی جنگ کے ناخوشگوار اثرات کی وجہ سے امریکی صدر اوباما اب یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ ''امریکا اکیلا دنیا کے مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔'' اس برہنہ حقیقت کو تسلیم کر لینے کے بعد منطقی طور پر امریکا کو دنیا پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے بجائے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر فیصلے کرنے کی طرف آنا ہو گا۔
جب امریکا کا حکمران طبقہ یونی پولرزم کے حصار سے باہر آتا ہے تو سب سے پہلے اسے دنیا کے اہم ترین مسائل کا تعین کرنا پڑے گا پھر ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک مشترکہ پالیسی وضع کرنا ہو گی۔ دنیا کے اہم ترین مسائل میں ایک بڑا مسئلہ جنگوں کے کلچر کا خاتمہ ہے۔ جنگوں کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے اس بات پر اتفاق رائے ضروری ہے کہ ہر متنازعہ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ اس راستے پر چلنے کے لیے سب سے پہلے اقوام متحدہ کو مکمل طور پر آزاد کر کے اس کے فیصلوں میں دنیا کے تمام رکن ممالک کی شرکت ضروری ہے۔
اس سمت میں معنی خیز پیش رفت کے لیے بڑی طاقتوں سے ویٹو کا حق واپس لینا ضروری ہے۔ جب دنیا اپنے مسائل بات چیت کے ذریعے پُرامن طریقوں سے حل کرنے پر متفق ہو جاتی ہے تو پھر دنیا کو فوج اور ہتھیاروں کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اگر دنیا فوجوں اور ہتھیاروں کے غیر انسانی کلچر سے باہر آتی ہے تو ہر ملک اپنے دفاعی اخراجات سے نجات حاصل کر سکتا ہے اور دفاع کے کام پر خرچ کیا جانے والا کھربوں ڈالر کا سرمایہ غربت کے خاتمے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ غربت کا خاتمہ ہے۔ اگر دنیا دفاع پر خرچ کیے جانے والے سرمائے کو بچا لیتی ہے تو اس سرمائے سے غربت کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن دنیا سے غربت کا مکمل خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے۔ اگر امریکی قیادت اپنے عوام اور دنیا کے عوام سے مخلص ہے تو اسے سرمایہ دارانہ نظام کے ایک بہتر متبادل کی طرف آنا ہو گا اور ایک ایسا منصفانہ اقتصادی نظام تشکیل دینا ہو گا جس میں سرمائے کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کو قانوناً روکنا پڑے گا اور منافع اور مقابلے کے کلچر کی ناک میں نکیل ڈال کر اشیاء برائے منافع کے فلسفے سے پیداوار برائے ضرورت کے فلسفے کی طرف آنا ہو گا۔
دنیا میں امن برقرار رکھنے کے لیے صرف اقوام متحدہ کی فوج کی ضرورت رہے گی کسی ملک کو اپنی فوج رکھنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ یہ دنیا کے اہم ترین مسائل ہیں جن کے حل سے دنیا واقعی جنت بن سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور کا حکمراں طبقہ کیا اپنے قومی مسائل کے ساتھ ساتھ ان اہم ترین بین الاقوامی مسائل کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنائے گا؟ اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا جنگ کی تباہ کاریوں اور معاشی ناانصافیوں سے ہر گز نجات حاصل نہ کر سکے گی۔