بنکاک میں بم دھماکے

تھائی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی سے یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گرد اپنے اپنے انداز میں سرگرم ہیں۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ تھائی لینڈ کی حکومت کے ساتھ رابطہ میں رہے اور دہشت گردی کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرے تاکہ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکے، فوٹو : اے ایف پی

MEXICO CITY:
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں پیر کو ایک مندر میں بم دھماکے کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک ہوگئے، مرنے والوں میں 4 غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔

اس بم دھماکے میں 17خواتین اور 10مرد لقمہ اجل بنے، 100سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ تھائی لینڈ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ دھماکا معیشت اور سیاحت کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یہاں ہر وقت سیاحوں کا رش رہتا ہے،دھماکے کے مقام سے دوبم ملے ہیں جو پھٹ نہ سکے، اگر یہ بھی پھٹ جاتے تو زیادہ جانی نقصان ہوتا۔

اس دھماکے کی ذمے داری تا حال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ تھائی لینڈ دنیا بھر میں سیاحوں کی جنت کے طور پر جانا جاتا ہے،کچھ عرصے سے اس ملک میں سیاسی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ تھائی لینڈ کے اقتدار پر فوج کا قبضہ ہے، فوجی اقتدار قائم ہونے کے بعد تھائی لینڈ میں امن قائم ہو گیا ہے اور یہاں سیاحوں کی آمدورفت ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے، جس مندر میں دھماکا ہوا وہاں بھی سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے اور اس کے قریب ہی فائیو اسٹار ہوٹل بھی ہے۔ تھائی لینڈ میں حالیہ بم دھماکا خوف و ہراس پھیلانے کا منصوبہ ہو سکتا ہے تاکہ یہاں سیاحوں کی آمد کو روکا جا سکے۔


یہ دھماکا کن قوتوں نے کیا،اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی، تھائی لینڈ کی حکومت نے بھی کسی گروہ یا تنظیم پر الزام عائد نہیں کیا،بہر حال یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ بن چکی ہے،مشرقی بعید کے ممالک بھی اس کا شکار ہیں۔ تھائی لینڈ کے علاوہ انڈونیشیا اور فلپائن میں بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے پوری دنیا کو متحد ہو کر کوششیں کرنی چاہئیں، تھائی لینڈ کی سیاست میں جو تناؤ ہے، اسے بھی کم ہونا چاہیے، تھائی لینڈ میں سابق حکومت پرکرپشن کے الزامات تھے۔

حالات زیادہ خراب ہوئے تو فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ سی سی ٹی وی کیمرہ کے ذریعے کچھ ملزموں کی شناخت ہوئی ہے اور تھائی لینڈ کے سیکیورٹی ادارے نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ تھائی لینڈ کی حکومت نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے وار روم قائم کیا جائے گا اور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔ بہر حال تھائی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی سے یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گرد اپنے اپنے انداز میں سرگرم ہیں۔

وقت کی ضرورت یہ ہے کہ تمام ممالک دہشت گردی کے حوالے سے کوئی ایسا میکنزم بنائیں جس کے ذریعے معلومات کا تبادلہ ممکن ہو سکے تاکہ سارے ملک ایک دوسرے کی مہارت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ تھائی لینڈ ایک ایسی سرزمین ہے جہاں دنیا بھر سے جرائم مافیاز کے ارکان بھی سیاحوں کے روپ میں پہنچ جاتے ہیں، پاکستان کو چاہیے کہ وہ تھائی لینڈ کی حکومت کے ساتھ رابطہ میں رہے اور دہشت گردی کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرے تاکہ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔
Load Next Story